اللہ کی مدد مانگنے کا مسنون طریقہ

تحریر : مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی


’’اللہ تعالیٰ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت درپیش آئے تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور دعا مانگے‘‘ (ابن ماجہ)

جب انسان کو کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ ظاہری اسباب اختیارکرتا ہے۔ ظاہری اسباب اختیار کرنا اور مقدور بھر کوشش کرنا جائز ہے لیکن ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری اسباب ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لے بلکہ ان اسباب میں تاثیر اور کامیابی کے سلسلہ میں اللہ سے مدد طلب کرے اور اسی کو کارساز سمجھے۔ بے ایمان کی طرح نہ ہو کہ صرف ظاہری اسبا ب ہی پر کامیابی کو منحصر سمجھتا ہے اور خدا کی طرف جو کہ مسبب الاسباب، قادر مطق اور کارساز ہے بالکل متوجہ نہیں ہوتا ہے۔ 

حضورﷺ نے بتایا کہ ظاہری اسباب ضرور اختیار کرو لیکن تمہارا یقین اور بھروسہ اللہ جل شانہ کی ذات پر ہونا چاہئے۔ اسباب اختیارکرنے کے بعد دعا کرو کہ اے اللہ میرے اختیار اور بس میں جو تھا اس کو کر لیا،آپ ہی اسباب میں تاثیر پیدا کرنے والے اور ان تدبیروں کو کامیاب بنانے والے ہیں لہٰذا میری تدبیروں کو کامیاب فرما دیجئے۔

اسی کی تعلیم حدیث پاک میں دی گئی ہے، ’’اللہم ھذاالجھد وعلیک التکلان‘‘، ’’اے اللہ میری طاقت میں جو کچھ (تدبیریں اور اسباب) تھا میں نے اختیار کیا آپ ہی پر بھروسہ ہے آپ ہی اپنی رحمت سے اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائیے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے اسباب اور تدابیر اختیار کرنے کی اجازت بلکہ حکم دیا ہے لیکن اسباب کی تاثیر اور تدابیر کی کامیابی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے، لہٰذا انسان کی نگاہ صرف اسباب تک محدود نہ رہے بلکہ اسباب کے پیداکرنے والی ذات پر ہونی چاہئے، ان اسباب میں تاثیر اور تدابیر میں کامیابی کی دعا کرے۔

رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کی تربیت اسی طرح فرمائی تھی یہی وجہ ہے کہ ان کی نگاہ ہمیشہ مسبب الاساب پر رہتی تھی اس سلسلہ میں حضرات صحابہ کرام کے بے شمار واقعات کتب سیرت میں مذکور ہیں۔

صلوۃ الحاجت کی دُعا و طریقہ

کسی بھی ضرورت اور اہم کام پیش آنے پر اللہ تعالیٰ سے اس میں مدد اور آسانی مانگنے کی نیت سے کم سے کم دو رکعت ادا کرے، اس کیلئے کوئی خاص وقت مقرر ہے نہ کوئی خاص طریقہ ضروری ہے، بلکہ عام نوافل کی طرح یہ بھی ایک نفل نماز ہے۔ بعض فقہاء کرام نے عشاء کے بعد پڑھنے کا فرمایا ہے۔ بعض احادیث میں خاص سورتوں کا بھی ذکر ہے، تاہم حسب سہولت کوئی بھی سورت پڑھ سکتا ہے اور آخر میں حاجت کی تکمیل کیلئے خوب گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرے۔

حدیث شریف میں حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت درپیش آئے تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے: ’’کوئی معبودنہیں ہے سوائے اللہ کے جو بردبار ہے، پاک ہے وہ اللہ جوعرش عظیم کاپروردگارہے اورتمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنہار ہے۔ اے اللہ!میں تجھ سے تیری مہربانی کو واجب کرنے والے، تیری بخشش کو مئوکد کرنے والے اعمال کی توفیق اور ہر نیکی سے بلا مشقت کی کمائی اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے ہرگناہ کو بخش دے، اے نہایت رحم و مہربانی فرمانے والے! میری ہر فکر و ٹینشن کو دورکر دے اور میری ہر ضرورت وحاجت کو جو تیرے نزدیک پسندیدہ ہو پوری فرما دے  (ابن ماجہ: 1384)

یہ دُعا اللہ کی وحدانیت، پاکی و تقدیس، عظمت اور قدرت، ربوبیت، گناہ پر فوری گرفت نہ کرنا اور بغیر استحقاق کے نوازنا اور احسان نہ جتلانے والے اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے، لہٰذا ان اسما کی برکت سے ضرورتیں پوری ہوں گی، رکاوٹیں دور ہوں گی، دشواریاں آسان ہوں گی اور پریشانیاں زائل ہوں۔مذکورہ طریقہ پر نماز پڑھ کر اپنی ضرورت خوب گڑگڑا کر اللہ تعالی سے مانگے اور یہ عمل برابر کرتا رہے، یہاں تک کہ ضرورت پوری ہو جائے۔ 

بندہ کی دعا ہر حال میں قبول ہوتی ہے، یا اسی کے مثل کوئی دوسری چیز دے دی جاتی ہے یا عبادت بنا کر نامہ میں لکھ دیا جاتا ہے اور بندہ کے دل کو مطلوبہ چیز کے نہ ملنے پر مطمئن کر دیا جاتا ہے۔اگرحاجت وضرورت کسی بندے سے متعلق ہو،توبھی مذکورہ عمل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے خوب عاجزی کے ساتھ دعا کرے، اے اللہ !اس بندے کے دل کو میری ضرورت پوری کرنے پرآمادہ فرما دے۔تمام بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے دوانگلیوں کے درمیان ہیں ،وہ جدھرچاہتا ہے پھیردیتا ہے۔پھردعاسے فارغ ہوکر اس بندہ کے پاس جائے اور اپنی ضرورت پیش کرے ،اگرضرورت پوری ہوجائے تواس بندہ کابھی شکراداکرے اوراللہ کابھی شکر ادا کرے۔ اگرضرورت پوری نہ ہوتو سمجھے کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ حاجت روائی کا کوئی دوسراانتظام فرمائیں گے۔

صلوۃ الحاجت کی مصلحت وحکمت 

اللہ تعالیٰ سے دعامانگنے سے پہلے نماز پڑھنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے، نماز اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد دعا کرے گا، تو ضرور کامیابی ملے گی اور ضرورت پوری ہو گی۔اگر حاجت و ضرورت کسی بندہ سے متعلق ہو تو نماز اور دُعا کے بعد اس کے پاس جانے کی دو حکمتیں ہیں ۔

پہلی حکمت: کسی بندہ سے ضرورت پوری کرنے کی درخواست کرنا غیراللہ سے مدد اور استعانت ہے ،مدداوراستعانت صرف اللہ سے طلب کرنا چاہئے۔جب بندہ کسی بندہ کے سامنے اپنی ضرورت پیش کرے گا توگویا وہ غیراللہ سے مددطلب کررہاہے۔

اس لئے شریعت نے صلوۃ الحاجت اوراس کی دُعاکی تعلیم دی تاکہ بندہ کے عقیدہ کی حفاظت ہوسکے۔اس لئے کہ اگراس بندہ نے اس کی ضرور ت پوری کردی،تو یہ سمجھے گا کہ اسی نے میری ضرورت پوری کی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی ضرورتوں کو پوراکرنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی نے اس بندہ کے دل کو اس کی طرف متوجہ کیا اوراس کی حاجت روائی پر آمادہ کیاہے، یہ یقین کی کمی اور فسادعقیدہ ہے۔

اگربندہ نمازودُعاکے بعد کسی بندے کے پاس جائے گا اوروہ اس کی ضرورت کو پورابھی کردے تو ذہن نماز،دُعا اوراللہ کی توفیق اوراس کی آسانی کی طرف متوجہ ہو گا کہ اللہ نے اپنے فضل ومہربانی نماز ودعاکی برکت سے میری ضرورت پوری فرمادی ۔اگروہ بندہ اس کی ضرورت پوری نہ کرے تویہ سمجھے گا شایدضرورت پوری نہ ہونے میں میری کوئی مصلحت ہے یہ یقین اورعقیدہ کی حفاظت ہے ۔

دوسری حکمت: کسی ضرورت کا پیش آنا اورکسی کے پاس جانا یہ دنیوی معاملہ ہے ، شریعت چاہتی ہے کہ دنیوی معاملہ بھی عبادت بن جائے۔اس لئے صلوۃ الحاجت کومشروع کیاہے ۔ نوٹ: ائمہ اربعہ کے نزدیک صلوۃ الحاجت مستحب ہے ۔

ہرضرورت کیلئے صلوٰۃالحاجت پڑھی جائے۔ ہرضرورت اورپریشانی کے وقت صلوٰۃ الحاجت پڑھنا اوراللہ سے مددطلب کرنایہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔(سنن ابی دائود،باب قیام النبی من اللیل187/1)۔جب بھی حضوراقدس ﷺکو کوئی تشویش کا معاملہ پیش آتا،کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپﷺ نماز کی طرف دوڑتے ۔

 صلوٰۃالحاجت پڑھنے کے بعد دعاکرے : ’’اے اللہ! یہ مشکل آگئی ہے ،آپ اس کو دورفرمادیجئے‘‘۔ایمان والوں کوچاہئے کہ وہ اپنے مقاصدمیں کامیابی اوراسباب کے بجائے مسبب الاسباب پریقین وایمان کی زیادتی کیلئے صلوٰۃ الحاجت کاخوب اہتمام کریں۔اگرنماز کاموقع یا وقت نہ ہو،تو دعاکرے اور حدیث میں مذکور دعا بھی پڑھے ،اپنی ہر ضرورت کواللہ کے بارگاہ میں پیش کرے خواہ وہ ضرورت چھوٹی ہویابڑی ۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا:تم ہرضرورت کو اللہ سے مانگو، یہاں تک کہ نمک کی ضرورت پیش آئے تووہ بھی اللہ سے مانگو  اگر تمہارے جوتے کاتسمہ ٹوٹ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ سے مانگو۔(جامع ترمذی، ابواب الدعوات ،201/1)

چھوٹی ضرورت بڑی ضرورت بندوں کے نزدیک ہے اللہ تعالی کے نزدیک سب برابرہیں اللہ کے نزدیک ہرکام چھوٹا اوراس کیلئے ہرکام آسان ہے۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ غم، ٹینشن اورپریشانیوں کے موقع پر یہ دعا پڑھتے تھے ’’لا اِلہ ِالا اللہ العظِیم الحلِیم، لا اِلہ اِلا اللہ رب السمواتِ والارضِ، ورب العرشِ العظِیم‘‘(صحیح بخاری:4325)۔ نسائی شریف کی روایت میں مذکور ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے علیؓ! جب تم پر کوئی مصیبت یا پریشانی آئے، تو مذکورہ دعا پڑھو، علامہ طبری فرماتے ہیں: اکابراس دعاکو دعاء الکرب کے نام سے یادکرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ساری انسانیت کو بطور خاص امت مسلمہ کوتمام دنیوی دینی پریشانیوں اور آفتوں سے عافیت و سلامتی نصیب فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

باہمی معاملات کے اسلامی اُصول

’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘(القرآن) قرآن وسنت میں متنازع معاہدوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو! خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے‘‘( شعب الایمان ) ’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘(صحیح بخاری)

مسجد میں حاضری کا سلیقہ

سنت یہی ہے کہ گھر سے جب چلنے لگے تو پہلے وضو کرلیا جائے پیدل مسجد آنا باعثِ کفارۂ گناہ ہے،وقت ہو تو مسجد آکر پہلے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں

شکرِ نعمت، رحمتِ الٰہی کا سبب

’’ تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘(البقرہ)

مسائل اور ان کا حل

عصرسے پہلے کی 4 سنتیں ادا کرنے کا طریقہ سوال :نماز عصر سے پہلے کی 4 سنتوں کو کیسے پڑھا جاتا ہے ؟یعنی دوسری رکعت میں جب بیٹھا جاتا ہے تو کیا التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھا جائے گا؟ (اکبر علی، بہاولپور)

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔