کرکٹ کی اولمپکس میں واپسی:شاہین اور کیویزکوالیفا ئنگ فارمیٹ سے ناخوش

تحریر : زاہداعوان


امریکی ریاست لاس اینجلس میں ہونے والے ’’سمر اولمپکس 2028ء‘‘ میں کرکٹ کو ایک بار پھر شامل کر لیا گیاہے۔یہ دوسری بار ہو گا کہ کرکٹ کاکھیل اولمپکس مقابلوں میں کھیلا جائے گا۔ آخری بار کرکٹ 1900 ء میں سمر اولمپکس کے دوران کھیلا گیا تھا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا ٹورنامنٹ ہوگا جس میں مردوں اور خواتین کی ٹیموں کے مقابلے ہوں گے۔

1900ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کرکٹ اولمپکس میں شامل ہو گی۔ تب صرف دو ٹیمیں برطانیہ اور فرانس دو روزہ میچ میں مدمقابل ہوئیں اور برطانیہ نے گولڈ میڈل جیتا تھا۔’’ایل اے اولمپکس2028ء‘‘ میں کرکٹ کے تمام میچز لاس اینجلس سے تقریباً50 کلومیٹر دور پومونا شہرکے فیئر گرائونڈز سٹیڈیم میں ہوں گے۔ مردوں اور خواتین کے مقابلوں میں چھ چھ ٹیمیں حصہ لیں گے۔ ہر ٹیم مقابلے کیلئے 15 رکنی سکواڈ کا نام دے سکتی ہے۔زیادہ تر میچ کے دن ڈبل ہیڈرز ہوں گے، جبکہ 14 اور 21 جولائی کو کوئی میچ نہیں رکھا گیا ہے۔ میچز مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے اور شام 6.30 بجے شروع ہوں گے۔ 

فیئر گرئوانڈز سٹیڈیم، جسے باضابطہ طور پر فیئرپلیکس کے نام سے جانا جاتا ہے، تقریباً 500 ایکڑ پر مشتمل کمپلیکس ہے، جس نے 1922ء سے ایل اے کائونٹی میلے کی میزبانی کی ہے اور باقاعدگی سے کنسرٹس، تجارتی شو، کھیلوں کی تقریبات اور ثقافتی اجتماعات کیلئے وینیو کے طور پر کام کرتا ہے۔

لاس اینجلس اولمپکس 2028 ء میں کرکٹ ٹیموں کی شرکت کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی)نے مینز کرکٹ ٹیموں کے کوالیفائی کرنے کا طریقہ طے کر لیا۔آئی سی سی اولمپکس کیلئے ریجنل کوالیفائنگ فارمولا استعمال کرے گا۔ ایشیا، اوشنیا، افریقہ اور یورپ ریجن سے ٹاپ رینک ٹیم کے براہ راست کوالیفائی کرنے کی تجویز ہے۔ امریکہ میزبان کی حیثیت سے اولمپکس میں شرکت کرے گا جبکہ چھٹی ٹیم کے کوالیفائی کرنے کا طریقہ کار ابھی طے کرنا باقی ہے۔ آئی سی سی کے فارمیٹ سے نیوزی لینڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ ناخوش ہیں۔ ریجنل ٹاپ ٹیموں کے فیصلے پر پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس فارمولے سے پاکستان کا اولمپکس میں براہ راست پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کی اس وقت آئی سی سی رینکنگ آٹھویں جبکہ بھارت کی پہلی ہے۔ بھارت ٹاپ رینک ہونے کی وجہ سے براہ راست اولمپک میں کوالیفائی کرے گا۔ اوشنیا ریجن سے نیوزی لینڈ کی ٹیم چوتھے نمبر پر ہونے کے باعث کوا لیفائی نہیں کر سکے گی۔ عالمی رینکنگ کی نمبر دو ٹیمیں آسٹریلیا اوشنیا ریجن سے کوالیفائی کرے گی۔امریکہ بحیثیت میزبان رینکنگ میں 17ویں نمبر پر ہونے کے باوجود کوالیفائی کرے گا۔ یورپ سے برطانیہ کی ٹیم کوالیفائی کرے گی۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی برطانوی ٹیم کی تشکیل کیلئے سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ویمنز ٹیموں کے کوالیفائنگ کا فیصلہ اگلے سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہو گا۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے آئی سی سی کے ریجنل کوالیفائنگ فارمیٹ کی حمایت کی ہے۔

قبل ازیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی)نے لاس اینجلس اولمپک گیمز 2028ء کیلئے پومونا، سدرن کیلیفورنیا میں فیئر گرائونڈز کا کرکٹ کے وینیو کے طور پر اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے وینیوز کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ کھیلوں میں کرکٹ کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی(آئی او سی)کے ساتھ شراکت داری میں کام کرنے کے منتظر ہیں، کیونکہ یہ ہمارے کھیل کی اولمپکس میں واپسی کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اگرچہ کرکٹ ایک بہت مقبول کھیل ہے، لیکن یہ روایتی حدود کو بڑھانے کا ایک بہترین موقع ہو گا جب یہ تیز رفتار، دلچسپ ٹی ٹوئنٹی  فارمیٹ کے تحت اولمپکس میں کھیلا جائے گا۔آئی سی سی کی جانب سے ایل اے 28ء اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے تعاون کیلئے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور ایل اے 28ء کی تیاری اور وہاں کرکٹ کو ایک بڑی کامیابی دلانے میں ان کے اور آئی سی سی کے اراکین کے ساتھ تعاون کا منتظر ہوں۔

اس سے قبل کرکٹ 1900 ء میں پیرس اولمپک گیمز میں شامل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد اولمپکس میں کرکٹ کا کھیل شامل نہیں رہا، اور پھر کرکٹ کواکتوبر 2023 ء ممبئی میں آئی او سی کی میٹنگ کے بعد لاس اینجلس اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا۔کرکٹ ایل اے28 میں پانچ نئے کھیلوں میں شامل ہے، دیگرنئے کھیلوں میں بیس بال/سافٹ بال، فلیگ فٹ بال، لیکروس(چھکے)اور سکواش شامل ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ، جسے آئی سی سی کے ذریعے کھیل کی ترقی کیلئے ایک گاڑی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں دیگر کثیر کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی نمایاں ہوا ہے۔ 2010ء، 2014ء اور 2023 ء کے ایشین گیمز میں مردوں اور خواتین کے دونوں ٹی ٹوئنٹی مقابلے شامل تھے جبکہ برمنگھم 2022 ء کے کامن ویلتھ گیمز میں خواتین کے مقابلے شامل کیے گئے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 30)

سورۃ النباء:’’نبا،، خبر کو کہتے ہیں۔ سورت کے شروع میں فرمایا گیا ہے کہ لوگ ایک عظیم خبر کے متعلق، جس کے بارے میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں، یعنی قیامت، اس کے وقوع اور حق ہونے کے بارے میں کچھ لوگوں کو اختلاف ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 30)

تیسویں پارے میں چونکہ سورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے تمام سورتوں پر گفتگو نہیں ہو سکے گی بلکہ پارے کے بعض اہم مضامین کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک: حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اسے ’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیاہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذاب قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے، اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا مقصد بندوں کی آزمائش ہے کہ کون عمل کے میزان پر سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک:انتیسویں پارے کا آغاز سورۃالملک سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا تاکہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ:قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔