موسم، رنگ اور شخصیت کپڑوں کا انتخاب رہنمائی اور مشورے

تحریر : آمنہ احمد


لباس صرف جسم ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت، ذوق اور مزاج کا عکاس بھی ہوتا ہے۔ کپڑوں کا درست انتخاب کسی بھی خاتون کی خوبصورتی کو نکھار دیتا ہے جبکہ غلط انتخاب شخصیت کے تاثر کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی خواتین کے لیے لباس کے انتخاب میں موسم، رنگوں کی مناسبت اور شخصیت کے تقاضے نہایت اہم ہیں۔ ان پہلوؤں کے لحاظ سے چند عملی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کا موسم مختلف علاقوں میں جداگانہ نوعیت کا ہے۔کہیں شدید گرمی، کہیں ٹھنڈ، کہیں حبس اور کہیں بارش۔ ایسے میں لباس کا انتخاب موسمی تقاضوں کے مطابق ہونا لازمی ہے۔گرمی کے موسم میں ہلکے رنگ اور ہلکے وزن والے کپڑے مثلاً لان، کاٹن، لینن یا خالص ململ بہترین رہتے ہیں۔ سفید، آسمانی، گلابی، لیموںکلر، فیروزی اور ہلکے سبز رنگ نہ صرف آنکھوں کو راحت دیتے ہیں بلکہ جسم کو بھی ٹھنڈک کا احساس دیتے ہیں۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑے جن میں ہوا گزر سکے جیسے اے لائن شرٹ یا کُرتیاں زیادہ موزوں ہیں۔ سرد موسم میں گرم اور گہرے رنگ زیادہ جچتے ہیں۔ ویلوٹ، کھدر، وولن، یا سویٹر نِٹ فیبرک بہترین رہتے ہیں۔ براؤن، میرون، نیوی بلیو، بوتل گرین اور سرمئی رنگ سردیوں میں وقار اور وقعت بڑھاتے ہیں۔ سردیوں میں سکارف، شال یا جیکٹ کا استعمال نہ صرف فیشن کا حصہ ہے بلکہ تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ برسات میں زیادہ ہلکے رنگ یا شفاف کپڑے گندے ہو سکتے ہیں اس لیے شوخ رنگ جیسے نارنجی، جامنی، یا سرخ بہتر رہتے ہیں۔ کپڑا ایسا ہو جو جلد خشک ہو مثلاً کاٹن مکس یا لائٹ جارجٹ۔خزاں اور بہار کے موسم رنگوں اور فیشن کے امتزاج کے لیے بہترین ہیں۔ بہار میں پھولدار پرنٹس اور چمکدار رنگ جیسے پیلا، نیلا، گلابی اور ہلکا سبز خوب جچتے ہیں جبکہ خزاں میں ہلکے براؤن، سرخ اور خاکی رنگ زیادہ مناسب رہتے ہیں۔

 رنگوں کا انتخاب اور ان کا اثر

رنگ نہ صرف لباس کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں بلکہ انسان کی شخصیت اور موڈ پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ خواتین کو رنگوں کا انتخاب کرتے وقت جلدکی رنگت، عمر اور موقع کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔گندمی رنگت پاکستان میں سب سے عام ہے۔ اس رنگت والی خواتین پر میرون، گہرا نیلا، بوتل گرین، گلابی اور پیچ رنگ بہت خوب جچتے ہیں۔سانولی رنگت والی خواتین کے لیے زعفرانی، نارنجی، فیروزی اور چمکدار نیلا رنگ بہترین ہیں۔ یہ رنگ ان کی رنگت کو نکھارتے ہیں۔صاف یا گوری رنگت والی خواتین پر تقریباً ہر رنگ جچتا ہے مگر شوخ رنگ مثلاً سرخ، گلابی یا جامنی ان کی دلکشی کو بڑھا دیتے ہیں۔نوجوان لڑکیاں شوخ رنگ آزما سکتی ہیں جیسے پیلا، آسمانی یا لیموںکلر۔بالغ خواتین کے لیے نسبتاً سنجیدہ رنگ مثلاً نیوی بلیو، میرون یا خاکی بہتر رہتے ہیں۔ادھیڑ عمر خواتین کے لیے سادہ اور متوازن رنگ جیسے سرمئی، بھورا یا ہلکا سبز زیادہ موزوں ہیں۔

مزاج اور موقع محل

 کسی تقریب، محفل یا دفتر کے لحاظ سے رنگ کا انتخاب مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً دفتر میں نیوٹرل رنگ جیسے سفید، بیج یا سرمئی بہتر رہتے ہیں۔ شادی یا تقریب میں گہرے اور چمکدار رنگ دلکشی بڑھاتے ہیں جبکہ گھریلو آرام کے لیے نرم اور ہلکے رنگ بہتر ہیں۔ہر خاتون کی جسمانی ساخت اور قد مختلف ہوتا ہے اس لیے لباس کا انتخاب بھی اسی کے مطابق ہونا چاہیے۔اونچے قد والی خواتین پر لانگ شرٹس یا فراک سٹائل قمیضیں خوب جچتی ہیں۔ انہیں بہت زیادہ لمبے دوپٹے یا بڑے ڈیزائن والے پرنٹس سے گریز کرنا چاہیے تاکہ توازن برقرار رہے۔درمیانے یا چھوٹے قدکی خواتین کو چھوٹے یا درمیانے سائز کے پرنٹس والے کپڑے پہننے چاہئیں۔ سیدھی لائنوں والے کپڑے یا ہلکے فٹنگ والے کُرتے انہیں لمبا دکھاتے ہیں۔دبلی پتلی خواتین کے لیے لئیرنگ یا ڈھیلے کپڑے بہتر رہتے ہیں جیسے فرل والی قمیض یا فولڈڈ آستینوں والے ڈیزائن۔قدرے فربہ خواتین کو گہرے رنگ اور سادہ پرنٹس والے کپڑے زیب دیتے ہیں۔ بہت زیادہ چمکدار یا بڑے ڈیزائن والے کپڑوں سے گریز کریں۔ سیدھی کٹنگ اور ہلکی لمبی قمیضیں جسم کو متوازن دکھاتی ہیں۔

پاکستان میں فیشن انڈسٹری نے حالیہ کچھ برسوں میں خاصی ترقی کی ہے۔ برانڈز ہر موسم کے لیے متنوع کلیکشنز متعارف کراتے ہیں مگر ہر ٹرینڈ ہر خاتون کے لیے مناسب نہیں ہوتا اس لیے اندھا دھند فیشن اپنانے کے بجائے اپنے جسم، رنگت اور موقع کے مطابق انتخاب کریں۔سادگی ہمیشہ فیشن سے زیادہ پائیدار اور خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔ اگر آپ دفتر یا یونیورسٹی جاتی ہیں تو سادہ مگر نفیس لباس بہتر تاثر دیتا ہے۔ گھریلو خواتین کے لیے آرام دہ لباس زیادہ موزوں ہے جبکہ خاص تقریبات میں نفاست کے ساتھ تھوڑا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔لباس کا انتخاب دراصل خود اعتمادی، سلیقہ اور ذاتی ذوق کا مظہر ہے۔ پاکستانی خواتین اگر اپنے موسم، رنگ اور شخصیت کے لحاظ سے لباس منتخب کریں تو وہ نہ صرف زیادہ پُرکشش دکھائی دیں بلکہ خود کو زیادہ پُراعتماد بھی محسوس کریں گی۔ یاد رکھیں خوبصورتی صرف مہنگے لباس میں نہیں، مناسب انتخاب اور سلیقے میں پوشیدہ ہے۔

 

(فیشن ڈیزائننگ کی طالبہ ہیںاور 

مختلف ویب سائٹس پر لکھتی ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پشاورزلمی اور حیدرآباد کنگز مین آج مدمقابل

پی ایس ایل11 کا فائنل معرکہ:زلمی پانچویں مرتبہ فائنل کھیل رہی ہے،کنگزمین پہلی بار ٹرافی کی جنگ کیلئے میدان میں اترے گی:اسلام آبادیونائیٹڈ اور لاہور قلندرز تین، تین جبکہ پشاورزلمی، کراچی کنگز، ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اب تک ایک، ایک ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہیں:بابراعظم نے پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 4سنچریوں کاعثمان خان اور ایک سیزن میں سب سے زیادہ 588رنزکا فخرزمان کا ریکارڈ برابر کردیا

پی ایس ایل 11:ریکارڈز

پی ایس ایل 11 کے رواں سیزن میں جو29مارچ کو شروع ہوا تھا میں متعدد پرانے ریکارڈز ٹوٹے اور ان کی جگہ نئے ریکارڈز بنے، جن میں سے چند ریکارڈز درج ذیل ہیں۔

شعر کہانی

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے،نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

جذبہ ایثار

عمر، عبدالمجید دونوں بہت گہرے دوست تھے۔ عمر بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا جبکہ عبدالمجید بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ ان کی دوستی بہت مشہور تھی۔

الغ بیگ کی فلکیاتی رصدگاہ

سمر قند شہر میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک رصد گاہ بنی ہوئی ہے۔ یہ فلکیاتی رصد گاہ مرزا الغ بیگ کے نام سے منسوب ہے۔

نایاب

عام چیز ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے اس کی قدر بھی نسبتاً کم سمجھی جاتی ہے، جبکہ نایاب چیز ہر جگہ نہیں ملتی، اسی لیے وہ زیادہ اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔