مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں
یہ تاریخی مسئلہ عالمی برادری کیلئے بھی ایک کڑا امتحان ہے
برِصغیر کی تاریخ میں مسئلۂ کشمیر ایک ایسا سلگتا ہوا زخم ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف کشمیری عوام کیلئے کرب و اذیت کا سبب بنا ہوا ہے بلکہ عالمی ضمیر کیلئے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جنم لینے والا یہ تنازع آج تک اپنے منصفانہ اور پائیدار حل کا منتظر ہے، حالانکہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے اس مسئلے کے حل کیلئے متعدد قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں۔ یہ قراردادیں کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کی واضح ضمانت فراہم کرتی ہیں اور اس امر کی گواہ ہیں کہ عالمی برادری نے اصولی طور پر اس مسئلے کی حساسیت اور اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔
قرارداد (38)
یکم جنوری 1948ء کو بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 35 کے تحت یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں گیا۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلے پر 17 جنوری 1948ء کو ایک قرارداد (38) پاس کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت دونوں کا مؤقف سنا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کو کشمیر میں مزید کارروائی کرنے سے روک دیا گیا۔
قرارداد (39)
اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کا مسئلہ کشمیر پر مؤقف سننے کے بعد 20 جنوری 1948ء کو قرارداد (39) پاس کی گئی اور ایک کمیشن تشکیل دے دیاگیا ۔ اس کمیشن نے تمام صورت کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد متعدد قراردادیں پاس کیں۔
قرارداد (47)
21اپریل 1948ء کو اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر قرارداد (47) پاس کی گئی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر میں آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کیلئے مناسب حالات پیدا کریں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ مقبوضہ جموں کشمیر دونوں ریاستوں میں سے کس کے ساتھ الحاق کا خواہشمند ہے۔
قرارداد (51)
3 جون 1948ء کو اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر قرارداد(51) منظور کی گئی جس میں اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کشمیر پر اپنی گزشتہ تین قراردادوں (38،39،47) کی ایک بار پھر تصدیق کرتے ہوئے اس مسئلہ پر قائم کردہ کمیشن کو قرارداد (47) پر عمل کرنے کی فوری ہدایات جاری کیں۔مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے تشکیل کردہ کمیشن کی جانب سے 13 اگست 1948ء کو پہلی قرار دار پیش کی گئی۔ اس قرارداد میں کشمیری عوام کو غیر محدود اور غیر مشروط حق خودارادیت کا حق دیا گیا۔ اسی کمیشن کی جانب مسئلہ کشمیر پر دوسری قرارداد 5 جنوری 1949ء کو پیش کی گئی۔ اس قرارداد میں ایک بار پھر اس بات کی وضاحت کی گئی کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری ہے۔
قرارداد 80
14 مارچ 1950ء کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں قرارداد 80 منظور کی گئی جس میں مسئلہ کشمیر کا حل عوام کی امنگوں کے مطابق جمہوری طریقے سے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رائے شماری کو قرار دیا گیا۔
قرارداد 91
30 مارچ 1951ء کو سکیورٹی کونسل میں قرارداد 91 منظور کی گئی جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے زیر انتظام قائم کی گئی اسمبلی کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کا پیش کیا گیا کوئی بھی حل حتمی تصور نہیں کیا جائے گا۔
قرارداد 98
23 دسمبر 1952ء کو سکیورٹی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر قرارداد 98 منظور کی گئی جس میں اعلان کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے والی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری سے کیا جائے گا، تاہم اس سے قبل ریاست جموں و کشمیر میں ہتھیاروں کا خاتمہ کیا جائے گا۔
قرارداد 122
24 جنوری 1957ء کوسکیورٹی کونسل میں قرارداد 122 منظور کی گئی جس میں ایک مرتبہ پھر یہ عہد دہرایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی آئین ساز اسمبلی کا منظور کردہ کوئی بھی قانون یا آئین خطے کے مستقبل یا اس کے کسی ایک ملک کے ساتھ وابستگی کا تعین نہیں کرے گا،بلکہ اس مسئلے کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری سے ہی حل کیا جائے گا۔
پاکستان نے ان قراردادوں کی مکمل پاسداری کی جبکہ بھارت استصواب را ئے سے بھاگ گیا اور ان قراردادوں کی ایک بھی شرط پوری نہیں کی ۔ ان قراردادوں میں اقوام متحدہ کمیشن کو بھارت کی جانب سے باور کروایا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کی آئندہ حیثیت یہاں مقیم عوام کی خواہشات کے مطابق مقرر کی جائے گی جس کا واضح مطلب یہ تھا کشمیری عوام پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو زبردستی کسی بھی ملک سے الحاق کرنے کا پابند کیا جائے گا ۔بھارت کی جانب سے اس قرارداد کی دھجیاں اڑائی گئیں اورایک عرصے سے کشمیر میں جبر اور زبردستی کی فضا نے وہاں کے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ ہدایات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید یہ بھی شامل کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس بات کو بھی بھارت کی جانب سے ماننے کی حامی تو بھری گئی مگر عمل کی باری آئی تو بھارت کی جانب سے پھر اس کے بالکل الٹ کیا گیا جس کا ثبوت یاسین ملک سمیت بیشتر حریت رہنماؤں کا کئی کئی سال جیل میں رہنا ہے اور اکثریت میں ہونے کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک بھارت کی سفاکیت کو عیاں کرتا ہے۔
1957ء میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھارت کی جانب سے ہٹ دھرمی سے پس پشت ڈالا گیا اور اقوام متحدہ کے بارہا وضاحت کے باوجود بھارت نے اپنے دستور میں ترمیم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو دستور کا حصہ بنا کر اسے خصوصی حیثیت دے ڈالی۔ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کی مذمت کرتا رہا اور عالمی سطح پر بھارتی ہٹ دھرمی کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے جس کے باعث حالات اتنے کشیدہ ہو گئے اور 1965 کی جنگ کا باعث بنے جس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور 1966 میں معاہدہ تاشقند ہوا اور جنگ بندی ہو گئی۔ 1989 میں بھارت کے خلاف کشمیری عوام نے کاروانِ آزادی کا آغاز کیا اور پوری دنیا میں کشمیریوں کی جرأت و بہادری کی مثالیں قائم ہونا شروع ہو گئیں۔
قرارداد 1172
41 سال بعد 6 جون 1998ء کو اقوام متحدہ میں اس مسئلہ سے متعلق قرارداد 1172 منظور کی گئی جس کے تحت پاکستان اور بھارت کو تاکید کی گئی کہ وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے، امن و امان اور سلامتی سے متعلق تمام معاملات کے دیر پا حل کیلئے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کریں۔ اس قرارداد میں اقوام متحدہ کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر ہے جس کامستقل حل تلاش کرنا دونوں ممالک کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے ان قراردادوں کی منظوری کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہو سکی اور کشمیری عوام آج بھی اپنی آزادی، شناخت اور بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، طویل کرفیو، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ اور دردناک بنا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے باب میں اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ قراردادیں نہ صرف قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ عالمی انصاف اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انہیں عملی جامہ پہنایا جائے۔ یہی پس منظر مسئلہ کشمیر کو محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی انسانی مسئلہ بناتا ہے جس کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی ہے۔