عید الاضحیٰ کے پکوان:مٹن اسٹو

تحریر : انعم شیخ (شیف)


اجزاء :بکرے کا گوشت ایک کلو،دہی ایک کپ ،کوکنگ آئل تین چوتھائی کپ ،پیاز (موٹی کٹی ہوئی) ڈیڑھ کلو، دار چینی ایک دو انچ کا ٹکڑا،لہسن کے جوئے (باریک کچلے ہوئے) 8،9عدد، ادرک (باریک کٹی ہوئی)، ایک دو کھانے کے چمچ، ثابت لال مرچیں 10،11عدد، ثابت کالی مرچیں 6تا8 عدد، تیز پات ایک یادو عدد، بڑی الائچی 3،4 عدد، سفید زیرہ اورثابت دھنیا ایک ایک کھانے کا چمچ اورنمک حسب ذائقہ ۔

ترکیب:گوشت میں،دہی، پیاز، لال مرچیں، تیز پات، دھنیا، ادرک، زیرہ،لہسن، بڑی الائچی، دار چینی، کالی مرچیں، نمک اورکنگ آئل ( تین سے چار کھانے کے چمچ)ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔ گوشت کو دیگچی میں ڈال کر تیز آنچ پر پانچ سے سات منٹ تک پکائیں۔ اب آنچ ہلکی کر کے اتنی دیر پکائیں کہ گوشت اچھی طرح گل جائے۔اب بقیہ کوکنگ آئل ڈال کر اتنی دیر بھونیں کہ تیل الگ نظر آنے لگے، تین سے چار منٹ ہلکی آنچ پر پکا کر چولہے سے اتار لیں۔

بیف پسندے

اجزاء :بیف کے پسندے 1000 گرام ،دہی 375 گرام، پپیتا کچا حسب ضرورت، گرم مصالحہ پسا ہوا15 گرام، چنے بھنے ہوئے 15 گرام، خشخاش15 گرام، گھی250 گرام، نمک اور سرخ مرچ حسب ذائقہ، ہرادھنیہ آدھی گٹھی۔

ترکیب :پسندے دھوکر ایک کھلے منہ کے برتن میں ڈال دیں اور تمام گرم مصالحہ، خشخاش اور پپیتا کو ملا کر پیس لیں۔ بالکل باریک اور یکجان ہونے کے بعد اس میں نمک اور سرخ مرچ ملا دیں۔ یہ سب مصالحے دہی میں ملا دیں۔ ایک کفچہ لے کر دہی کو اچھی طرح ملالیں۔ تھوڑا سا پانی بھی ڈال دیں۔ یہ تیار شدہ دہی پسندوں کے اوپر ڈال دیں اور پسندوں کو کفچہ سے الٹ پلٹ دیں تاکہ سب میں اچھی طرح دہی جذب ہو جائے۔ اس کو ایسے ہی آدھا گھنٹہ پڑا رہنے دیں، اگر ریفریجریٹر ہو تو اس میں ایک گھنٹہ رکھ چھوڑ دیں۔ اب فرائی پان یا دیگچی میں گھی کڑ کڑائیں اور ایک ایک کرکے سب پسندے اور دہی اس میں ڈال دیں اور اوپر سے ڈھانپ دیں۔ دس پندرہ منٹ میں ہلکی آنچ پر پسندے گل جانے کے بعد اسے خشک کرکے اتارلیں اور ہرادھنیہ کاٹ کر ڈال دیں اور پیش کریں نہایت لذیز پسندے تیار ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عید الاضحیٰ قربانی تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ قربانی کا عمل ہر اُمت میں مقرر کیا گیا،

قربانی صرف رسم نہیں، ایک عظیم عبادت

اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کریں، نمائش کیلئے نہیں

عیدالاضحیٰ پر رسول اللہ ﷺ نے قربانی کیسے کی؟

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ !یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے صحابہ کرامؓ ؓنے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ عرض کیا اوراون (جن جانوروں میں بال کے بجائے اون ہوتی ہے۔ ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپﷺ نے فرمایا ! اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ (ابن ماجہ)

فلسفہ قربانی تاریخی، اسلامی اور معاشی حیثیت

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ ؑ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قربانی کا حقیقی مقصد اور صحیح فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

حج:دین و اسلام کی عظمت و شوکت اور اتحادِ اُمت کا عظیم اجتماع

حج اسلام کے پانچ ارکان میں آخری رکن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور عظمت کی تکمیل اور عبدیت و فناعیت کی تصویر ہے

خطبہ حجۃ الوداع

احکامِ الٰہی اور حقوقِ انسانی کا جامع منشور:خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی عظمت احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے