بدمزاجی

تحریر : نعیم انصر ہاشمی، صدر


بدمزاجی یا بد مزاج ہونا معاشرہ کا ایک انتہائی منفی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ منفی ہی سمجھا جانا چاہئے۔ بدمزاجی کا مترادف یا الٹ خوشی مزاجی ہے۔

بد مزاجی ایک بڑا نا پسندیدہ رویہ ہے جبکہ خوش مزاجی ایک بہتر اور پسندیدہ عمل ہے۔ بد مزاج انسان کو معاشرہ میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، جبکہ خوش مزاج انسان کا ہر جگہ خندہ پیشانی سے مسکرا کر استقبال کیا جاتا ہے۔

 بچو! ہمارا موضوع خوش مزاجی نہیں لہٰذا ہم اس کے متضاد یعنی بدمزاجی پر بات کرتے ہیں۔

 بچو! ہمارے معاشرہ میں جو انسان، انسان سے عزت رحمدلی، اور خوش اخلاقی سے ملنا جُلنا رکھتا ہے اس کو خوش مزاج اور خوش اخلاق کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو انسان ہر وقت غصہ میں رہتا ہے، ہر وقت ماتھے پر تیوریاں چڑھائے رکھتا ہو جس کی گفتگو میں نرمی، مہربانی اور مسکرا کر بات کرنے کی ذرا سی بھی رمق موجود نہیں، ایسے شخص سے ہر انسان دور رہتا ہے۔ 

 بدمزاج انسان میں چڑ چڑا پن اور ہر وقت اکتائے رہنا پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خوش مزاج انسان کے چہرے پر تازگی، شگفتگی، نرمی محسوس اور نظر آتی ہے۔ 

بد مزاج انسان کے دوست اوّل تو بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر چند ایک دوست ہوں بھی تو وہ اس سے اپنا دامن بچائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی خوشی، غمی اور برے وقت میں ساتھ تو دے سکتے ہیں مگر اس سے تقریباً رو گردانی کرتے ہیں۔ ایسے انسان سے لوگ کم ہی میل ملاپ رکھتے ہیں۔ بدمزاجی کے عمل سے بعض اوقات انسان تنہائی پسند اور شدت پسندی اختیار کر سکتا ہے۔ بدمزاجی اور شدت پسندی کی کیفیت میں انسان کا رویہ خطرناک اور اذیت پسند ہو سکتا ہے۔ اس طرز عمل سے انسان معاشرہ کیلئے بھی زہر قاتل ہے۔ بدمزاج ہونا بعض اوقات ا نسان کے اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ معاشرہ کی محرومیاں، رشتے ناطوں میں تلخیاں، غربت، بے روزگاری اس کے نمایاں پہلو ہیں ۔

 بچو! بد مزاجی عام طور پر بڑوں، بزرگوں اور بیمار انسان میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ آپ کے گھروں میں  ایسے بڑے بزرگ ہیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ گپ شپ لگانا بزرگوں کے پاس مل بیٹھنا، ان کے ساتھ تفریحی کرنا، دن کا کچھ نہ کچھ وقت ان کے ساتھ گزارنا ان کا خیال رکھنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ 

ہمارے ارد گرد کا ماحول خوشگوار ہوگا تو بدمزاجی خودبخود دور ہوتی چلے جائے گی۔ بد مزاجی صرف ایک رویہ ہے لہٰذا بد مزاج لوگوں میں اٹھیں بیٹھیں، انہیں اور ان کی مشکلات کو سمجھیں تو ایسے لوگ بہتری کی طرف بڑھ کر معاشرہ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

ہوشیار مرغی

کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بادل مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟

ذرا مسکرایئے

ماں: (بیٹے سے) اگر تم اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تو ایک قلم انعام میں دوں گی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

٭… کولاس (koalas) اور انسان ہی دنیا کے وہ جاندار ہیں جن کے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں۔

حرف حرف موتی

٭…زبان کی حفاظت دولت سے زیادہ مشکل ہے۔٭…افسوس ان پر جو بیماری کے ڈر سے غذا چھوڑ دیتے ہیں، مگر عذاب کے ڈر سے گناہ نہیں چھوڑتے۔