آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل
آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی کابینہ نے بدھ کے روز حلف اٹھالیا۔نئی کابینہ 18 وزرا اور دو مشیران پر مشتمل ہے۔ 18 وزرا سے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر جبکہ دو مشیران سے وزیر اعظم فیصل راٹھور نے حلف لیا۔
حلف اٹھانے والے وزرا میں سردار فہیم ربانی ، چوہدری اخلاق ، یاسر سلطان ، سردار محمد حسین، نبیلہ ایوب ، چوہدری رشید ، چوہدری ارشد ، جاوید بڈھانوی ، جاوید ایوب ، قاسم مجید ، رفیق نیئر ، دیوان چغتائی ، ملک ظفر ، ضیاالقمر ، عامر یاسین ، بازل نقوی ، میاں عبد الوحید اور علی شان سونی شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم و صدر سردار محمد یعقوب خان کے فرزند فہد یعقوب خان اور رکن قانون ساز اسمبلی شاہدہ صغیر کے فرزند احمد صغیر نے بطور مشیر حلف لیا ہے۔ کابینہ کی تشکیل اور حلف بردار ی کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر میں پر امن طریقے سے اقتدار منتقل ہو گیا۔نئی حکومت کے پاس کام کے لیے چھ ماہ سے بھی کم وقت ہے ۔ اس دوران آزاد جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں سردی اور برفباری کے تین ماہ کے دوران کوئی تعمیراتی کام نہیں ہوسکتا جس سے نئی حکومت کی کار کردگی اس طرح عوام کے سامنے نہیں آسکتی ہے جس طرح آنی چاہیے۔پیپلزپارٹی کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ 2021ء کے الیکشن میں یہ جماعت 12 براہ راست اور خواتین کی ایک مخصوص نشست کے ساتھ 13 ارکان کے ساتھ قانون ساز اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت تھی۔
سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کو ہٹانے سے قبل یہ جماعت پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان اسمبلی پر مشتمل فارورڈبلاک سے 15 ارکان کو اپنے ساتھ ملاکر 28 ممبران اسمبلی کی جماعت بن گئی۔ منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ فارورڈ بلاک کے ارکان اسمبلی 2026ء کا الیکشن پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لڑیں گے۔ وزیر اعظم کے اس پہلے خطاب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی ان چھ ماہ میں غیر اعلانیہ انتخابی مہم چلائے گی تاکہ آنے والے عام انتخابات میں یہ جماعت دوبارہ اقتدار میں آسکے۔ واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوران سیاسی موسم ہمیشہ اسلام آباد کے سیاسی موسم کے تابع رہتا ہے۔ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہو آزاد جموں و کشمیر کے ووٹر اسی سیاسی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ ڈالتے ہیں تاہم بعض محدود انتخابی حلقے ایسے ہیں جہاں ٹکٹ ہولڈر ز کا سیاسی قد کاٹھ دیکھ کر لوگ ووٹ دیتے ہیں۔
پیپلزپارٹی ساڑھے نو سال کے انتظار کے بعد آزاد کشمیر میں دوبارہ اقتدار میں آگئی ہے اور پارٹی کارکنان کی نوجوان وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور سے کافی امیدیں بھی ہیں۔ فیصل راٹھور سابق وزیر اعظم ممتاز حسین راٹھور کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے والد کو پیپلزپارٹی میں ذو الفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اسی سیاسی رشتے کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی سیاسی امور کی نگران فریال تالپور نے نبھاتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور کو قائد ایوان کے لیے نامزد کیا، بلکہ ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے مظفر آباد بھی پہنچ آئے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ2021ء میں پاکستان تحریک انصاف نے ان کی جماعت کا مینڈیٹ چوری کیا تھا جو دوبارہ انہیں مل گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم فیصل راٹھور اور جماعت کے ارکان اسمبلی کو کہا کہ وہ اگلے چھ ماہ اپنے حلقوں میں گزاریں اور عوام کی خدمت کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت اگلے سال جولائی میں ہونے والے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ کامیاب ہو کر مزید پانچ سال کے لیے حکومت بنائے گی۔ حلف اٹھانے کے بعد وزیر اعظم فیصل راٹھور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے اللہ کی ذات کا تہہ دل سے شکر ادا کرتا ہوں جس نے میرے ناتواں کندھوں پر مشکل دور میں بھاری بھر کم ذمہ داری ڈالی۔انہوں نے کہا کہ صدرپاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور صاحبہ کے فہم و فراست اور بہترین حکمت عملی کی بدولت پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ گئی ہے۔آزادکشمیر حکومت کی دو ہی اہم ذمہ داریاں ہیں ایک تحریک آزادی کشمیر کیلئے کردار ادا کرنا اور دوسرا آزاد خطہ کی تعمیر و ترقی۔ ان دونوں ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ شہدا تحریک آزاد ی مقبوضہ کشمیر اور شہداافواج پاکستان کو خراج عقیدت جبکہ غازیوں کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نے نو منتخب وزیر اعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے صرف چوہدری انوار الحق کی حکومت ختم کرنے کی حد تک پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا۔( ن) لیگ اپوزیشن میں رہے گی اور نئی حکومت کے ہر کام کو سراہے گی ، اگر اس حکومت نے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی اور سرکاری ملازمین کو تنگ کیا تو پھر مسلم لیگ( ن) اسمبلی کے اندر اور باہران کا مقابلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ویسے بھی آپ کی چھ ماہ کی حکومت کو گرا کر کیا کرنا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کو کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں تاخیر نہ کریں۔