آج کا پکوان: کھٹی مچھلی

تحریر : انعم شیخ (شیف)


اجزاء: مچھلی آدھا کلو، سرخ مرچ ایک چمچ، نمک ایک چائے کا چمچ، اجوائن ایک چائے کا چمچ، امچور ایک چائے کا چمچ، آئل ڈیڑھ پیالی، لہسن ایک گٹھی۔

ترکیب: تمام مسالوں کو اچھی طرح پیس لیں۔ اس آمیزے کو مچھلی کے صاف کیے ہوئے ٹکڑوں کے دونوں جانب لگا کر دو تین گھنٹے کیلئے رکھ دیں۔ آئل کو گرم کریں اور ایک ایک ٹکڑا اچھی طرح اس میں سرخ کر کے نکالتی جائیں۔ کھٹی مچھلی تیار ہے۔ 

مٹھی کباب

اجزاء :گائے کا قیمہ250 گرام،بیسن3 کھانے چمچ،ہرا دھنیا (چوپ کیا ہوا)1/4 گڈی، ہری مرچیں(چوپ کیا ہوئی) 3 عدد، پودینہ(چوپ کیا ہوا)1/4گڈی،پیاز(چوپ کیا ہوئی) ایک عدد، ٹماٹر (چوپ کیا ہوا)ایک عدد، پسا ہوا سفید زیرہ1/2 چائے کا چمچ،چاٹ مصالہ1/2چائے کا چمچ،انڈہ ایک عدد،کٹی ہوئی لال مرچ1/2 چائے کا چمچ، نمک حسب زوق،تیل تلنے کیلئے.

ترکیب:ایک پیالے میں تیل کے علاوہ باقی تمام اجزاء ڈال کر ہاتھ سے یکجان کرلیں۔ اس آمیزے کو مٹھی میں دباتے ہوئے لمبوترے کباب بنالیں۔ کڑاہی میں تیل گرم کریں۔ اور کبابوں کو اس میں سنہری تل کر نکالیں۔

سیاہ زیتون اورسرخ مرچ کا سلاد

اجزاء:سیاہ زیتون 60 گرام (آدھا کپ)، آلو 720 گرام، سرخ مرچ (تازہ)200گرام،گوشت کے باریک پارچے10 گرام

ڈریسنگ:سلاد کے پتے ایک گھٹی، لیمن جوس کھانے کے دو چمچ،سلاد کے کٹے ہوئے پتے کھانے کے دو چمچ،ابلی ہوئی سفید شکرقندی15 گرام،مایونیز125 ملی لیٹر،1/2 کپ،ٹماٹر پیسٹ کھانے کا ایک چمچ،لہسن کچلا ہوا دو جوئے،سبز دھنیا ، تازہ کھانے کے دو چمچ۔

ترکیب:آلوئوں کو ابال لیں پھر چھلکے اتار کر سلائیس میں کاٹ لیں اور ٹھنڈا ہونے دیں۔ گوشت کے پارچوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں پھر آلو، گوشت کے پارچے، سلاد کے پتے اور باقی  تمام اجزا کو ایک بڑے بائول میں ڈال دیں۔ پھر ڈریسنگ کے تمام اجزاء کو اس پر بکھیر دیں، چھ افراد کیلئے سلاد تیار ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ریاض مجید:عہدِ حاضرکے بڑے نعت گو شاعر

ان کے پیرایہ اظہار پر قلبی واردات کے تسلسل بیاں کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے:انہوں نے نعتیہ مضامین میں رفعت فکر، پاکیزگی ارادت اور گداز ِجاں کو شامل کیا ہے‘ اس کے ساتھ پیکر الفاظ کو معانی بلند سے ہمنوا کرنے کیلئے ترکیب سازی بھی کی : ریاض مجید کا معجزنما قلم فکر کی ان بلندیوں کو چھوتا ہے جہاں دیگر نعت گو شعرا بڑی ریاضت کے بعد پہنچتے ہیں اس کی بنیادی وجہ گہرا شعور اور تاریخی مطالعہ ہے

فیض کی غزل،امید کااستعارہ

فیض کی غزل میں زنداں اور قفس سے جو روشنی نمودار ہوتی ہے وہ زندگی کے راستوں کو منور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی غزل امید اور رجائیت سے بھر پور نظر آتی ہے، کہیں بھی کسی بھی مقام پر مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی۔بلکہ ان کی شاعری آگے بڑھتے رہنے کا عزم پیدا کرتی ہے۔

اِنتظارکی گھڑیاں ختم،پاک بھارت ٹاکراآج

بھارت نوازآئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پرمجبور:ٹی 20ورلڈ کپ 2026ءکے گروپ مرحلہ میں دونوں ٹیمیں دو،دو میچ جیت چکی ہیں

جنت کا متلاشی (چوتھی قسط )

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت متقی اور پرہیز گار تھے۔ ہمیشہ عبادت میں مصروف رہتے۔ دن میں روزہ رکھتے اور راتوں کو اپنے اللہ کے حضور عجزو انکسار کے ساتھ نوافل ادا کرتے۔

تحفہ

فیضان بہت ہی معصوم سا بچہ تھا۔ وہ گھر میں ہونے والی تیاریوں اور چہل پہل کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے مشاہدے کے بعد اپنی دادی سے پوچھنے لگا۔ ’’دادی یہ سب کیا ہے؟ کیا کوئی آنے والا ہے؟‘‘۔

ایفل ٹاور

ایفل ٹاور دنیا کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے جو فرانس کے شہر پیرس میں واقع ہے۔