موسم برسات جلد کی حفاظت کیسے کریں؟

تحریر : سارہ خان


موسمِ برسات جہاں گرمی کی شدت کم کر کے راحت فراہم کرتا ہے، وہیں یہ موسم جلد کے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ نمی، پسینہ اور جراثیم جلد کو متاثر کرتے ہیں جس سے دانے، الرجی، فنگس اور دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔

 اس لیے مون سون میں جلد کی حفاظت کے لیے خصوصی توجہ دینا ضروری ہوتا ہے۔موسمِ برسات میں جلد کی حفاظت ایک چیلنج ہو سکتی ہے مگر چند سادہ احتیاطی تدابیر اور روزانہ کی معمولی تبدیلیاں جلد کو صحت مند، شفاف اور چمکدار رکھ سکتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ہم اس موسم میں اپنی جلد کو صحت مند اور صاف ستھرا کیسے رکھ سکتے ہیں۔

1 :جلد کو صاف رکھیں

برسات میں نمی کے باعث جلد پر میل، پسینہ اور دھول مٹی آسانی سے چمٹ جاتی ہے جو بیکٹیریا کی افزائش کا باعث بنتی ہے۔ دن میں کم از کم دو بار چہرہ دھونا چاہیے۔ نارمل یا آئلی سکن والے افراد جھاگ دار یا سالیسیلک ایسڈ(Salicylic Acid) والے فیس واش کا استعمال کریں۔ ڈرائی سکن والے افراد نرم کلینزر استعمال کریں تاکہ جلد خشک نہ ہو۔

2 :موئسچرائزنگ کو نہ بھولیں

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ برسات میں نمی کے باعث موئسچرائزر کی ضرورت نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نمی کے باوجود جلد کی اندرونی تہیں پانی کھو دیتی ہیں۔ ہلکا اور واٹر بیسڈ موئسچرائزر استعمال کریں تاکہ جلد ہائیڈریٹ رہے اور چپچپا ہٹ نہ ہو۔

3 :سن سکرین کا استعمال جاری رکھیں

بادل ہونے کے باوجود UV شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں اور جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لیے کم از کم SPF 30 والی سن سکرین کا استعمال ضروری ہے، خاص طور پر جب آپ باہر نکل رہے ہوں۔

4 :میک اَپ کا استعمال محدود رکھیں

برسات کے موسم میں پسینہ اور نمی کے باعث میک اپ جلد پر جم نہیں پاتا، جس سے مسام بند ہو جاتے ہیں اور دانے نکل سکتے ہیں۔ اگر میک اپ ضروری ہو تو واٹر پروف اور نانکومیڈوجینک (Non-comedogenic) میک اپ استعمال کریں۔

5 :متوازن غذا کا استعمال کریں

جلد کی حفاظت صرف بیرونی طور پر نہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی کی جاتی ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، پانی، دہی اور خشک میوہ جات کا استعمال جلد کو صحت مند رکھتا ہے۔ آئلی، مصالحے دار اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں کیونکہ یہ جلدی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

6 :فنگل انفیکشن سے بچاؤ

برسات میں فنگس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے خاص طور پر جلد کی تہوں جیسا کہ گردن، بغل یا انگلیوں کے درمیان۔ صاف ستھرا اور خشک لباس پہنیں، بھیگنے کے بعد فوراً کپڑے تبدیل کریں اور اینٹی فنگل پاؤڈر کا استعمال کریں۔

7 :سکرب کا استعمال کریں

ہفتے میں ایک بار سکریب کرنا جلد کی مردہ خلیات کو ہٹاتا ہے، مگر روزانہ یا بار بار سکرب کرنے سے جلد پر خراش آ سکتی ہے، خاص طور پر حساس جلد پر۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک: حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اسے ’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیاہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذاب قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے، اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا مقصد بندوں کی آزمائش ہے کہ کون عمل کے میزان پر سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک:انتیسویں پارے کا آغاز سورۃالملک سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا تاکہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ:قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

انسانی شکل میں فرشتے:اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے، تو ابراہیم ؑ نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹی سے پکے ہوئے پتھر برسائیں، جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے تجاوز کرنے والوں کیلئے نشان زدہ (Guided) ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اہل ایمان کو صحیح سلامت اُس بستی سے باہر نکال دیں گے اور اُس میں مسلمانوں کا ایک ہی گھر ہے، یعنی حضرت لوط علیہ السلام کا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

مقصدِ تخلیقِ انسان و جن:قرآن پاک کے ستائیسویں پارے کا آغاز سورۃ اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کے مقصد کا بھی ذکر کیا ہے کہ جنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے۔