شہد کے بیوٹی ٹپس

تحریر : ڈاکٹر فروا


قدرت نے انسان کو انمول تحفے دیے ہیں جن میں شہد ایک بڑی نعمت ہے۔ شہد نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہے بلکہ یہ صدیوں سے خوبصورتی بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔

شہد قدرتی حسن کا خزانہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف جلد کو نکھارا جا سکتا ہے بلکہ بالوں اور ہونٹوں کو بھی صحت مند اور حسین بنایا جا سکتا ہے۔ مصری ملکہ قلوپطرہ کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ شہد کے ماسک اور دودھ کے غسل کو اپنی خوبصورتی کا راز سمجھتی تھیں۔ شہد میں اینٹی بیکٹیریل، اینٹی آکسیڈنٹ اور نمی بخشنے کی خصوصیات موجود ہیں جو جلد، بالوں اور ہونٹوں کے لیے نہایت مفید ہیں۔ آج ہم شہد کے کچھ آزمودہ بیوٹی ٹپس پر روشنی ڈالیں گے جو گھر میں آسانی سے کیے جا سکتے ہیں۔ باقاعدگی سے شہد کے یہ بیوٹی ٹپس آزمانے سے مہنگے کاسمیٹکس کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور آپ اپنی قدرتی خوبصورتی کو مزید نکھار سکتی ہیں۔

 نرم و ملائم جلد

خشک اور کھردری جلد کے لیے شہد قدرتی موئسچرائزر ہے۔ ایک چمچ خالص شہد کو چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں۔ اس عمل سے جلد نرم، چمکدار اور ہموار ہو جاتی ہے۔ شہد جلد کی نمی کو برقرار رکھتا ہے اور جلد کو قدرتی نرمی بخشتا ہے۔

شہد کا فیس ماسک 

چہرے کی رنگت نکھارنے کے لیے ایک چمچ شہد میں چند قطرے لیموں کا رس ملا کر ماسک تیار کریں۔ اسے چہرے پر دس سے پندرہ منٹ لگائیں اور ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ یہ ماسک جلد کو تازگی اور نکھار بخشتا ہے۔

 جھریاں اورایجنگ کے 

اثرات کم کرنے کیلئے

شہد میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہیں جو فری ریڈیکلز کے اثرات کو کم کر کے بڑھاپے کی علامات کو سست کرتے ہیں۔ ایک چمچ شہد کو انڈے کی سفیدی کے ساتھ ملا کر چہرے پر لگائیں۔ یہ ماسک جلد کو ٹائٹ کرتا ہے اور جھریوں کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

 ہونٹوں کی نرمی کیلئے

خشک موسم میں اکثر ہونٹ خشک اور پھٹے ہوئے ہو جاتے ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے ہونٹوں پر شہد لگائیں۔ صبح ہونٹ نہایت نرم و ملائم محسوس ہوں گے۔ یہ قدرتی لپ بام کا کام کرتا ہے۔

 دانوں اور کیل مہاسوں کا علاج

شہد میں موجود اینٹی بیکٹیریل خصوصیات چہرے پر موجود جراثیم کو ختم کرتی ہیں۔ اگر آپ کو ایکنی یا دانے کی شکایت ہے تو متاثرہ حصے پر شہد لگا کر بیس منٹ چھوڑ دیں۔

 روزانہ اس عمل کو دہرانے سے دانے خشک ہو جاتے ہیں اور جلد صاف نظر آنے لگتی ہے۔

 شہد اور دہی کا ماسک

خشک جلد کے لیے ایک چمچ شہد میں دو چمچ دہی ملا کر ماسک تیار کریں۔ اس کو چہرے پر بیس منٹ تک لگانے سے جلد میں نمی آتی ہے اور رنگت نکھرتی ہے۔ دہی کی لکیریک ایسڈ جلد کی صفائی کرتی ہے جبکہ شہد اس کو نرم رکھتا ہے۔

 بالوں کی خوبصورتی کیلئے

شہد بالوں کو غذائیت اور چمک بخشتا ہے۔ ایک چمچ شہد کو زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔ آدھے گھنٹے بعد دھو لیں۔ یہ ماسک بالوں کو مضبوط اور ریشمی بناتا ہے۔

آنکھوں کے گردحلقوں کیلئے

سیاہ حلقے خواتین کے لیے بڑی پریشانی ہیں۔ ایک چمچ شہد میں بادام کا تیل ملا کر آنکھوں کے گرد نرمی سے لگائیں۔ رات بھر چھوڑ دیں اور صبح دھو لیں۔ اس عمل سے سیاہ حلقے کم ہوتے ہیں اور آنکھوں کی تھکن دور ہو جاتی ہے۔

شہد سے سکن کلینزر

بازاری کلینزرز کے بجائے شہد کو بطور قدرتی کلینزر استعمال کریں۔ یہ جلد کی گہرائی سے صفائی کرتا ہے اور میل کچیل دور کر دیتا ہے۔ چہرے پر شہد لگائیں اور ہلکی مساج کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں۔

 شہد اور دودھ کا ماسک

شہد اور دودھ کا ماسک چہرے کی رنگت نکھارنے کے لیے نہایت مشہور ہے۔ دودھ میں لکیریک ایسڈ اور شہد میں نمی بخش اجزاجلد کو تازگی بخشتے ہیں۔ دونوں کو ملا کر چہرے پر بیس منٹ لگائیں اور پھر دھو لیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار: جدید دور کے چیلنجز

بچوں کی شخصیت سازی اور تربیت میں ماں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

چٹنی …ذائقے اور صحت کا خزانہ

چٹنی ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو ہے جو کھانے کے ذائقے، خوشبو اور غذائی افادیت میں اضافہ کرتی ہے۔

آج کا پکوان:بیف نہاری

اجزا:بیٖف:دو کلو، گرم مصالحہ پاؤڈر: دو چمچ، سرخ مرچ پاؤڈر: تین چمچ، دھنیا پاؤڈر: دو کھانے کے چمچ،ادرک ڈیڑھ کھانے کا چمچ،لہسن :ڈیڑھ کھانے کا چمچ،

ڈاکٹر انور سجاد: رجحان ساز ادیب کی ساتویں برسی

وہ جدید اردو افسانے کے بانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے براہ راست ابلاغ کے افسانے تحریر نہیں کئے:ان سے پوچھا گیا کہ’ ادب برائے ادب‘ اور’ ادب برائے زندگی‘ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ’ ادب برائے انسان‘ کے قائل ہیں، انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا‘ وہ کئی ادیبوں سے متاثر تھے لیکن سب سے زیادہ سعادت حسن منٹو نے انہیں متاثرکیا‘ انہوں نے جس شعبے میں بھی ہاتھ ڈالا پوری محنت سے کام کیا

غالب کا ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ

مرزا غالب نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں وہ مغلیہ خاندان کی حکومت کے زوال اور انگریزی استعمار کے عروج پکڑنے کا دور تھا۔

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں