شیمپو کے قدرتی متبادل، فوائد اور احتیاط

تحریر : تابندہ صدیقی


جدید دور میں شیمپو بالوں کی صفائی کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مصنوعات میں شمار ہوتا ہے۔شیمپو کو صحت مند، چمکدار اور مضبوط بالوں کی ضمانت سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں اس کے مسلسل اور بے احتیاط استعمال سے بالوں کو کئی طرح کے نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔

 خاص طور پر خواتین کے لیے جن کے بال عموماً لمبے، نازک اور کیمیائی اثرات کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔زیادہ تر شیمپو میں سلفیٹس (SLS، SLES)، پیرا بینز، سلیکون اور مصنوعی خوشبوئیں شامل ہوتی ہیں۔ سلفیٹس جھاگ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر یہ بالوں میں قدرتی تیل کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں جس سے بال خشک، بے جان اور ٹوٹنے لگتے ہیں۔مسلسل شیمپو کرنے سے بالوں کی جڑیں بھی کمزور ہو سکتی ہیں۔ 

خاص طور پر ہارمونل تبدیلیوں کے دوران خواتین میں شیمپو کا زیادہ استعمال بالوں کے جھڑنے کو تیز کر دیتا ہے۔شیمپو کا بار بار استعمال بالوں کی نمی ختم کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں خشکی، خارش اور بعض اوقات دانے بھی نکل آتے ہیں۔ اینٹی ڈینڈرف شیمپو بھی وقتی فائدہ دیتے ہیں مگر مسئلے کی جڑ کو ختم نہیں کرتے۔ کیمیائی اجزابالوں کی اوپری حفاظتی تہہ (cuticle) کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے بالوں کی قدرتی چمک ختم ہو جاتی ہے اور وہ روکھے اور بے جان دکھائی دیتے ہیں۔حساس جلد والی خواتین میں شیمپو الرجی، جلن اور سرخی کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ مسئلہ چہرے اور گردن تک بھی پھیل جاتا ہے۔

خواتین کیلئے قدرتی اور محفوظ متبادل

شیمپو کے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے خواتین قدرتی متبادل استعمال کر سکتی ہیں جو صدیوں سے آزمودہ بھی ہیں اور بالوں کے لیے محفوظ بھی۔

 ریٹھا:ریٹھا قدرتی صابن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسے پانی میں ابال کر اس کا محلول تیار کیا جاتا ہے جو بالوں کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی چمک بھی دیتا ہے۔ یہ بالوں کو نقصان پہنچائے بغیر صفائی کرتا ہے۔

شیکاکائی: شیکاکائی بالوں کی جڑوں کو مضبوط بنانے اور خشکی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسے پیس کر یا ابال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شیکاکائی بالوں کی قدرتی نشوونما کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔

 آملہ: آملہ نہ صرف بالوں کی صفائی میں مدد دیتا ہے بلکہ سفید بالوں کی روک تھام اور بالوں کو مضبوط بنانے میں بھی مؤثر ہے۔ آملہ پاؤڈر کو شیکاکائی اور ریٹھا کے ساتھ ملا کر بہترین قدرتی شیمپو تیار کیا جا سکتا ہے۔

 بیسن: بیسن ایک سادہ مگر مؤثر متبادل ہے۔ یہ سر سے اضافی تیل اور میل کو صاف کرتا ہے اور بالوں کو نرم رکھتا ہے۔ بیسن میں دہی یا پانی ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دہی: دہی قدرتی کنڈیشنر کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ بالوں کو نمی فراہم کرتا ہے اور خشکی کم کرتا ہے۔ ہفتے میں ایک بار دہی کا استعمال بالوں کو صحت مند بناتا ہے۔

 ایلوویرا: ایلوویرا جیل سرکو سکون دیتا ہے، خارش کم کرتا ہے اور بالوں کی افزائش میں مدد دیتا ہے۔ اسے اکیلا یا دیگر قدرتی اجزا کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قدرتی متبادل استعمال کرتے وقت احتیاط

ابتدا میں شیمپو سے قدرتی متبادل کی طرف آتے وقت بال کچھ دن کھردرے محسوس ہو سکتے ہیں مگر یہ عارضی ہوتا ہے۔ ہفتے میں دو سے تین بار سے زیادہ بال نہ دھوئیں۔بالوں کی قسم (خشک، چکنے یا نارمل) کے مطابق اجزاکا انتخاب کریں۔اگرچہ شیمپو فوری صفائی اور خوشبو فراہم کرتا ہے مگر اس کے طویل المدتی منفی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛چنانچہ خواتین کے لیے بہتر ہے کہ وہ قدرتی متبادل کو اپنی روزمرہ روٹین کا حصہ بنائیں جو نہ صرف بالوں کو صحت مند رکھتے ہیں بلکہ کسی قسم کے کیمیائی نقصان سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ قدرتی طریقے اپنانا وقت طلب ضرور ہے مگر اس کے نتائج دیرپا اور فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وادی تیراہ سے نقل مکانی

حقائق، سیاست اور دہشت گردی کی معیشت

لاہور میں بسنت کا تہوار

سیاسی ڈائیلاگ کیوں حقیقت نہ بن پایا؟ انتظامی اقدامات، انسانی جانیں محفوظ رہیں گی؟

کراچی، مسائل اور سیاست

’’ہمارے لیے تالیاں نہ بجائیں بلکہ ہمیں گالیاں دی جائیں تب ہی ہم سدھریں گے‘‘ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ جملہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک شہری کی بیٹی کو پلاٹ دینے کے موقع پر بولا۔

تیراہ سے نقل مکانی کا ذمہ دار کون؟

تیراہ سے شدید سرد موسم میں نقل مکانی جاری ہے۔ برف باری سے متعدد مقامات پر راستے بند ہیں۔ اس موسم میں نقل مکانی کرنے والوں پر کیاگزری یہ الگ کہانی ہے لیکن اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔

مؤثر کارروائیاں، بھر پورنتائج

بلوچستان میں حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم اور یکسو ہیں۔

کون بنے گا چیف الیکشن کمشنر ؟

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن کمشنر کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیر اعظم پاکستان و چیئر مین کشمیر کونسل محمد شہباز شریف کو بھیج دیاہے۔