کون بنے گا چیف الیکشن کمشنر ؟
آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن کمشنر کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیر اعظم پاکستان و چیئر مین کشمیر کونسل محمد شہباز شریف کو بھیج دیاہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف تین میں سے ایک نام کی منظوری دے کر سمری وفاقی وزارت امور کشمیر کے ذریعے حکومت آزاد کشمیر کو بھیج دیں گے جہاں مظفرآباد میں وزار ت قانون و پارلیمانی امور صدر آزاد جموں و کشمیر کی منظوری کے بعد نئے الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گی۔آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر کی آسامی کیلئے جو پینل بھیجا گیا ہے اس میں آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جج سردار حمید خان کو شامل کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ خواجہ نسیم اور سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ مصطفی مغل کے نام پہلے سے پینل میں موجود تھے۔ جسٹس ریٹائرڈ خواجہ نسیم کو (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ خواجہ نسیم کا تعلق وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کے انتخابی حلقہ ایل اے17حویلی کہوٹہ سے ہے۔ خواجہ نسیم کا تعلق کشمیری برادری سے ہے جن کا اس انتخابی حلقے میں گجر برادری کے بعد سب سے زیادہ ووٹ بینک ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ خواجہ نسیم کے چیف الیکشن کمشنر بننے کی صورت میں جولائی کے انتخابات میں فیصل ممتاز راٹھور کو ماضی کے مقابلے میں کشمیری برادری سے اضافی ووٹ ملنے کے امکان بڑھ جائیں گے۔ سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ غلام مصطفی مغل کو مسلم لیگ (ن) جبکہ سابق جسٹس سردار حمید خان کو مسلم لیگ (ن) پلندری کے امیدوار اور سابق وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے رکن قانون ساز اسمبلی حسن ابراہیم کی حمایت حاصل ہے۔ سابق جسٹس سردار حمید خان کا نام چیف الیکشن کمشنر کے پینل میں سیاسی جماعتوں کی حمایت سے زیادہ سدھن برادری کی بنیاد پر ڈالا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر میں گجر، جاٹ اور راجپوت برادری کے بعد سدھن قبیلہ سب سے بڑی برادری ہے۔
ادھر مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے 27 جنوری کو بھارت کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک پر جھوٹے مقدمات کے خلاف اور ان کی رہائی کیلئے ہڑتال کی اور عزیز چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی۔ احتجاجی ریلی میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران سمیت تاجر برادری، سیاسی و سماجی کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ محمد یاسین ملک لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے کشمیری عوام کی آواز ہیں اور ان کی غیر قانونی قید، جھوٹے مقدمات اور وکلا تک رسائی نہ دینا انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ مقررین نے عالمی برادری، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حریت لیڈر محمد یاسین ملک کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں، بھارت پر دباؤ ڈالیں اور نئی دہلی کی حکومت پر زور دیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم بند کرے اور محمد یاسین ملک سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے جو گزشتہ 36 سالوں سے بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ احتجاجی ریلی کے بعد جموں کشمیر مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قید سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ شہریوں کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن میں یادداشت پیش کی گئی۔
محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو بھارت سزائے موت دینا چاہتا ہے۔ مظفرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ اگر فلسطین کے مسئلے پر عالمی سطح پر بورڈ آف پیس بنایا جا سکتا ہے تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر عالمی برادری خاموش کیوں ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے بورڈ آف پیس کیوں نہیں بنایا جا رہا ؟انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالتوں نے یاسین ملک کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا تو یہ محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ اعلانِ جنگ ہو گا۔یاسین ملک کی اہلیہ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جس طرح بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا گیا تھا اسی طرح یاسین ملک کا مقدمہ بھی عالمی عدالت میں لے جا کر بھارت کاچہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے۔
آزاد جموں وکشمیر میں سوموار 26 جنوری کو بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ بھارت مخالف احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالے گے اور عالمی برادری سے جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کیلئے مسئلہ جموں و کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے زور دیا گیا۔دارالحکومت مظفرآباد سمیت آزادکشمیر کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں یوم سیاہ کے موقع پر بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کئے گے۔ برہان وانی چوک سے احتجاجی ریلی نکالی گی جس میں شرکانے بھارت کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ شرکانے بھارت مخالف نعرے لگائے جبکہ جیوے جیوے پاکستان کے نعروں سے بھی فضاگونج اٹھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس، پاسبان حریت سمیت مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کی طرف سے بھی جلسوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ وادی نیلم، جہلم ویلی، باغ، راولاکوٹ، کوٹلی، میرپور اور بھمبر کے علاقوں میں بھی یوم سیاہ کے موقع پر ریلیاں نکالی گئیں اور عالمی برادری سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف مداخلت کی اپیل کی گئی۔