یوم یکجہتی کشمیر

تحریر : محمد اسلم میر


بھارتی مظالم پر دنیا کی آنکھیں کب تک بند رہیں گی؟

پسِ منظر…

5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا آغاز 1990 ء کے اوائل میں تحریکِ آزادی کشمیر کے آغاز سے ہوا۔ اس دن کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے حوالے سے جماعتِ اسلامی  کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے جنوری 1990ء کے اوائل میں اپیل کی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس اپیل کا خیر مقدم کیا گیا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف نے قاضی حسین احمد صاحب کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے 5 فروری 1990 ء کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیا۔ مرکز میں اس وقت بینظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت  تھی جنہوں نے اس دن کو سرکاری سطح پر یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔محترمہ بینظیر بھٹو نے مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا، جس میں بھارتی مظالم کی مکمل تصویر پیش کرتے ہوئے پرجوش انداز میں تحریک آزادی کشمیر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ ان کی پرجوش تقریر کے دوران جلسہ گاہ سے ہر بار ایک ہی نعرہ گونجتا: ’ہم کیا چاہتے، آزادی۔‘ قاضی حسین احمد صاحب نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں سے بھی یہ دن یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کی اپیل کی؛ چنانچہ اس کے بعد سے یہ دن نہ صرف یہ کہ سرکاری طور پر اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی اسے یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پاکستان ، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم یکجہتی مقبوضہ جموں وکشمیر اس عزم اور جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ حصولِ حق خود ارادیت تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔1990ء میں اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے پانچ فروری کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے ہڑتال ، جلسے جلوس اور بھارت مخالف مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ اُس وقت کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو نے نہ صرف قاضی حسین احمد کی طرف سے دی گی ہڑتال کی کال کی حمایت کی بلکہ پانچ فروری کو ہر سال حکومتی سطح پر یوم یکجہتی کشمیر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس روز ملک کے کونے کونے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت اور بھارت مخالف جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ پانچ فروری کو منایا جانے والا یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ ایک ایسے دیرینہ تنازع کی علامت ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور عالمی انسانی حقوق کے دعوؤں کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا موقع فراہم کرتا ہے اور دنیا کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر آج بھی اپنی جگہ موجود ، حل طلب اور وقت گزرنے کے باوجود مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے جس کے حل میں تاخیر سے جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ 

ریاستِ جموں و کشمیر کا تنازع 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر آ چکا تھا۔ سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں واضح طور پر کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا مگر یہ وعدہ آج تک وفا نہ ہو سکا۔ عالمی سیاست کی ترجیحات، طاقت کے توازن اور علاقائی مفادات نے اس اہم مسئلے کو مسلسل پس پشت ڈالے رکھا جس کا خمیازہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔

اگرچہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس سے قبل بھی جاری تھیں تاہم 1990ء کی دہائی میں بھارت نے کشمیری عوام پر ایسے مظالم ڈھائے جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ بھارت کے اس ریاستی جبر اور ظلم و تشدد کو تاریخ جموں و کشمیر میں سیاہ دور کہا جاتا ہے۔ اسی دور میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کیا ، آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے ذریعے قابض فوج کو وسیع اختیارات دیئے۔ ان اختیارات کے بعد بھارتی قابض افواج نے بغیر کسی عدالتی حکم نامے کے گھر گھر تلاشی شروع کر دی جو تاحال جاری ہے اور عام شہریوں کو بے گناہ گرفتار کر کے انہیں زیر حراست قتل کرنے جیسے گھناؤنے واقعات جبکہ تشدد، برف میں ننگے پاؤں لوگوں کو پیدل چلانا ، شناخت پریڈ کی آڑ میں شہریوں کو گرفتار کر کے عقوبت خانوں میں تشدد کرنا ، خواتین کے ساتھ دست درازی اور خانہ تلاشی کے دوران گھر وں میں توڑ پھوڑ اور قیمتی اشیا کی چوری معمول بن گئی۔

90 ء کی دہائی میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے گھروں پر چھاپے، طویل کرفیو اور اجتماعی سزائیں روزمرہ کا معمول بن گئیں تھیں جو آج تک جاری ہیں۔ ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے جن کی بازیابی آج تک ممکن نہ ہو سکی۔ اجتماعی قبروں کی دریافت اور خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات نے ثابت کیاکہ  مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی   بھارتی حکومت کی منظم پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس تمام تر صورتحال نے کشمیری معاشرے کو خوف، عدم تحفظ اور شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔ سیاسی وابستگی پر لوگوں کو قتل کیا گیا۔  مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ اُس دور سے لے کر آج تک بھارتی قابض فوج کے نشانے پر ہیں جن میں ہزاروں کو بلاوجہ گرفتار کیا گیا جبکہ سینکڑوں کو زیر حراست تشد د کر کے شہید کر دیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انہی حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے 1990ء میں یومِ یکجہتی کشمیر کو سرکاری سطح پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ محض ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھنا اور بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ ہر سال یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

پانچ اگست 2019 ء کو بھارتی حکومت کے یک طرفہ اقدام نے مسئلہ جموں و کشمیر کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا۔ بھارتی حکومت نے دستور ہند میں ترمیم کر کے 35A اور دفعہ 370 ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔تاریخِ جموں و کشمیر میں 5اگست 2019ء کو سقوط کشمیر کے نام سے  یا د رکھا جائے گا۔ اس روز بھارت نے کشمیری عوام اور آزادی پسند اور بھارت نواز سیاسی قیادت کو نظر بند کر کے کشمیریوں سے ان کی شناخت ، آئین اور پرچم چھین لیا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ کر دیا گیا، مواصلاتی نظام بند کر دیا گیا، انٹرنیٹ اور میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں اور ہزاروں سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کو نظر بند کر دیا گیا۔ پورا مقبوضہ علاقہ مہینوں تک دنیا سے کٹا رہا جس  سے سنگین انسانی بحران نے جنم لیا۔ بھارت کے یہ اقدامات نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ خود بھارتی دستور کے بھی منافی ہیں۔ پانچ اگست 2019ء کے بعد انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی۔ طبی سہولیات تک رسائی محدود ہونے کے باعث کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ خواتین، بزرگ ، بچے اور دائمی مریض شدید مشکلات کا شکار رہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش اور طویل انٹرنیٹ معطلی نے طلبہ کے ساتھ ساتھ آن لائن کاروبار سے جڑے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا۔

معاشی اعتبار سے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کو نقصان پہنچا۔ سیاحت، دستکاری، زراعت اور چھوٹے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ ہزاروں خاندان بے روزگار ہو گئے اور غربت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ سماجی سطح پر  خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ نے تین نسلوں کو  متاثر کیا، جس کے اثرات طویل المدت ثابت  ہو سکتے ہیں۔

 مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک علاقائی تنازع ہی نہیں بلکہ یہ عالمی انسانی حقوق کے نظام کیلئے ایک امتحان بن چکا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس شائع کی ہیں تاہم عملی اقدامات کی کمی عالمی ضمیر کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے۔ اقوامِ  متحدہ کی قراردادیں آج بھی اپنی تکمیل کی منتظر ہیں۔ 1990 ء کی دہائی سے لے کر پانچ اگست 2019ء تک کشمیری عوام نے جس صبر، استقامت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طاقت کے زور پر کسی قوم کی آزادی کی خواہش کو دبایا نہیں جا سکتا۔ 

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے دوران اس سال جنوری  میں دوکشمیری شہید ہو گئے جبکہ 62 شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ 1989ء سے 2025ء تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں 96 ہزار 483 کشمیری شہید ہوئے جن میں 7 ہزار 411 کو دورانِ حراست اور  فرضی مقابلوں میں ابدی نیند سلا دیا گیا۔اگر 1990 ء کی دہائی سے دیکھا جائے توگزشتہ 36 برسوں کے دوران کل ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد کشمیری گرفتارکئے گے جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد گھروں کو جلایا گیا اور 22 ہزار 991 خواتین بیوہ ہو گئیں۔ ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد کشمیری بچے یتیم ، 11 ہزار 269 خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوئیں جبکہ 5 اگست 2019ء کے بعد 1050 کشمیری شہید کئے گئے جن میں 287 شہادتیں فرضی مقابلوں میں ہوئیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے جاری کی گی مختلف رپورٹس کے مطابق 5 اگست 2019ء کے بعد 33 ہزار سے زائد کشمیری گرفتارکئے گے، 1168 گھروں اور دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور 232 بچے یتیم اور 83 خواتین بیوہ ہوئیں۔  پانچ اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سینکڑوں سرکاری ملازمین کو نوکری سے صرف اس لئے نکال دیا گیا کہ وہ حق خود ارادیت کے حوالے سے بات کرتے تھے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور عالمی انصاف کا تقاضا ہے کہ کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ بنیادی حق یعنی حقِ خودارادیت دیا جائے۔ جب تک یہ بنیادی حق فراہم نہیں کیا جاتا، یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ایک مسلسل صدا بنا رہے گا اور اہلِ پاکستان و آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میں آباد کشمیری یہ صدا اور نعرہ مستانہ لگاتے رہیں گے ہم کیا چاہتے آزادی۔

 مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی صورتحال

مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 36 برسوں کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکیا گیا۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد گھروں کو جلایا گیا ۔ 22 ہزار 991 خواتین بیوہ ہو ئیں۔ ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد کشمیری بچے یتیم ہوئے ، 11 ہزار 269 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 5 اگست 2019ء کے بعد 1050 کشمیری شہید کئے گئے جن میں 287 شہادتیں فرضی مقابلوں میں ہوئیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے جاری کی گئی مختلف رپورٹوں کے مطابق 5 اگست 2019ء کے بعد 33 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکیا گیا،1168 گھروں اور دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا ۔ 232 بچے یتیم اور 83 خواتین بیوہ ہوئیں۔ پانچ اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سینکڑوں سرکاری ملازمین کو نوکری سے صرف اس لئے نکال دیا گیا کہ وہ حقِ خود ارادیت کے حوالے سے بات کرتے تھے۔ 

عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں

٭…اگرچہ انسدادی سفارت کاری (Preventive Diplomacy) اقوامِ متحدہ کی ترجیحات میں شامل ہے،تاہم مسئلہ کشمیر کے نصیب میں ابھی تک وہ مصالحتی یا انسدادی کوششیں نظر نہیں آئیں جن کا اختیار سیکرٹری جنرل کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 99کے تحت حاصل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کا آرٹیکل7(2) اقوامِ متحدہ کی جانب سے کسی بھی انسدادی کارروائی کیلئے متعلقہ رکن ریاستوں کی رضامندی پر مبنی اوّلین شرط کا اہتمام کرتاہے۔

٭…کشمیر میں کشیدہ صورتحال کے ہر موقع پر بھارت نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے انسدادی کارروائی کی پاکستانی تجاویز کو کامیابی سے مسترد کروا لیا۔ سیکرٹری جنرل کی وساطت سے مصالحت کی  کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے انڈیا شملہ معاہدہ (1972ء) کی مخصوص شقوں کا سہارا لیتا ہے۔ 

٭…کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں انڈیا کا پبلک سیفٹی ایکٹ 1978ء سکیورٹی فورسز کو وسیع اختیارات دیتا ہے اور آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ 1990ء انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی سے فی الواقع استثنا دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہندوستانی حکومت پر سخت تنقید کی ہے کہ وہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عملی استثنا کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

٭…کشمیر کا معاملہ گزشتہ سات دہائیوں سے سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں (1948ء- 1957ء) کے تحت اقوامِ متحدہ کے وضع کردہ طریقہ کار برائے حل طلب تنازعات کا موضوع رہا ہے۔اقوامِ متحدہ میں کشمیر کے معاملے پر انڈیا اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تنازع کی بابت ہونے و الی پیشرفت سے قطع نظر امن کی اس بین الاقوامی تنظیم کی کشمیر پر انسانی بنیادوں پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں،جس کے باشندوں کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ اس ادارے کے وعدوں میں شامل ہے۔ 

کشمیر لٹا ہوا چمن ہے

ہر گْل کی جبین پُر شکن ہے

کشمیر لٹا ہوا چمن ہے

پھولوں نے چھپا رکھا ہے ورنہ

زخموں سے اَٹا ہوا بدن ہے

ہونٹوں پہ تھمے ہوئے ہیں شعلے

آنکھوں میں جمی ہوئی جلن ہے

ہر فرد ہے درد و غم کی تاریخ

ہر چہرہ حکایت محن ہے

پھیلا ہوا ہاتھ برہمن کا

اس چاند کا مستقل گرہن ہے

جلتے ہوئے گھر چھنے ہوئے کھیت

ہر شخص وطن میں بے وطن ہے

٭٭٭٭

سنتے ہیں سمندروں کے اُس پار

اقوام کی ایک انجمن ہے

آج اس کے اصول کے مطابق

ظالم ہے وہی جو خستہ تن ہے

آج اس کی روایتوں کی رُو سے

رہبر ہے وہی جو راہزن ہے

آج اس کی بلند مسندوں پر

ہر چور کے ہاتھ میں کفن ہے

حق بات تو خیر جرم تھا ہی،

حق مانگنا بھی دِوانہ پن ہے

سچ کہتی ہیں سب غریب قومیں

یہ بزم بھی بزمِ اہرمن ہے

(احمد ندیم قاسمی)

کشمیر …

میری فردوس گل و لالہ و نسریں کی زمیں

تیرے پھولوں کی جوانی، ترے باغوں کی بہار

تیرے چشموں کی روانی، ترے نظاروں کا حُسن

تیرے کہساروں کی عظمت، ترے نغموں کی پھوار

کب سے ہیں شعلہ بداماں و جہنم بکنار

تیرے سینے پہ محلات کے ناسوروں نے

تیری شریانوں میں اک زہر سا بھر رکھا ہے

تیرا ماحول تو جنت سے حسیں تر ہے مگر

تجھ کو دوزخ سے سوا وقت نے کر رکھا ہے

تجھ کو غیروں نے سدا دستِ نگر رکھا ہے

مہ و انجم سے تراشے ہوئے تیرے باسی

ظلم و ادبار کے شعلوں سے جہاں سوختہ ہیں

قحط و افلاس کے گرداب میں غرقاب عوام

جن سے تقدیر کے ساحل بھی برا فروختہ ہیں

سالہا سال سے لب بستہ زباں دوختہ ہیں

ان کی قسمت میں رہی محنت و دریوزہ گری

اور شاہی نے تری خلد کو تاراج کیا

تیرے بیٹوں کا لہو زینتِ ہر قصر بنا

تجھ پہ نمرود کی نسلوں نے سدا راج کیا

ان کا مسلک تھا کہ پامال کیا ، راج کیا

لیکن اب اے مری شاداب چناروں کی زمیں

انقلابات نئے دور ہیں لانے والے

حشر اْٹھانے کو ہیں اب ظلم کے ایوانوں میں

جن کو کہتا تھا جہاں، بوجھ اٹھانے والے

پھر تجھے ہیں گل و گلزار بنانے والے

( احمد فراز )

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں

یہ تاریخی مسئلہ عالمی برادری کیلئے بھی ایک کڑا امتحان ہے

سید علی گیلانی ،عظیم حریت لیڈر!

سید علی گیلانی فرد نہیں تحریک تھے۔زندگی کی آخری سانسوں تک وہ اس تحریک کے مردِ مجاہد کے طور پر ثابت قدم رہے۔جس تحریک سے وہ اصلاً وابستہ تھے۔

خواتین انٹرپرینیورز : مواقع، چیلنجز اور قومی ترقی میں کردار

پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے مگر بدقسمتی سے ملکی معیشت میں ان کی شرکت آج بھی محدود ہے۔ حالیہ برسوں میں اگرچہ خواتین بطور انٹر پرینیور (Entrepreneur ) ابھر کر سامنے آئی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

کاجل …پرکشش آنکھوں کا راز

ہر دور میں فیشن کے اپنے تقاضے اور انداز رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ میک اپ کے رجحانات میں بھی جدت آتی رہی ہے کیونکہ میک اپ فیشن کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

آج کا پکوان:چکن چپلی کباب

اجزا: چکن کاقیمہ: ایک کلو، مکئی کا آٹا: ایک پاؤ،لال مرچ پاؤڈر: ایک چائے کا چمچ ،ہری مرچ: چار عدد ،دھنیا پاؤڈر: دو چائے کے چمچ ، سفید زیرہ:

بانو قدسیہ اور ہماری اقدار

ان کے خیال میں تہذیبی ، اخلاقی اورمذہبی اقدار ہی کسی شخص، قوم اور معاشرے کی شناخت ہوا کرتی ہیں:بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ اور تہذیب کا اپنا تشخص ہوتا ہے‘ اگر وہ اپنی اقدار کوچھوڑ کردوسرے نظام اقدار کو اپناتا ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے جو متعدد مسائل کا باعث بنتا ہےوہ روحانی ، اخلاقی اور مادی اقدار کا موازنہ کرکے انسانی شخصیت اور اس کی ذہنی وجذباتی زندگی پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں‘ ان کے نزدیک انسان مادی اقدارکے حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہا ہے