ہوشیار مرغی

تحریر : دانیال حسن چغتائی


کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔

 ہر روز صبح سویرے مرغی کیڑے مکوڑوں کی تلاش میں جنگل چلی جاتی ، وہاں سے واپس آکر پہلے گھر کی صفائی کرتی، پھر اپنا کھانا پکاتی اور کھانے کے بعد کچھ دیر کیلئے سو جاتی تھی۔ شام کو وہ گھر سے باہر جاکر اپنے دوستوں سے ملتی اور اندھیرا ہونے سے پہلے واپس گھر آجاتی۔ یہی اس کا معمول تھا۔ 

جانوروں کی اسی بستی میں ایک کاہل لومڑی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی جو بڑی مشکل سے گھر سے باہر جاتی تھی۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ راستے میں کوئی بھولا بھٹکا جانور مل جائے جسے وہ گھر لا کر اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ بھر لے ، اسی لیے وہ شکار کیلئے گھر سے باہر نہیں جاتی تھی۔ لومڑی کی ماں بھی اس کاہلی پر اسے  برا بھلا کہتی، مگر لومڑی ماں کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی تھی۔

ایک روز لومڑی کے گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ کاہل لومڑی کا گھر سے باہر نکلنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، مگر پیٹ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ اس کی ماں اس سے بار بار کہہ رہی تھی کہ باہر جائے اور کھانے کو کچھ لے کر آئے۔ اچانک لومڑی کو اپنے پڑوس میں رہنے والی مرغی کا خیال آیااور اس نے مرغی کے شکار کا فیصلہ کیا۔اس نے ماں سے کہا : تم ایک برتن میں پانی گرم کر کے تیار رکھنا، میں مرغی کو لاتے ہی اس میں ڈال دوں گی۔ یہ کہہ کر لومڑی چلی گئی اور اس کی بوڑھی ماں پانی گرم کر کے اس کا انتظار کرنے لگی۔

 جانوروں کی اس بستی کا اصول یہ تھا کہ کوئی بھی جانور چاہے وہ بھوک سے مرہی کیوں نہ رہا ہو ، اپنے علاقے کے کسی جانور کا شکار نہیں کر سکتا ۔ سب اس اصول پر سختی سے عمل کرتے تھے، مگرلومڑی نے آج اسے توڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔لومڑی سیدھی مرغی کے گھر پہنچی اور ایک کونے میں درخت کے پیچھے چھپ کر اس کے گھر سے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔ جب مرغی لکڑیاں جمع کرنے اپنے گھر سے باہر نکلی تو لومڑی بڑی خاموشی سے اندر گھس گئی اور دروازے کے پیچھے چھپ کر اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔ جیسے ہی مرغی اندر آئی لومڑی نے اسے پکڑ کر ایک تھیلے میں ڈال کر گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ مرغی کو پہلے ہی اس لومڑی پر شک تھا ، اسی لیے وہ چاقو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی تھی۔ مرغی نے اپنا چاقو نکالا اور تھیلے میں سوراخ کر کے باہر آگئی اور تھیلے میں ایک بڑا پتھر رکھ دیا تاکہ لومڑی کو یہ شک نہ ہو کہ تھیلا خالی ہو چکا ہے۔

گھر پہنچتے ہی لومڑی نے آواز لگائی: ماں گرم پانی تیار ہے ناں؟

ہاں۔ لومڑی کی ماں نے جواب دیا۔ اس وقت لومڑی نے پیٹھ سے تھیلا اتار کر اس کا منہ کھولا اور اپنے حساب سے اس میں موجود مرغی کو گرم پانی میں ڈال دیا۔ مگر وہاں مرغی کہاں تھی، تھیلے میں سے ایک بڑا پھر جب گرم پانی میں گرا تو سارا پانی اچھل کر لومڑی اور اس کی ماں پر گراا ور وہ دونوں جل کر مر گئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بادل مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟

بدمزاجی

بدمزاجی یا بد مزاج ہونا معاشرہ کا ایک انتہائی منفی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ منفی ہی سمجھا جانا چاہئے۔ بدمزاجی کا مترادف یا الٹ خوشی مزاجی ہے۔

ذرا مسکرایئے

ماں: (بیٹے سے) اگر تم اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تو ایک قلم انعام میں دوں گی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

٭… کولاس (koalas) اور انسان ہی دنیا کے وہ جاندار ہیں جن کے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں۔

حرف حرف موتی

٭…زبان کی حفاظت دولت سے زیادہ مشکل ہے۔٭…افسوس ان پر جو بیماری کے ڈر سے غذا چھوڑ دیتے ہیں، مگر عذاب کے ڈر سے گناہ نہیں چھوڑتے۔