سید علی گیلانی ،عظیم حریت لیڈر!
سید علی گیلانی فرد نہیں تحریک تھے۔زندگی کی آخری سانسوں تک وہ اس تحریک کے مردِ مجاہد کے طور پر ثابت قدم رہے۔جس تحریک سے وہ اصلاً وابستہ تھے۔
وہ تحریک اسلامی ہے اور جس تحریک کے وہ قائد و سالار، نفس ناطقہ اور روح رواں تھے وہ تحریک آزادیٔ کشمیر ہے۔وہ تحریک آزادیٔ کشمیر کو تحریک تکمیل پاکستان سمجھتے،کہتے اور بیان کرتے تھے اور ان کے لفظ لفظ سے کشمیر بنے گا پاکستان کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔
ہم جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کوئی سرحد ی تنازع نہیں،یہ ڈیڑھ کروڑ جیتے جاگتے انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔اس مسئلہ کا ایک فریق بھارت ہے کہ وہ ناجائز قابض ہے اس نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی آٹھ لاکھ افواج اتاری ہیں،اس نے رائے شماری کو تسلیم کرکے اس سے غداری کی ہے۔ بھارت اہلِ کشمیر پر بدترین مظالم ڈھارہا ہے۔وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کرکے امن عالم کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ بھارتی حکمران اور سیاستدان اگرچہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تقسیم برصغیر کے فارمولا کو نظر انداز کرکے مسلم اکثریتی علاقہ پر زبردستی قابض ہیں اس کے باوجود ان کی زبانوں اور بیانوں میں ایک ہی مؤقف رہتا ہے کہ ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے‘‘دوسرا فریق پاکستان اور اصل فریق کشمیر ی عوام ہیں۔یہاں کے عوام بھی مسئلہ کشمیر پر یکسو ہیں۔وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کو واحد اور متفقہ قومی کشمیر پالیسی سمجھتے ہیں۔
وہ ہر سال 5فروری کو پاکستان کے گلی کوچوں میں ہی نہیں دنیا بھر کی سڑکوں شاہراہوں پر یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں اور قاضی حسین احمد مرحوم کے صدقہ جاریہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں لیکن پاکستانی حکمرانوں میں یکسوئی کا بحران رہتا ہے۔ کبھی چار نکات،کبھی 12نکات،کبھی چناب فارمولا،کبھی یونائیٹڈ سٹیٹ آف کشمیر،کبھی محض لفاظی،کبھی صرف نعرے کبھی کھوکھلے جملے اور کبھی بے جان بے روح بیان بازی،اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے بعض رہنما بھی آزادی کشمیر کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے کبھی کبھی پھر بھارت سے ہی امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں۔
ایسے میں سید علی گیلانی استقامت کا کوہ گراں بن کر مسلسل بر سرپیکار رہے ہیں،انسان حیران ہوتا ہے کہ اتنی یکسوئی،اتنی استقامت،اتنا صبر،اتنی قربانیاں! ’ یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں‘۔وہ جب لاکھوں کے مجمع میں ’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘ کے مسلسل نعرے لگواتے تو دل سینوں سے اچھل کر باہر آ جاتے۔ نوجوان تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار ہوجاتے اور بھارتی سامراج سے نہتے ٹکرا جاتے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کی جدوجہدکے تین پہلو انتہائی نمایاں ہیں۔(1):وہ بھارت کو غاصب، ناجائز قابض اور سامراج و استبداد سمجھتے تھے۔ (2):وہ کشمیر بنے کا پاکستان کے قولاً فعلاً علمبردار تھے۔ (3):وہ پر امن جدوجہد کے ساتھ ساتھ راہ جہاد کو اختیار کرنے کے قائل ہوچکے تھے۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام،مردو زن،بچے بوڑھے ان پر بے پناہ اعتماد کرتے اور ان سے بھرپور محبت کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک اعلان پر کشمیر کے طول و عرض میں ہڑتال ہوجاتی،لوگ سڑکوں پر آتے۔جلوسوں میں پاکستانی پر چم لہرائے جاتے ہیں۔گھروں پر سبز ہلالی پرچم سر بلند ہوتا ہے۔شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا۔14اگست کو یوم آزادی منایا جاتا ہے جبکہ بھارت کا یوم آزادی 15اگست کشمیریوں کیلئے یوم سیاہ ہے۔ان کی گھڑیوں کے وقت پاکستان کے مطابق ہیں۔سید علی گیلانی کے نفس گرم کی تاثیر سے کوچہ کوچہ آزادی کے چراغ جلتے اور حریت وطن کے پھول مسکراتے ہیں۔
سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کے سب سے بڑے وکیل،سب سے بڑے قائد،سب سے بڑے جنگجو تھے۔انہوں نے بھارتی وزیراعظم وی پی سنگھ کے نام 31دسمبر 1989ء کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو خط لکھا۔وہ کشمیر کے مقدمہ کی سب سے مضبوط،مدلل،تاریخی حوالوں سے بھرپور اور بجائے خود ایک تاریخی دستاویز ہے۔
طلبہ کیلئے ان کادور طالب علمی بھی ایک مثال ہے،وہ دوشخصیات سے متاثر ہی نہیں ان کو اپنا مرشد سمجھتے تھے، وہ ہیں علامہ اقبالؒ اور سید ابواعلیٰ مودودی۔وہ اقبال ؒ کے مرد مومن اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مرد صالح تھے۔ 33کتابوں کے مصنف سید علی گیلانی علم و عمل کا کوہ ہمالیہ تھے۔انہوں نے اپنی کتابوں میں مشرقی پاکستان میں دی جانے والی قربانیوں کو بہترین خراج تحسین و محبت اپنی روداد زنداں میں پیش کیا۔