جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

تحریر : اشفاق احمد خاں


یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

 مکہ کی سرداری بھی اسی خاندان کے افراد کے پاس تھی۔ لوگوں کے مسائل، جھگڑوں اور الجھنوں میں یہی لوگ فیصلہ کرتے تھے۔ ان کے فیصلوں کا دل و جان سے احترام کیا جاتا تھا۔

آپؓ کے دادا عاص بن وائل کا شمار مکہ کے مالدار تاجروں میں ہوتا تھا۔ لیکن وہ رسول کریمﷺ اور اسلام کا سخت ترین دشمن تھا۔ اس نے مسلمانوں کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں۔ عاص کی پوری زندگی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں گزری۔ وہ نبی اکرمﷺ کی ہجرت مدینہ کے بعد کفر ہی کی حالت میں مرا۔

عاص بن وائل کی بدترین دشمنی کی وجہ سے، اس کے متعلق قرآن کریم میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ’’ بے شک آپ کا دشمن ہی ابتر ہے‘‘۔ابتر کا مطلب ہے، نسل کا ختم ہو جانا، جس کی نسل ختم ہو جائے، جو بھلائی سے محروم ہو جائے۔ اس آیت کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب رسول اللہﷺ کے دونوں بیٹے قاسم اور عبداللہ فوت ہو گئے اور صرف بیٹیاں ہی باقی رہ گئیں تو عاص نے آپ ﷺ پر طنز کرتے ہوئے کہا: محمد(ﷺ) کی نسل ختم ہو گئی، جب یہ فوت ہو جائیں گے تو پیچھے ان کو یاد کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔

قرآن کا کہنا سچ ثابت ہوا، عاص بھلائی سے محروم رہا، کفر کی حالت ہی میں مرا آج اس کو یاد کرنے والا بھی کوئی نہیں۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام عمرو تھا۔ وہ قریش کے دانا لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کی دانائی اور عقل و فہم کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ ابتدا میں وہ بھی اپنے باپ عاص کی طرح مسلمانوں کے سخت مخالف تھے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی توفیق بخشی،8ہجری میں خالد بن ولیدؓ اور عثمان بن طلحہ ؓ کے ہمراہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ رسول اللہ ﷺ ان کی آمد اور ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ خوش ہوئے۔آپؓ کی والدہ بھی ابتدا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ جنگ اُحد میں وہ کفار کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر ابھارتی تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کو ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی اور وہ مسلمان ہو گئیں۔

عبداللہ بن عمروؓایک معزز خاندان کے فرد تھے۔ جن کو وراثت میں عقلمندی، بہادری اور فصاحت و بلاغت جیسی صفات ملیں۔ تاریخ میں اپنا نام اور مقام بنانے کیلئے یہ خوبیاں کافی تھیں۔ عبداللہ بن عمرو ؓ بچپن ہی سے بہت ذہین تھے۔ جو چیز ایک دفعہ سن لیتے، ہمیشہ کیلئے ذہن نشین ہو جاتی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بہت کم لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ آپؓ کے دادا عاص کے پاس یہودی اور عیسائی بطور مہمان آتے رہتے تھے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ وہ ان کے بیٹے عبداللہ کو پڑھنا لکھنا سیکھا دیں کیونکہ وہ اس کی ذہانت کو جانچ چکے تھے۔ باپ کا یہ ارادہ پورا ہو گیا۔

کم سن عبداللہؓ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا اور کچھ ہی عرصے میں انہوں نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ اس وقت پورے مکہ میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد سات سے زیادہ نہیں تھی۔ جو بھی عربی کتاب ان کے ہاتھ لگتی، اسے فوراً پڑھ ڈالتے۔ ان میں علم کی پیاس اتنی شدید تھی کہ ہر وقت علم کی لگن ان کے دل میں جاگتی رہتی۔ پھر ان کے دل و دماغ میں ایک اور خیال نے جگہ بنا لی کہ جب تک وہ کسی اور زبان کو نہیں سیکھتے، تب تک ان کی علمی پیاس نہیں بجھے گی۔ ان کے اس خیال اور شوق نے ان کو سریانی زبان سیکھنے کی طرف مائل کر دیا۔ انہوں نے سریانی زبان سیکھی ہی نہیں بلکہ وہ اس کے ماہر بھی ہو گئے۔

ایک دن عبداللہ ؓ نے خواب میں دیکھا کہ ان کی ایک انگلی پہ گھی ہے اور دوسری پہ شہد، اور وہ ان دونوں کو چاٹ رہے ہیں۔ صبح ہوئی تو انہوں نے یہ خواب اللہ کے رسول ﷺ کو بتایا۔ آپﷺ نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ دو کتابوں کو پڑھیں گے یعنی قرآن مجید اور تورات کو۔ اسی وجہ سے آپؓ کو قاری الکتابین (دو کتابوں کو پڑھنے والا) کہا جاتا ہے۔

یہاں ایک بات کو جاننا اور سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ وہ یہ کہ کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ قرآن مجید نازل ہونے کے بعد تورات پڑھے یا اس کو زبانی یاد کرے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بے شک تورات بھی آسمانی کتاب ہے، اسے بھی قرآن کی طرح ہدایت کیلئے اتارا گیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اس کے احکامات کو اپنی مرضی اور اپنے فائدے کیلئے بدل ڈالا۔البتہ اس اعتبار سے اس کو دیکھنا کہ اس میں کیا کچھ ہے تاکہ پڑھ کر یہودیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کی تعلیمات کی روشنی میں ان کا توڑ کیا جا سکے، کسی حد تک اس کو پڑھنے کی گنجائش ہے، لیکن نہ پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔(جاری )

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ہوشیار مرغی

کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بادل مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟

بدمزاجی

بدمزاجی یا بد مزاج ہونا معاشرہ کا ایک انتہائی منفی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ منفی ہی سمجھا جانا چاہئے۔ بدمزاجی کا مترادف یا الٹ خوشی مزاجی ہے۔

ذرا مسکرایئے

ماں: (بیٹے سے) اگر تم اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تو ایک قلم انعام میں دوں گی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

٭… کولاس (koalas) اور انسان ہی دنیا کے وہ جاندار ہیں جن کے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں۔

حرف حرف موتی

٭…زبان کی حفاظت دولت سے زیادہ مشکل ہے۔٭…افسوس ان پر جو بیماری کے ڈر سے غذا چھوڑ دیتے ہیں، مگر عذاب کے ڈر سے گناہ نہیں چھوڑتے۔