تیراہ سے نقل مکانی کا ذمہ دار کون؟
تیراہ سے شدید سرد موسم میں نقل مکانی جاری ہے۔ برف باری سے متعدد مقامات پر راستے بند ہیں۔ اس موسم میں نقل مکانی کرنے والوں پر کیاگزری یہ الگ کہانی ہے لیکن اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہناہے کہ تیراہ سے انخلا کا بیان صوبائی اور وفاقی حکومت کے مابین تصادم کا پروانہ ہے اور یہ چوبیس رکنی کمیٹی کو دھمکانے کے مترادف ہے۔ان کا کہناتھاکہ وہ اس حوالے سے آفریدی قوم کا جرگہ بلائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ انہیں زبردستی نکالا گیا یا وہ رضاکارانہ طورپرگھروں سے نکلے؟یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟کیا سہیل آفریدی ان لوگوں کو واپس لے کر جائیں گے، اور اگر بادل نخواستہ ایسے میں کسی قسم کاتصادم ہوا تو اس کا ذمہ دارکون ہوگا؟معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کو خط لکھا ہے کہ صوبائی حکومت کا تیراہ متاثرین کی امداد کے حوالے سے 26دسمبر کا اعلامیہ ریلیف اور بحالی کی تیاریوں سے متعلق تھا اس اعلامیے کو کسی مخصوص سکیورٹی حکمت عملی یا غیر معینہ مدت تک جاری سکیورٹی کارروائیوں کی منظوری نہ سمجھا جائے۔یہ بیانات کنفیوژن پیدا کررہے ہیں۔یہ بات مدنظررکھنا ضروری ہے کہ تیراہ سے نقل مکانی کے عمل میں ضلعی انتظامیہ بھی شامل تھی۔
اے سی سے لے کر ڈی سی اور چیف سیکرٹری سے لے کر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ تک۔ جو بھی عمل ہوا وہ ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ہوا۔ ایسے میں جو بھی فیصلے ہوئے یہ کہہ دینا کہ اس میں صوبائی حکومت کی منشا شامل نہیں تھی غلط بیانی ہوگی۔گزشتہ چند ماہ سے تیراہ کے مقامی قبائل اور شدت پسندوں میں مذاکرات جاری تھے، ایک جرگہ تشکیل دیاگیاتھا جس نے شدت پسندوں سے مذاکرات کے کئی دور کئے تاہم شدت پسند علاقہ چھوڑنے پر راضی نہیں ہوئے۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس علاقے میں اب کوئی ایک دہشت گرد گروپ نہیں بلکہ متعدد گروپ موجود ہیں جن سے الگ الگ بات کی جانی تھی۔یہ بھی ایک بڑامسئلہ تھا جس کا کوئی حل نہیں تھا۔دوسری صورت میں قبائلیوں کو خود امن لشکر تشکیل دے کر ان کے خلاف لڑناتھا جو اُن کے بس کی بات نہیں تھی۔ لامحالہ سکیورٹی فورسز کو اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کابیڑہ اٹھانا پڑا۔گزشتہ چند ماہ کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کے جتنے بھی واقعات ہوئے وہ دہشت گردوں کے آبادیوں میں پناہ لینے کی وجہ سے ہوئے۔
مقامی لوگوں کو بھی اس بات کااحساس تھا جس کی وجہ سے نقل مکانی ضروری سمجھی گئی۔نقل مکانی کا یہ سلسلہ کئی ماہ پہلے ہی شروع ہوجاناتھا لیکن مقامی جرگے نے کوشش کی کہ کسی طرح شدت پسندوں کو بات چیت کے ذریعے یہاں سے نکل جانے پر مجبور کیاجائے اور اس میں کئی ماہ لگ گئے۔ مقامی لوگ اپنی فصل بھی سنبھال کر نکلنا چاہتے تھے۔ اس میں کافی عرصہ گزرگیا اور موسم سرما میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔چوبیس رکنی جرگے کی موجودگی میں ایک معاہدہ ہوا، اس معاہدے پر عمائدینِ علاقہ کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اس تمام عمل میں شریک ہوئی۔صوبائی حکومت اگریہ کہتی ہے کہ یہ نقل مکانی زبردستی ہورہی ہے تو پھر اس کی طرف سے اعلامیہ کیوں جاری ہوا؟چار ارب روپے کیوں ریلیز کئے گئے؟رجسٹریشن کا عمل صوبائی حکومت کی مشینری نے کرنا تھااس میں کیوں تاخیر کی گئی ؟وزیراعلیٰ نے جب خود رجسٹریشن سنٹر کا دورہ کیاتو وہاں موجود عملے پر ڈانٹ ڈپٹ کیوں کی؟
اس میں دو رائے نہیں کہ نقل مکانی کا یہ وقت انتہائی نامناسب تھا۔شدیدسرد موسم کی پیش گوئی کی جاچکی تھی ایسے میں نقل مکانی کے اس عمل کو اس قدر تاخیر سے کیوں شروع کیاگیااور اگرشروع کیاگیا بھی تو اس کیلئے مناسب انتظامات صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں تھے؟صوبائی حکومت اگر کہتی ہے کہ اس انخلاکا اسے علم نہیں تو پھر اس تمام عمل میں ضلعی انتظامیہ کے جو افسر شامل تھے کیا وہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے بغیر اس کا حصہ بنے؟
تیراہ کے عوام اس لئے بھی قابلِ رحم ہیں کہ وہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں۔ایک طرف دہشت گرد ہیں جو اِن علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں دوسری جانب وفاقی اور صوبائی حکومت ہے جن میں سے کوئی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔خیبرپختونخوا دہشت گردی کی آگ میں گزشتہ تین دہائیوں سے جل رہا ہے۔ سوات میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔وہاں بھی ایسے ہی تاخیری حربے استعمال کئے گئے جس کی وجہ سے شدت پسندوں کو قبضہ کرنے کاموقع ملا۔ اس حوالے سے مقتدرہ کا مؤقف واضح ہے جو ریاست کی اس وقت پالیسی بھی ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔تیراہ میں کوئی بڑا آپریشن نہیں کیاجارہا بلکہ یہ ٹارگٹڈ آپریشن ہیں جو پہلے سے جاری ہیں۔تیراہ میں موسم کی شدت ویسے بھی اس وقت انتہائی زیادہ ہے، نقل مکانی کرنے والوں کو ایڈوانس ادائیگیاں کی جارہی ہیں، ماہانہ کرایہ بھی دیاجائے گا۔ایسے میں شہر میں دوماہ گزارنا سخت سردی میں گزارنے سے بہتر ہے، بشرطیکہ ان کے گھروں کو تباہ ہونے سے بچایاجائے۔
ماضی میں قبائلی اضلاع میں کامیاب آپریشن ہوئے مسئلہ ان آپریشنز کے بعد بنا جب ان علاقوں میں جنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں کو آباد کاری میں تبدیل کرنے کا وقت آیا۔بیوروکریسی کا سرخ فیتہ،کرپشن،اقربا پروری اور انتظامیہ اورحکومت کی غفلت وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان علاقوں کے عوام بری طرح متاثر ہوئے۔بیشتر متاثرین کو ان کا حق نہیں مل سکا۔یہ وہ خدشات اور شبہات ہیں جو قبائلی عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ ان کا گلہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے ہے جو ان علاقوں میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوسکیں نہ ہی ان کی دوبارہ آبادکاری کا عمل کامیابی سے مکمل کیاجاسکا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے قومی اتفاقِ رائے نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی بھی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ایسے نازک موقع پر جب خیبرپختونخوا دہشت گردی کی بھٹی بنا ہوا ہے قوم میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے مزید الجھن پیدا کی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے گزشتہ روز پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ کیلئے متعدد اضلاع کے دورے کئے گئے، اس میں دورۂ سوات کافی اہم ہے جہاں انہوں نے دھواں دھار تقاریرکیں اور کہا کہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا انتہائی تشویش کاباعث ہے۔ان بیانات سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ایسی فضاپیدا کی جارہی ہے کہ کنفیوژن پھیلے اوراصل جنگ جو دہشت گردی اور غربت کے خلاف ہے اس سے توجہ ہٹی رہے۔وزیراعلیٰ کی اسمبلی میں کی گئی تقریر کے بعد وفاقی وزیرداخلہ کو خود میدان میں آناپڑااوریہ بہتر بھی ہوا،سویلین قیادت کو اب بیانیہ بنانے کیلئے خود آگے آنا پڑے گا۔یہ کام مقتدرہ کیلئے چھوڑ دیاگیا اور سیاسی قیادت دوربیٹھے تماشا دیکھتی رہی تاہم اب ایسا نہیں چل سکتا، اس مسئلے کابار سیاستدانوں کو خود ہی اٹھاناہوگا۔