منٹو کی حقیقت نگاری

تحریر : انصار احمد شیخ


سعادت حسن منٹو ہماری ادبی تاریخ کا انتہائی اہم اور نا قابل فراموش فرد ہے۔ ادبی دنیا میں ایسی نابغہ روزگار شخصیت کی حیثیت کی جن حوالوں سے ہے۔

 ادبی افق پر وہ ایک مترجم ، خاکہ نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس ، مضمون نگار اور مکتوب نگار کے طور پر ابھرے اور ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کے انمٹ نقوش ثبت کر دیئے ، لیکن جس صنف نے انہیں منفرد مقام اور اہمیت و آفاقیت بخشی، وہ نثری ادب کی مقبول ترین صنف افسانہ نگاری تھی۔ منٹو نے اپنے تخلیقی شعور اور ذہن رسا سے علمی تحقیقات کے ذریعے اردو افسانے کے دامن کو مالا مال کر دیا۔ افسانوی ادب پر منٹو کا یہ احسان ہے کہ اردو افسانے کی تاریخ اس بار احسان سے کبھی سبک دوش نہیں ہوسکتی۔اردو افسانے میں پریم چند سے لے کر منٹوتک سماجی حقیقی نگاری کے رجحان کو بڑی مقبولیت حاصل رہی۔ اس درمیانی عرصے میں جد ید ادب کی ترقی پسند تحریک نے اس کی مقبولیت میں گراں قدر اضافہ کیا۔ بعد ازاں ترقی پسند تحریک اور سماجی حقیقی نگاری لازم و ملزم ہوگئے۔ منٹو نے بھی زیادہ تر سماجی حقیقی نگاری کے تحت ہی اپنے افسانوں کی بلند و بالا عمارت تیار کی ہے، جس میں رنگا رنگ رجحانات نے اس کے حسن کو دو چند کر دیا ہے۔

منٹو و ادب میں ایک بڑے حقیقت نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے تقریبا ًتین سو افسانے اور دو سو کے لگ بھگ خاکے ، مضامین اور ریڈیائی فیچر لکھے۔ آپ نے افسانہ نگاری میں بیک وقت کئی موضوعات پر طبع آزما ئی کی اور جن موضوعات پر قلم اٹھایا ان سب کا پورا پورا حق ادا کر دیا۔ اس طرح فن افسانہ نگاری میں انہوں نے حقیقت نگاری کی تمام خصوصیات کی مکمل پاسداری کی ہے۔ منٹو سے  قبل کی حقیقت نگاری کا تصور حقیقت کی تصویر ی پیش کش یا منجمد ترجمانی کا مفہوم رکھتا تھا جس میں کسی شے کو محض اس کے بالائی یا ظاہری حال میں دیکھنے دکھانے کا عمل ہوتا تھاجبکہ منٹو نے حقیقت کو سیال یا نامیاتی حالت میں جاننے پرکھنے اور اس کی داخلی و خارجی جہات کو دیکھنے کی سعی کی۔ جس سے ان کی تخلیقات میں نت ، نئی حقیقتوں کے اظہار کا ایک مؤثر اورنرالہ انداز سامنے آتا ہے۔ ان کے ہاں سیاسی، سماجی معاشی اور تہذیبی سطح پر زندگی کے بھاری بھر کم موضوعات اور پہلوؤں کی سچی تصویروں میں ہر سمت حقیقت کی گہری چھاپ موجود ہے۔ یہ تمام تصویریں حقیقت نگاری کے زیر اثر ہیں۔ زندگی کے تلخ شیریں موضوعات کی عکس ریزی کر کے انہوں نے حقیقت نگاروں کے گروہ میں اپنا نام درج کرایا ہے۔

 منٹو کی افسانہ نگاری کی وساطت سے ان کی حقیقت نگاری کی خصوصیات کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ منٹو کے افسانوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے ہاں حقیقت نگاری کی کوئی ایک مخصوص قسم نہیں ہے بلکہ ادب میں رائج حقیقت نگاری کی کم و بیش تمام اقسام منٹو کے یہاں مل جاتی ہیں۔ سماجی ، سیاسی ، اشتراکی ، رومانی اور تنقیدی حقیقت نگاری وغیرہ کے ذریعے انہوں نے زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کی جیتی جاگتی کتھا مرتب کی ہے لیکن ان سب میں سیاسی حقیقت نگاری کا رحجان سب پر حاوی ہے۔ جس سے کتنے ہی رجحانات کو اپنے اندر سمولیا ہے۔

سعادت حسن منٹو نے جس عہد میں اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا وہ تراجم کے عروج کا دور تھا۔1934ء میں وکٹر ہیوگو کے ناول کے ترجمہ: سرگذشتِ اسیرکی اشاعت نے منٹو کو صاحبِ کتاب بنا دیا تھا۔ بعد ازاں تر جمے کا سلسلہ چل نکلا اور پھر تو اتر سے روسی افسانوں کے تراجم کرنا شروع کر دیے، جوحامد علی خاں کے ممتازادبی رسالہ ’’ ہمایوں ‘‘ میں شائع ہوتے رہے۔ اسی عرصے میں منٹو نے رسالوں کے روسی اور فرانسیسی نمبر مرتب کر کے ادب میں اپنی غیر معمولی ذہانت و فطانت کی مہر ثبت کر دی۔ ترجمہ نگاری کے ساتھ مغربی ادب کے براہ راست اور عمیق مطالعے سے منٹو کے ابتدائی دور کے افسانوں پر گور کی ، گوگول ، چیخوف ، موپاساں اور وکٹر ہیوگوکے کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان مغربی مصنفین کی طرح منٹو کو بھی انسانی رویوں کے تہ بہ تہہ حقا ئق کو کھولنے میں بڑا درک حاصل تھا؛چنانچہ منٹو نے بھی سماجی زندگی کے اچھے ، برے ، صاف ستھرے اور کثیف و غلیظ پہلوؤں کو اس طرح بیان کیا کہ اس کے سارے نشیب وفراز ہمارے سامنے آ جاتے ہیں ۔ تقسیم سے قبل تک کے افسانوں میں انہوں نے موضوعی اعتبار سے ضرور کچھ نہ کچھ اخذو استفادہ کیا ، لیکن مجموعی طور پر ان کے افسانے اپنی الگ انفرادیت و شناخت رکھتے ہیں۔ جس طرز اور جدت پسندی کو انہوں نے آخر تک اختیار کیا ہے وہ صرف انہی سے مخصوص رہا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وادی تیراہ سے نقل مکانی

حقائق، سیاست اور دہشت گردی کی معیشت

لاہور میں بسنت کا تہوار

سیاسی ڈائیلاگ کیوں حقیقت نہ بن پایا؟ انتظامی اقدامات، انسانی جانیں محفوظ رہیں گی؟

کراچی، مسائل اور سیاست

’’ہمارے لیے تالیاں نہ بجائیں بلکہ ہمیں گالیاں دی جائیں تب ہی ہم سدھریں گے‘‘ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ جملہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک شہری کی بیٹی کو پلاٹ دینے کے موقع پر بولا۔

تیراہ سے نقل مکانی کا ذمہ دار کون؟

تیراہ سے شدید سرد موسم میں نقل مکانی جاری ہے۔ برف باری سے متعدد مقامات پر راستے بند ہیں۔ اس موسم میں نقل مکانی کرنے والوں پر کیاگزری یہ الگ کہانی ہے لیکن اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔

مؤثر کارروائیاں، بھر پورنتائج

بلوچستان میں حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم اور یکسو ہیں۔

کون بنے گا چیف الیکشن کمشنر ؟

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن کمشنر کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیر اعظم پاکستان و چیئر مین کشمیر کونسل محمد شہباز شریف کو بھیج دیاہے۔