پہیلیاں
اس نے سب کے کام سنوارےورنہ ہوتے احمق سارے
(عقل)
جانور اک ایسا بھی دیکھا
پھٹ پھٹ کرتا جائے
کوئی اس کی پیٹھ پہ بیٹھے
تب وہ چال دکھائے
(موٹر سائیکل)
دن کو سوئے رات کو روئے
جتنا روئے اتنا کھوئے
(موم بتی)
اونچے ٹیلے پر وہ گائے
پیٹ سب اس کا بھرنے آئے
جتنا چاہو اسے کھلائو
وہ کہتی اور بھی لائو
(آٹے کی چکی)
جوں جوں قدم آگے بڑھائے
کھوج نشان بھی مٹتا جائے
(کشتی)