27ویں ترمیم-بڑی تبدیلیاں

تحریر : عدیل وڑائچ


27ویں ترمیم ہو گئی بلکہ مقرر کی گئی 14 نومبر کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی منظور کر لی گئی۔ سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی دو تہائی اکثریت سے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یوں تو 27ویں آئینی ترمیم میں 59ترامیم کی گئی ہیں مگر اصل بڑی ترامیم چار ہیں۔

جن میں آرٹیکل 175، آرٹیکل 200، آرٹیکل 243 اور آرٹیکل 248 میں بنیادی ترامیم شامل ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ آئینی استثنیٰ سے متعلق ترامیم نے حاصل کی جب پیپلز پارٹی کے مطالبے پر صدر مملکت کیلئے تاحیات استثنیٰ نے بحث کو جنم دیا۔ خود حکومت اس ترمیم کے حق میں دکھائی نہیں دیتی تھی مگر پیپلز پارٹی کے اصرار پر حکومت کو اس کی حمایت کرنا پڑی کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر دو تہائی اکثریت ممکن نہیں تھی۔ وزیر اعظم پاکستان کو استثنیٰ دینے سے متعلق بھی تجویز سینیٹر انوشہ رحمان و دیگر سینیٹرز کی جانب سے پیش کی گئی مگر وزیر اعظم کی جانب سے یہ ترمیم واپس لینے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ایکس پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ چند سینیٹرز نے وزیر اعظم کے استثنیٰ کے حوالے سے ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی جو کابینہ سے منظور شدہ مسودے میں شامل نہیں تھی۔ سینیٹرز کے خلوص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یہ ترمیم فی الفور واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسا کیا جانا ایک سیاسی چال بھی تھی اور صدر مملکت کے تاحیات استثنیٰ سے متعلق پیپلز پارٹی کے مطالبے پر سیاسی اور اخلاقی دباؤ ڈالنا بھی تھامگر پیپلز پارٹی ڈٹی رہی اور 248 میں ترمیم کروا کر ہی دم لیا۔ آئین کے آرٹیکل 248 کی ذیلی شق 2 کے مطابق صدر اور گورنرز کو ان کے عہدے کی معیاد کے دوران فوجداری مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہو تا ہے اور ان کی گرفتاری یا قید کیلئے کوئی حکم جاری نہیں ہو سکتا، مگر نئی آئینی ترمیم کے بعد اب صدر کے خلاف تاحیات کوئی فوجداری مقدمہ نہیں بن سکے گا اور نہ ہی کوئی عدالت ان کی گرفتاری یا قید کیلئے کوئی حکم جاری کر سکے گی۔ اس ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد کوئی اور پبلک آفس ہولڈ کریں گے تو صرف اس دورانیے میں یہ استثنیٰ ختم ہو گا۔

آئین کے آرٹیکل 243 جو کہ کمانڈ آف آرمڈ فورسز سے متعلق ہے میں اہم ترامیم کی گئی ہیں۔ اس آرٹیکل میں 8ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔ جن کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے ،یعنی چیف آف آرمی سٹاف تمام مسلح افواج کے سربراہ ہوں گے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ 27 نومبر 2025ء سے ختم کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان چیف آف آرمی سٹاف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تعیناتی کریں گے۔ وفاقی حکومت مسلح افواج کے ارکان کو فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے پر ترقی دے گی۔ ایسا آفیسر تاحیات یونیفارم میں رہے گا اور اس کا رینک اور مراعات بھی تاحیات ہوں گی۔ ان تینوں رینکس کو قومی ہیروز کا درجہ دیا گیا ہے اور انہیں ہٹانے کا طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 47 سے مشروط کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 47 صدر مملکت کے مواخذے سے متعلق ہے جس کیلئے پارلیمان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ معاملہ قومی ہیروز کا ہے تو اس رینک کو ہٹانے کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہونا چاہیے۔ 

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فیلڈ مارشل ، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے رینکس تاحیات ہیں مگر بطور سربراہ فورس ان کی کمانڈ کی مدت ان فورسز کے متعلقہ قوانین کے تحت پانچ سال ہی ہے۔ اگر پانچ سال پورے ہونے کے بعد وفاقی حکومت ان کے عہدوں میں توسیع دینا چاہے تو وہ اس کا اختیار ہو گا۔ یعنی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدت ملازمت 2027ء تک یعنی پانچ برس ہے مگر ان کا رینک تاحیات رہے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت ایئر چیف کو مارشل آف ایئر کا رینک دینے کے معاملے پر بھی غور کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدوں پر بھی آرٹیکل 248 کا اطلاق ہو گا۔ 

ستائیسویں آئینی ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہو گی۔ آئین پاکستان میں آرٹیکل 175 بی سے آرٹیکل 175 ایل تک نئی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے زیادہ تر اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ اب صرف ہائیکورٹ سے آنے والی اپیلیں سنے گی۔ عوامی اہمیت کے معاملات جہاں بنیادی حقوق کا معاملہ ہو ، اب وفاقی آئینی عدالت کے اختیار میں ہوں گے۔ ہائیکورٹ کے وہ فیصلے جن میں آئین کی تشریح کا سوال ہو گا تو یہ معاملہ بھی وفاقی آئینی عدالت میں ہی آئے گا۔ کسی قانونی سوال پر صدر مملکت کو اگر آئینی رائے مانگنی ہو گی تو اب سے یہ کام سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔ آئینی عدالت کے جج صاحبان کی عمر کی حد 68 سال ہو گی۔ وفاقی آئینی عدالت کا جج بننے کی اہلیت میں شامل کیا گیا ہے کہ وہ پاکستانی وفاقی آئینی عدالت کا جج بن سکے گا جو سپریم کورٹ کا جج رہ چکا ہو ، یا پانچ سال تک ہائیکورٹ کا جج رہ چکا ہو، یا بیس سال سے ہائیکورٹ کا وکیل رہا ہو اور سپریم کورٹ کا وکیل ہو ، وفاقی آئینی عدالت کا حکم سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتوں کیلئے بائنڈنگ ہو گا جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت کیلئے بائنڈنگ نہیں ہو گا۔ 

آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کر کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دے دیا گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں ان ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بھی شامل ہوں گے جہاں سے ججز کا تبادلہ مقصود ہو گا۔ ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی ان کی پہلی تقرری سے جانچی جائے گی۔ اپنے تبادلے کو تسلیم نہ کرنے والے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو گا اور اسے یہ تبادلہ تسلیم نہ کرنے کی وجوہات دینا ہوں گی ، سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک جج کو کام سے روک دیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 93 میں ترمیم کرکے وزیر اعظم کے مشیروں کی تعداد پانچ سے بڑھا کر سات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ 

26 ویں ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم زیادہ آسانی سے منظور ہوئی۔ حکومت پہلے سے زیادہ با اعتماد نظر آئی اور اب 28 ویں ترمیم کی باتیں بھی شروع ہو چکی ہیں جن میں این ایف سی سمیت دیگر وہ تمام ایشوز آسکتے ہیں جن پر ستائیسویں ترمیم میں ڈیڈ لاک دیکھا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مدد گار رسول، یار غار و مزار، امام الصحابہ :خلیفہ اوّل، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ

اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی ذات بابرکات پر کہ جن کے اہل اسلام پر لاکھوں احسانات ہیں۔ وہ قومیں دنیا کے افق سے غروب ہو جاتی ہیں جو اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں۔ آیئے آج اس عظیم محسن اُمت کی خدمات کا مختصراً تذکرہ کرتے ہیں کہ جن کے تذکرے سے ایمان کو تازگی اور عمل کو اخلاص کی دولت ملتی ہے۔

فخر رفاقت ابو بکر،فخرصداقت ابو بکر: رفیقِ دوجہاں

خلیفہ اوّل سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کو قبل ازبعثت بھی نبی مکرم ﷺ کی دوستی کا شرف حاصل تھا اور23سالہ پورے دور نبوت میں بھی نبی مکرمﷺ کی مصاحبت کا شرف حاصل رہا۔

مکتبہ عشق کا امام سیدنا ابوبکر صدیق

سیرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے جہاں ہم انہیں رفیق غار کے اعزاز سے بہرہ ور دیکھتے ہیں، وہاں بعد ازوفات رفیق مزار ہونے کی عظیم سعادت سے بھی آپ ؓ سرفراز دکھائی دیتے ہیں۔ آپؓ کی حیات مطہرہ میں کچھ خصائص ایسے نظر آتے ہیں جو پوری ملت اسلامیہ میں آپؓ کو امتیازی حیثیت بخشے ہیں۔

وہ جو صدیقؓ کہلایا میرے رسول ﷺ کا

خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ وہ خوش قسمت ترین انسان ہیں کہ جن کے بارے میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ! ’’مجھے نبوت عطا ہوئی تو سب نے جھٹلایا مگر ابو بکر صدیقؓ نے مانا اور دوسروں سے منوایا ،جب میرے پاس کچھ نہیں رہا تو ابو بکرؓ کا مال راہِ خدا میں کام آیا۔

چالاک بھیڑ

ایک بوڑھی بھیڑ آہستہ آہستہ ایک بھیڑیے کے پاس گئی جو ایک جال میں پھنسا ہوا تھا۔

ہیرا ( ازبک لوک کہانی)

ایک کسان کو کھیت میں ہل چلاتے ہوئے ایک قیمتی ہیرا مل گیا۔ وہ سب کی نظروں سے بچا کر اسے گھر لے آیا اور اپنے گھر کی پچھلی دیوار کے ساتھ دفنا دیا۔ جب بھی اسے فرصت کے لمحے ملتے وہ زمین کھودتا ، ہیرے کو گھما گھما کے دیکھتا اور جب جی بھر جاتا تو پھر وہیں دفنا کر چلا جاتا۔