تعلیم اور آگاہی‘ اعتماد کی بنیاد

تحریر : عائشہ جاوید


ہمارا معاشرہ تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور ان حالات میں خواتین کو کئی سماجی، معاشی اور نفسیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں سب سے نمایاں مسئلہ اعتماد کی کمی ہے جو اکثر تعلیم اور خود آگاہی کے فقدان سے جنم لیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تعلیم اور خود آگاہی نہ صرف خواتین کو بااختیار بناتی ہیں بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہیں۔ تعلیم کو عموماً ڈگری یا نوکری سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے حالانکہ تعلیم اصل میں سوچنے، سوال کرنے اور اپنے حقوق پہچاننے کا نام ہے۔ تعلیم یافتہ عورت اپنے گرد و پیش کے حالات کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے، غلط اور صحیح میں فرق کر سکتی ہے اور اپنے لیے بہتر فیصلے کر سکتی ہے۔ خواتین کے لیے تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انہیں سماجی دباؤ، روایتی جکڑبندیوں اور بے جا پابندیوں کے مقابلے میں مضبوط بناتی ہے۔ جب عورت کو یہ علم ہو کہ وہ آئین، قانون اور معاشرتی طور پر کن حقوق کی حامل ہے تو اس کے اندر خود بخود اعتماد پیدا ہوتا ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ خود آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔ خود آگاہی کا مطلب ہے:اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا،اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا،اپنی خواہشات، حدود اور مقاصد کو سمجھنا۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی توقعات کے مطابق زندگی گزاریں۔ نتیجتاً وہ اپنے خواب، رائے اور احساسات کو نظرانداز کرنا سیکھ لیتی ہیں۔ خود آگاہی اس خاموشی کو توڑتی ہے اور عورت کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کی آواز اہم ہے۔

 علم اور شعور، اعتماد کی بنیاد

اعتماد کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جب عورت علم حاصل کرتی ہے اور خود کو بہتر طور پر جانتی ہے تو وہ اپنی رائے بلا جھجک پیش کر سکتی ہے،فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی،ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ خواتین اگر تعلیم اور خود آگاہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو وہ گھریلو، تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں زیادہ پراعتماد نظر آئیں گی۔

گھریلو سطح پر خود اعتمادی

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اعتماد صرف دفتر یا باہر کی دنیا میں ضروری ہے ، حقیقت میں اس کی شروعات گھر سے ہوتی ہے۔ ایک باخبر اور خود آگاہ عورت بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے،گھریلو فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے،اپنے جذبات اور مسائل  کو واضح انداز میں بیان کر سکتی ہے۔جب عورت گھر میں خود کو کم تر محسوس نہیں کرتی تو اس کا مثبت اثر پورے خاندان پر پڑتا ہے۔

معاشی خود مختاری اور اعتماد

تعلیم یافتہ اور خود آگاہ خواتین معاشی طور پر بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ چاہے وہ ملازمت کریں، کاروبار کریں یا فری لانسنگ، معاشی خود مختاری عورت کو اعتماد، تحفظ اور خود داری فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں ہزاروں خواتین آن لائن کام، ہنر سیکھنے اور چھوٹے کاروبار کے ذریعے اپنی پہچان بنا رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم اور شعور مواقع پیدا کرتے ہیں۔

سماجی دباؤ کا مقابلہ

ہمارے ہاں خواتین کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘،’’یہ عورت کے شایانِ شان نہیں‘‘،’’خاموش رہنا بہتر ہے‘‘۔مگرتعلیم اور خود آگاہی عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ ہر سماجی دباؤ درست نہیں ہوتا۔ ایک باخبر عورت جانتی ہے کہ عزت خاموشی میں نہیں بلکہ خود کو پہچاننے اور صحیح مؤقف اپنانے میں ہے۔

رہنمائی کیلئے چند عملی نکات

 ٭تعلیم کا سفر کبھی نہ روکیں چاہے رسمی تعلیم ہو یا آن لائن کورسز، سیکھنا جاری رکھیں۔

 ٭مطالعہ اور تحقیق کی عادت ڈالیں ۔ کتابیں، مضامین اور مستند ذرائع شعور بڑھاتے ہیں۔

٭ اپنے آپ سے سوال کریں ۔ میں کیا چاہتی ہوں؟ میری صلاحیتیں کیا ہیں؟

٭ مثبت خواتین کا ساتھ اپنائیں ۔ ایسی خواتین جو حوصلہ دیں نہ کہ مایوس کریں۔

٭ اپنی رائے کا احترام کریں۔ اختلاف رائے رکھنا اعتماد کی علامت ہے، بدتمیزی نہیں۔

تعلیم اور خود آگاہی خواتین کے لیے محض ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد ہیں۔ ایک باخبر، خود شناس اور تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشن مثال قائم کرتی ہے۔ملک اور سماج کی حقیقی معنوں میں ترقی کے لیے خواتین کو تعلیم اور خود آگاہی کے ذریعے مضبوط اور پراعتماد بنانا ناگزیر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وادی تیراہ سے نقل مکانی

حقائق، سیاست اور دہشت گردی کی معیشت

لاہور میں بسنت کا تہوار

سیاسی ڈائیلاگ کیوں حقیقت نہ بن پایا؟ انتظامی اقدامات، انسانی جانیں محفوظ رہیں گی؟

کراچی، مسائل اور سیاست

’’ہمارے لیے تالیاں نہ بجائیں بلکہ ہمیں گالیاں دی جائیں تب ہی ہم سدھریں گے‘‘ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ جملہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک شہری کی بیٹی کو پلاٹ دینے کے موقع پر بولا۔

تیراہ سے نقل مکانی کا ذمہ دار کون؟

تیراہ سے شدید سرد موسم میں نقل مکانی جاری ہے۔ برف باری سے متعدد مقامات پر راستے بند ہیں۔ اس موسم میں نقل مکانی کرنے والوں پر کیاگزری یہ الگ کہانی ہے لیکن اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔

مؤثر کارروائیاں، بھر پورنتائج

بلوچستان میں حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم اور یکسو ہیں۔

کون بنے گا چیف الیکشن کمشنر ؟

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن کمشنر کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیر اعظم پاکستان و چیئر مین کشمیر کونسل محمد شہباز شریف کو بھیج دیاہے۔