مسائل اور ان کا حل
مسجد کی چھت پر جماعت کرانا سوال:ہمارے محلہ کی مسجد10مرلے پر بنی ہوئی ہے اور مکمل طور پر چھتی ہوئی ہے۔ پوچھنایہ ہے کہ کیاہم مسجدکی چھت کے اوپر نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں؟کیونکہ گرمیوں کے دنوں میں مسجدکے اندرحبس و گرمی اورسردیوں کے دنوں میں سخت سردی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں نماز مغرب،عشاء اور فجرجبکہ سردیوں میں نماز ظہر اور عصرچھت پر باجماعت پڑھ سکتے ہیں؟۔مسجدکی چھت پرایک برآمدہ بنا ہوا ہے، جس میں نمازیوں کیلئے پنکھے لگائے گئے ہیں۔ (ملک محمدعمرحیات، ممبرمسجدکمیٹی جامع مسجد صدیقیہ،اٹک)
جواب: مسجدکی چھت پربنے ہوئے برآمدے میں نماز باجماعت ادا کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں(فتاویٰ عثمانی 408/1، امدادالاحکام559/1،فتاویٰ حقانیہ 196/3)۔
غیرقانونی طریقے سے کسی ملک میں داخل ہونا اور ان کیلئے دعا کرنا
سوال : کچھ لوگ کمائی کیلئے ڈنکی(یعنی غیرقانونی طورپر)یورپ جاتے ہیں۔ قانون کے وہ مجرم ہیں ان کے اہل وعیال ان کے خیروعافیت سے یورپ پہنچنے کیلئے نمازیں پڑھتے ہیں، قرآن خوانی کرواتے ہیں، دعائیں کرواتے ہیں۔ کیا غلط کام کرنے والوں کیلئے دعائیں کرناجائزہے؟
جواب:غیرقانونی طریقے سے کسی ملک میں داخل ہونا شرعاًبھی ناجائز ہے کیونکہ اس میں قانون شکنی کے علاوہ اپنی جان اورعزت کوخطرے میں ڈالناہے۔اس لئے اس سے احترازلازم ہے،تاہم ان کیلئے عافیت و سلامتی کی دعاکرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ ہدایت اور عافیت و سلامتی کی دعاکرنا مستحسن ہے ۔
بھتیجے کیلئے کی گئی وصیت پر عمل کرنے کے بجائے ترکہ خود استعمال کرلینا
سوال: آج سے 15سال قبل میرے بڑے بھائی دنیاسے رخصت ہوئے، مرحوم اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ وہ دنیاسے رخصت ہونے سے قبل اپنی تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیدادکاایک چوتھائی حصہ (اپنے اور میرے)مرحوم بھائی کے اکلوتے بیٹے کو اور10فیصد ایک یتیم خانہ کو دینے کی وصیت کرگئے۔ہم تمام وارثان (بیوہ، میں اورمیری بہن)نے بھائی سے حلفاًوعدہ کیاکہ وصیت پرعمل بطریق احسن کریں گے۔بھائی کے انتقال کے بعد ہم نے وصیت نامہ پھاڑ کر پھینک دیااوربھائی کا ترکہ آپس میں بانٹ لیا۔ہم تینوں میں سے اب میں اکیلا حیات ہوں، کینسر کا مریض ہوں، میری بیوی اور اکلوتا بیٹا ایک کار حادثہ میں فوت ہوچکے ہیں، میری دو غیر شادی شدہ بیٹیاں ہیں اورمیں خود ایک چلتی پھرتی لاش بن چکا ہوں۔یتیم بھتیجے کو اس کاحصہ ادانہ کرنے کے گناہ کااحساس اور سزاکاخیال جب ذہن میں آتاہے تولرز اٹھتا ہوں۔میں نے فیصلہ کیاہے کہ یتیم بھتیجے کاوصیت کے مطابق تمام حصہ اسے لوٹادوں مگرالمیہ یہ ہے کہ وہ بسلسلۂ روزگاربیرون ملک جاچکاہے اور خبر یہ ہے کہ وہ غیرمسلم گھرانے میں شادی بھی کر چکا ہے۔ کیامیں اس بھتیجے کی غصب شدہ وراثت (رقم) میں سے مسجد تعمیر کروا سکتا ہوں؟ (شیخ عبداللہ، چکلالہ راولپنڈی)
جواب: یتیم بھتیجے کیلئے وصیت شدہ رقم سے آپ کیلئے مسجد تعمیر کرانا جائز نہیں۔ یہ رقم اسے فوری طور پر ادا کرنا شرعاً لازم ہے۔ نیز غیر مسلم گھرانے میں شادی سے مراد اگر یہ ہے کہ اہل کتاب کے علاوہ کسی اور خاتون سے شادی کی تو شرعاً یہ نکاح نہیں ہوا، تاہم بھتیجے کے اس گناہ سے وہ اپنے چچا کی وصیت سے محروم نہیں ہو گا۔ آپ پر لازم ہے کہ مرحوم کی وصیت کے مطابق بھتیجے کو اس کا مقررہ حصہ اداکردیں۔ نیز آپ اور آپکے ساتھ دیگر ورثاء اب تک جائیداد میں بھتیجے کا حصہ استعمال کرتے رہے اس سے شرعاً سخت گناہ گار ہوئے اس پر استغفار کرنا اور بھتیجے سے معافی طلب کرنا لازم ہے ۔اسی طرح مرحوم کی وصیت کے مطابق یتیم خانہ کیلئے وصیت کی گئی رقم یتیم خانہ کو دینا لازم ہے ۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار، 699/6)
خلع یا طلاق کے عوض مال لینے یا مہر
معاف کرانے کی شرعی حیثیت
سوال :۔شادی کو2سال ہوگئے اورمیاں بیوی کی ایک بیٹی بھی ہے۔ لڑکاگھرپرنہیں تھا لڑکی بغیراجازت ماں کے ساتھ میکے چلی گئی۔ اب لڑکی والوں نے خرچہ کا مقدمہ کر دیا ہے اور بات طلاق تک پہنچ گئی ہے۔ وہ لوگ طلاق مانگتے ہیں۔ کیاطلاق دینے کے بدلے مردکوئی شرط رکھ سکتاہے کہ مجھے میری لڑکی دے دو یا اتنامال دوجو میراشادی میں خرچہ ہواہے۔ کیایہ شرعاًجائزہے؟ میں اخبارمیں آپ کے فتاویٰ پڑھتاہوںاورہرجمعہ کااخبارسنبھال کر رکھتا ہوں کہ بوقت ضرورت کام آئے گا۔ براہ مہربانی آپ جواب صادرفرمائیں تاکہ اس کے مطابق مسئلہ حل کیا جا سکے (عبدالغفور عثمانی ،تلہ گنگ، ضلع چکوال)
جواب:۔اگرواقعتاًقصوربیوی کی طرف سے ہوتوشوہرکیلئے خلع یاطلاق کے عوض، حق مہرکے بقدر رقم لیناشرعاًجائزہے،اوراس سے زیادہ لینامکروہ ہے۔ نیز شادی کے اخراجات کا مطالبہ شرعاًدرست نہیں، اس سے احترازلازم ہے۔ واضح رہے کہ بچی بالغ ہونے تک ماں کی پرورش میں رہے گی (بشرط کہ وہ ایسے شخص سے نکاح نہ کرے جوبچی کانامحرم ہو)اوراس دوران بچی کے اخراجات شرعاًوالدکے ذمہ لازم ہیں بچی کے بالغ ہونے کے بعدوالداسے لے سکتا ہے۔وفی الدرالمختار453/3)