2026:عا م انتخابات کی تیاری اورجوڑ توڑ
2026ء کا سال آزاد جموں و کشمیر کے لیے عام انتخابات کے حوالے سے اہم ہے۔عام انتخابات رواں سال جولائی میں ہو رہے ہیں، اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے انتخابات کیلئے مسلم لیگ (ن) الیکٹ ایبلز کو شامل کر رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے میر اکبر جو 2021ء کا الیکشن باغ سے جیتے تھے دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔ میر اکبر سال 2016ء کا الیکشن بھی مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر جیتے تھے اور پھر 2021 ء میں ( ن) لیگ کو خیر باد کہہ کر کے پی ٹی آئی کے کھلاڑی بن کر بلے کے نشان کے نشان پر الیکشن جیت گئے۔ ضلع مظفر آباد سے ایل اے31 مظفرآباد 5 کھاوڑہ سے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے امیدوار راجہ ثاقب مجید نے بھی مسلم لیگ ( ن) میں شمولیت اختیار کی ہے۔ راجہ ثاقب مجید 2021ء کا الیکشن پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر لیڈر اور سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر سے چند سو ووٹوں سے ہار گئے تھے اور مسلم لیگ ( ن) کا ٹکٹ ملنے کے بعد راجہ ثاقب مجید اور پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔ ادھر وسطی باغ سے مسلم لیگ ( ن) کے سینئر نائب صدر مشتاق منہاس کے انتخابی حلقے سے نارمہ برادری سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیر ڈاکٹر راجہ محمد خان کے شامل ہونے کے بعد ان کی پوزیشن اور مضبوط ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار بر یگیڈئیر محمد خان کی شمولیت کو مسلم لیگ ( ن) کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد جموں و کشمیر شاہ غلام قادر نے آزاد جموں و کشمیر انتخابات 2026ء میں جماعتی ٹکٹ کے حصول کیلئے درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ میں توسیع کی منظوری دی ہے۔جماعتی ٹکٹ کے خواہش مند امیدواران اب 10جنوری تک اپنی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کو آزاد جموں و کشمیر میں اقتدار کو سنبھالے ایک ماہ ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی جمود کو توڑا ہے اورسیاسی کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلنے کاعندیہ دے رہے ہیں۔کئی سالوں سے غیر فعال پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو قائم کر کے رکن قانون ساز اسمبلی عبد الماجد خان کو اس کا چیئرمین بنادیا گیا۔ صحت اور دیگر سرکاری محکمہ جات کی متعدد مجالس قائمہ قائم کر کے بھی 2026ء میں اچھی شروعات کی گئیں۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی ایک ماہ کی حکومتی کارکردگی خوش آئند ہے۔ انہوں نے جس بردباری، سیاسی تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔
ادھرمنگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، وفاقی وزیر رانا محمد قاسم نون کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر و سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کر کے کشمیر ی عوام کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں کہ آیا وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔مسئلہ جموں وکشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے نوجوانوں، دانشوروں اور میڈیا کا متحدہ بیانیہ ناگزیر ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت پر مبنی ہونا چاہے اور اس میں رائے شماری کے علاوہ کوئی اور بات نہ ہو۔ قومی نصاب میں کشمیر سٹڈیز، کشمیری ثقافت اور آزادیٔ جموں و کشمیر کے موضوعات شامل کیے جائیں۔عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے نوجوانوں میں مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے آگاہی ضروری ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے۔
بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے جبکہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کشمیریوں کا خون بہا رہی ہے۔ بھارت کے اندر کشمیری شالوں کے کاروبار سے وابستہ کشمیری لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کی ترجیح اول تحریک آزادی مقبوضہ جموں و کشمیر ہے۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ہمیں اس بات پر اطمینان ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پاکستان کی قومی اور خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ دوسری جانب مختلف اوقات میں غیر جانبدار تحقیقی اداروں سے جو اعداد شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق آزاد جموں و کشمیر پہلے ہی پاکستان کا حصہ بن چکا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں موجود 21 لاکھ آبادی میں سے 10لاکھ سے زائد لوگ پاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد ہیں اور بہترین روزگار کما رہے ہیں جبکہ ان 10 لاکھ کے علاوہ مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر جو 1947 ء سے لے کر مختلف ادوار میں 1989ء تک ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے ان کی تعداد بھی 25 لاکھ سے زائد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقبوضہ و آزاد جموں و کشمیر کے لوگ پہلے ہی الحاق پاکستان کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اب یہ موقع مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کو فراہم کرنے کیلئے ہر ایک شہری نے اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرنا ہے۔