مؤثر کارروائیاں، بھر پورنتائج
بلوچستان میں حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم اور یکسو ہیں۔
پشین، پنجگور اور تربت کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کی گئی کارروائیوں نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو بحال کیا ہے بلکہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے دوٹوک پیغام بھی دیا ہے۔پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی جس میں انتہائی مطلوب اشتہاری ملزم ثنااللہ آغا سمیت چھ خطرناک عناصر مارے گئے صوبے میں مربوط پولیسنگ نظام کی کامیابی کا عملی ثبوت ہے۔ لیویز کے پولیس میں انضمام کے بعد ایک ہی چین آف کمانڈ کے تحت کارروائیاں بہتر نتائج دے رہی ہیں۔ بھتہ خوری، اغوا، قتل اور خواتین کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث اس گروہ کا خاتمہ عوام کے لیے بڑی راحت ہے۔اسی طرح پنجگور میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اور تین دہشت گردوں کی ہلاکت اس امر کا ثبوت ہے کہ بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز مستعد ہیں۔ برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دشمن عناصر بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے مگر ریاستی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
تربت کے علاقے مند میں ایف سی بلوچستان کی کارروائی بھی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کی ایک کڑی ہے۔ ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد کی ہلاکت اور غیر ملکی اسلحے کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دشمن عناصر کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے ان کارروائیوں کی حمایت اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ اس امر کی علامت ہے کہ صوبائی حکومت امن کے معاملے میں سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ شہری آبادی کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے ریاستی رٹ کا قیام حکومت کی دانشمندانہ حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ کامیابیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ حکومت، سکیورٹی ادارے اور عوام ایک پیج پر ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ بارش اور برفباری نے جہاں سردی کی شدت میں اضافہ کیا ہے وہاں صوبے کے آبی وسائل، زراعت اور مجموعی ماحولیاتی توازن کے لیے امید کی نئی کرن بھی پیدا کی ہے۔ کوئٹہ، زیارت، قلات، چمن، پشین اور دیگر علاقوں میں بارش اور برفباری کی موسمیاتی پیش گوئی نے عوام کو پیشگی آگاہی فراہم کی اور متعلقہ اداروں کو پیشگی انتظامات کا موقع فراہم کیا۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت اور اداروں کی فعال حکمتِ عملی قابلِ ستائش ہے، جو مشکل موسمی صورتحال کے باوجود عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متحرک نظر آئی۔علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف اضلاع میں بارش اور برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ درجہ حرارت منفی سطح تک گرگیا۔ حکومت کی جانب سے موسمی وارننگز کو سنجیدگی سے لیا گیا اور پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رکھا گیا۔
اس دوران کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ محمد خان ٹاؤن میں کمرے کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک شہری جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے فوراً بعد پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں،متاثرین کو ملبے سے نکالا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ بروقت ریسکیو کارروائی نے مزید جانی نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ برسوں میں بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر حکمت عملی اور مربوط رابطوں کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ریسکیو سروسز، موسمیاتی رابطہ کاری اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو فعال کیا گیا ہے جس کا عملی مظاہرہ حالیہ صورتحال میں دیکھنے میں آیا۔ دیہی اور شہری سطح پر انتظامیہ کو متحرک رکھنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔حکومت کی جانب سے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل بھی ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کی عکاس ہے۔
شدید سردی، برفباری اور کمزور تعمیرات کے خطرات کے پیش نظر شہریوں کو محفوظ رہائش، غیر ضروری سفر سے گریز اور ضلعی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلوچستان جیسے وسیع اور موسمی لحاظ سے حساس صوبے میں مکمل تحفظ ایک مسلسل عمل ہے۔ حکومتی کوششیں، وارننگ سسٹم اور ریسکیو اقدامات اس بات کی دلیل ہیں کہ ریاستی ادارے عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام باہمی تعاون کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات کو مزید کم کیا جا سکے۔
رواں ہفتہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے تعلیم، روزگار اور ہنرمندی کو بنیاد بنانے کی ضرورت ایک بار پھر اجاگر ہوئی۔ گوادر میں ایک الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے جن نکات کی نشاندہی کی وہ صوبے کی زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال مگر سماجی و معاشی محرومیوں کے شکار صوبے میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ صوبے میں سکول جانے کے قابل بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمی اداروں سے باہر ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح تشویشناک حد تک بلند ہے۔ جب نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور باعزت روزگار میسر نہ ہو تو مایوسی، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ ایسے میں ہنر مند بنانے کے پروگرام ایک مثبت اور تعمیری راستہ فراہم کرتے ہیں جو نوجوانوں کو جدید آئی ٹی سکلز، فنی تربیت اور معاشی خودمختاری کی طرف لے جاتے ہیں۔
سرحدی تجارت کا معاملہ بھی بلوچستان کی معیشت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت پر پابندیوں کے باعث سرحدی اضلاع کے عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر اس تجارت کو قانونی دائرے میں لا کر منظم کیا جائے تو نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی بھی ممکن ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر سنجیدہ اور متوازن پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، قانون کی بالادستی اور عوامی شمولیت سے ممکن ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ آئین کے مطابق حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام قائم ہوں۔