تعصب : خاموش سماجی ناسور

تحریر : مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی


’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قومیں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو‘‘ (سورۃ الحجرات)

آج سے ساڑھے چودہ سوسال قبل نبی اکرم ﷺ نے اعلان فرما دیا ہے کہ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، سوائے تقویٰ کے، یعنی تقویٰ معیار فضیلت ہے، دوسری کوئی چیز قابل اعتنا نہیں ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تعارف کیلئے خاندان اور قبائل بنائے، لیکن برتری اور عظمت کا معیار تقویٰ کو قرار دیا۔ رب العالمین نے بنی آدم کے اکرام کا اعلان کیا اور انسانوں کی تخلیق کو احسن تقویم یعنی تمام مخلوقات میں سب سے اچھی شکل و صورت والا سے تعبیر کیا۔

 حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے، یعنی انسانی معاملات میں کسی اور بنیاد پر تفریق کی گنجائش نہیں ہے۔ مساوات کی اسی بنیاد پر حضرت بلال حبشی ؓ موذن رسول بنے۔

 فاطمہ بنت قیس سے چوری کا عمل سر زد ہوا تو آقاﷺ نے ارشاد فرمایا اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی ہوتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جاتا۔ بعض موقعوں پر جب اپنے اپنے قبیلے کو لوگ آواز دینے لگے تو اللہ کے رسول ﷺ نے اسے جاہلی پکار قرار دیا اور اس پر نکیر فرمائی۔

 حضرت موسی علیہ السلام کا واقعہ قرآن میں مذکور ہے جس میں انہوں نے اسے شیطان کے عمل سے تعبیر کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس قسم کے تعصب پر قابو رکھنے کیلئے اعلان کر دیا کہ تمام ایمان والے بھائی بھائی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ ہجرت کے بعد جو مواخا ت کو رواج دیا اور مہاجر وانصار کے درمیان مثالی اخوت قائم فرمائی، وہ انہیں احکام کا عملی مظہر تھا۔ تمام قسم کی عصبیت کو ختم کرنے کیلئے ہی اسلام نے یہ واضح کیا کہ اس کائنات کا رب، رب العالمین ہے، اس کے آخری رسول محمدﷺ ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور اللہ رب العزت کی آخری کتاب قرآن کریم ہے جو ھدی للعالمین ہے، یعنی ذات، برادری، علاقائیت کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں جو کچھ ہے سارے جہاں کیلئے ہے، اور سب کیلئے ہے۔

تعصب  ایک نفسیاتی بیماری ہے، جس کی وجہ سے انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے، اور وہ اپنے خول سے باہر نہیں نکل پاتا۔ اس کے باوجود مسلم معاشرے میں تعصب نے اس قدر جگہ بنالی ہے کہ ہم اس سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہوتے، اپنے خاندان، اپنے علاقے، اپنی برادری، اپنی زبان وغیرہ سے محبت فطری ہے اور یہ محبت مذموم بھی نہیں ہے، مکہ اور کعبۃ اللہ سے جو محبت آپ ﷺ کو تھی ، اسی وجہ سے تو تحویل قبلہ کیلئے بار بار آسمان کی طرف آپﷺ دیکھا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس طرح کی فطری بنیاد کو ختم نہیں کیا جا سکتا،اسی لیے اپنے قوم کو عزیز رکھنے کوعصبیت قرار دیا گیا۔

عصبیت اپنے قوم کی بے جا طرفداری اور بے جا حمایت کا نام ہے۔ ابن ماجہ کی روایت ہے کہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنے قوم وجماعت کی ظلم و زیادتی کے معاملہ میں مدد کرے، صرف اپنے خاندان، قبیلے، ذات برادری، علاقے کو فیصلے کی بنیاد بنانا، اپنے لوگ ظلم پر ہوں اس کے باوجود ان کا تعاون کرنا، بے جا رعایت، طرفداری، بے جا حمایت، حقیقت ظاہر ہو جانے کے بعد بھی حق بات سے انکار اور صرف اس بنیاد پر عہدے تفویض کرنا، ترقی دینا یہ تعصب ہے اور شریعت کی نظر میں مذموم اور نا پسندیدہ عمل ہے اور اس قدر نا پسندیدہ ہے کہ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو تعصب پر مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا،اور وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

 ارشاد فرمایا ، وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے، وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر جنگ کرے اور نہ وہ ہم میں سے ہے جو عصبیت پر مرے۔اس وعید کا تقاضہ ہے کہ ہم لازماً ان بنیادوں پر کوئی فیصلے نہ لیں، بلکہ انصاف کریں، خواہ وہ اپنی ذات، اپنے والدین ، اپنے عزیز واقربا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی قوم کی دشمنی تم کو نا انصافی پر نہ ابھارے، انصاف کیا کرو، کیوں کہ یہ تقویٰ سے قریب ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے دوسرے احکام شرعیہ کی طرح اس حکم کو بھی فراموش کر دیا، اب ہمارے تعلق اور فیصلہ کی بنیاد میرا بھائی، میرا خاندان ، میرا ضلع، میرے لوگ، میرا علاقہ، میرے معتقدین، میرے فدائین ہیں، صلاحیتوں کا اعتبار نہیں، تعلقات کا اعتبار ہے، جس کی وجہ سے ملکی سیاست سے لے کر ادارے، تنظیموں، اور جماعتوں تک میں بہت سارے فیصلے تعصب کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔ وہ لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں، جنہوں نے ملک وملت کیلئے کچھ نہیں کیا ہوتا ہے، بس ان کی صلاحیت یہ ہوتی ہے کہ وہ متعلقہ ذمہ دار کے علاقے کے ہیں، یا ان کے بھائی اور رشتہ دار ہیں۔

خاندانی اور علاقائی تعصب کے علاوہ لسانی تعصب نے بھی ہمارے درمیان جگہ بنالی ہے، اس حوالہ سے بھی مختلف علاقوں میں جنگ وجدل کا بازار گرم رہا ہے۔ یہی حال برادرانہ تعصب کا ہے، چھوٹی ذات، بڑی ذات کے جھگڑے عام ہیں، حالاں کہ اسلام نے جو مساوات کا سبق ہمیں پڑھایا ہے اس کی روشنی میں نہ کوئی طبقہ اشراف سے ہے اور نہ کوئی طبقہ ارذال ۔

علاقائی تعصب بھی ، عصبیت کی بد ترین قسم ہے، کون کس علاقہ کا ہے اس بنیاد پر بھی فیصلے ہمارے یہاں عام ہیں، علاقائی تعصب کا دائرہ ریاست سے شروع  ہو کر ، ضلع، بلاک ، گائوں اور خاندان تک پہنچ جاتا ہے ۔

عصبیت جس قسم کی بھی ہو، نسلی ہو یا لسانی، طبقاتی ہو یا مذہبی ، علاقائی ہو یا جماعتی مہلک نفسیاتی بیماری ہے۔ جس شخص میں ایسا تعصب پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی جسمانی موت چاہے نہ ہو، لیکن روحانی، ایمانی اور اخلاقی موت ہو جاتی ہے۔ وہ اس زمین پر چلتا پھر تا ہنستا، بولتا ہے، لیکن حقیقتاً وہ ایک لاش ہوتا ہے، جس سے عصبیت کی بدبو آتی رہتی ہے۔اسی لیے میں نے اسے مہلک نفسیاتی بیماری کہا ہے۔

اللہ پاک لکھنے والے کو پڑھنے والے کو سننے والے کو شائع کرنے والے کو  یعنی ہر ایک کو اس مہلک نفسیاتی بیماری سے محفوظ رکھے (آمین یارب العالمین)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

ہوشیار مرغی

کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بادل مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟

بدمزاجی

بدمزاجی یا بد مزاج ہونا معاشرہ کا ایک انتہائی منفی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ منفی ہی سمجھا جانا چاہئے۔ بدمزاجی کا مترادف یا الٹ خوشی مزاجی ہے۔

ذرا مسکرایئے

ماں: (بیٹے سے) اگر تم اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تو ایک قلم انعام میں دوں گی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

٭… کولاس (koalas) اور انسان ہی دنیا کے وہ جاندار ہیں جن کے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں۔