عید الاضحیٰ:مذہبی تہوارکے ساتھ ایک جامع سماجی نظام کی مظہر

تحریر : اللہ دتہ انجم


اسلام میں دو بڑی عیدیں منائی جاتی ہیں، عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ عیدالاضحی کو عید قربان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن مسلمان اللہ کی رضا کیلئے قربانی کرتے ہیں۔ عیدالاضحی صرف ایک عبادت یا تہوار نہیں بلکہ ایک جامع سماجی نظام کا مظہر ہے۔ یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا، ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرنا اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہی حقیقی خوشی ہے۔

اگر اس عید کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو عیدالاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ جنہوں نے خواب میں اللہ پاک کا حکم پایا کہ وہ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کریں۔ انہوں نے بلا چوں و چرا اس حکم کو قبول کیا۔ جب وہ اپنے بیٹے کو قربان کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔ اس عظیم آزمائش میں کامیاب ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام، اللہ پاک کے خلیل و ذبیح  اللہ کہلائے۔

عیدالاضحی پر جانور قربان کرنا صرف ایک رسم نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنی عزیز ترین چیز کو قربان کرنے کا جذبہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ’’اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘(سورہ الحج: 37) ۔ 

عید کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ عید کے دن تمام مسلمان، رنگ، نسل، زبان یا علاقے کی تفریق کے بغیر، ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نمازِ عید ادا کرتے ہیں۔ یہ منظر اسلامی اخوت، اتحاد اور یکجہتی کی خوبصورت مثال ہے۔ خطبہ عید سنا جاتا ہے۔جانور کی قربانی کی جاتی ہے۔

عید الاضحی کا تہوار نہ صرف روحانی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ بڑوں اور بچوں کے لیے سماجی خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام بھی لاتا ہے۔ بچوں کی خوشیاں اس عید پر کئی مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتی ہیں۔عید سے کچھ دن پہلے جب گھر میں قربانی کے لیے جانور آتے ہیں تو بچے سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ وہ جانور کو کھلاتے ہیں۔ اسے سجاتے ہیں اس کے ساتھ کھیلتے ہیں اور دوستوں کو بلا کر دکھاتے ہیں۔ یہ وقت ان کے لیے نہایت خاص اور یادگار ہوتا ہے۔عید کے لیے بچے نئے کپڑے، جوتے اور کھلونے خریدتے ہیں۔ بچوں کابازار جانا، لڑکیوں کا چوڑیاں لینا، مہندی لگوانا وغیرہ دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے۔عید کی صبح بچے خاص جوش و خروش سے تیار ہوتے ہیں۔والدین کے ساتھ نماز عید میں شریک ہونا ان کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے۔بچے قربانی کے وقت خودکوجانورکے قریب رکھتے ہیں۔ کچھ تو جانور کے ساتھ اتنے مانوس ہو جاتے ہیں کہ جدائی ان کے لیے مشکل ہو جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس عمل کو ایک خاص عقیدت سے بھی دیکھتے ہیں اور بہت کچھ سیکھتے ہیں۔عید پر بچوں کو عیدی ملتی ہے جو ان کے لیے سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ وہ اس پیسے سے کھلونے، ٹافیاں، آئس کریم یا اپنی پسند کی چیزیں خریدتے ہیں۔ تفریحی مواقع بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ کھیل کود، ہنسی مذاق اور خوشیوں کا یہ سماں ان کے دل کو بہت بھاتا ہے۔آج کے دور میں بچے اپنے قربانی کے جانور کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں۔ تصویریں بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں جو نئی نسل کا ایک خوشی منانے کا انداز بن چکاہے۔

قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایک حصہ اپنے لیے،دوسرا حصہ عزیز و اقارب کے لیے اور تیسرا حصہ غریب و محتاج لوگوں کے لیے۔عیدالاضحی صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ قربانی کے موقع پر جانوروں کی خرید و فروخت، قصابوں کا کام، کھالوں کا کاروباراور گوشت کی ترسیل جیسے شعبے فعال ہو جاتے ہیں۔جس سے مقامی معیشت میں سرگرمی آتی ہے اور بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔یہ ایثار، تقویٰ، بھائی چارے اور معاشرتی ہمدردی کا پیغام بھی ہے۔عید کے موقع پر لوگ اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کرتے ہیں۔ مبارکباد دیتے ہیں۔دعوتیں کرتے ہیں۔جس سے خاندانی رشتے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ پاک کی رضا کے لیے کی گئی ہر قربانی میں معاشرے کے ضرورت مندوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا اصل عبادت ہے۔

یہ عمل سماجی مساوات، ہمدردی اور غرباء کی مدد کو یقینی بناتا ہے۔جس سے معاشرے میں محروم طبقات بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو پاتے ہیں۔عیدالاضحی کا خاص پہلو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر غریبوں کو نہ صرف گوشت دیا جاتا ہے بلکہ ان کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔ یہ ہمدردی اور سماجی فلاح کی ایک بڑی مثال ہے۔

عیدالاضحی ایک روحانی، سماجی اور اخلاقی پیغام لیے ہوئے ہے۔ یہ دن ہمیں اللہ پاک کی اطاعت، نیت کے خلوص اور دوسروں کے لیے قربانی دینے کا سبق دیتا ہے۔ اگر ہم اس عید کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو ہماری زندگی میں بہتری، سادگی، اور انسانیت کا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔

عید قرباں ایثار، تقویٰ، بھائی چارے

 اور معاشرتی ہمدردی کا پیغام بھی ہے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

فیض احمد فیض روایت اور انفرادیت سے کہیں آ گے

انہیں بجا طور پر انہیں نئے شعری معیار کا امام سمجھا جا سکتا ہے:دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض کا منفرد اسلوب

کسی شاعر کے فنِ شاعری اور شعری محاسن کا اندازہ اس کے اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نمائندہ اور عہد ساز شعرا کی شاعری میں ان کے عہد کا تہذیبی شعور جھلکتا ہے۔

ٹی 20ورلڈ کپ2026ء:پاکستان کا فاتحانہ آغاز

عالمی کپ کے پہلے میچ میں شاہینوں کے ہاتھوں نیدر لینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست

پاکستانی اعلان، بھارت نوازآئی سی سی پریشان

پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار:پاکستان بائیکاٹ کے اعلان پر نظر ثانی کرے:سری لنکا کا پی سی بی کو خط،ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026ء میں بنگلہ دیش کیخلاف جانبدارانہ فیصلے کے بعد پاکستانی ردعمل نے آئی سی سی اور بھارت کی نیندیں اڑا دیں

جنت کا متلاشی (تیسری قسط )

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس وقت قرآن پاک کی کئی آیات اور سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔ عبداللہؓرسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس جا کر قرآن سنتے، پھر اس کو حفظ کر لیتے اور بعد میں لکھ لیتے۔

اصلاح کا سبب

رابیعہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیں بھی دی تھیں۔