معرکۂ حق کی فتح پر ملی جوش و ولولہ

تحریر : محمد اسلم میر


گزشتہ سال معرکۂ حق آپریشن بنیان مرصوص میں فتح و کامرانی پرملک بھر کی طرح لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیری بھی شاداں و فرحاں تھے ۔

 اب اس عظیم فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر وہ اور بھی خوش دکھائی دیتے ہیں۔ اس سال پانچ فروری کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مظفر آباد کا دورہ کیا اور عمائدین شہر کے ساتھ ایک تفصیلی نشست کی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد اگرچہ یوم یکجہتی کشمیر تھا تاہم فیلڈ مارشل نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی کا میابیوں کا ذکر پہلی بار براہ راست عوام کے سامنے کیا۔ انہوں نے جس پر عزم انداز سے معرکۂ حق کی فتوحات اور کامیابیوں کا ذکر کیا اس نے پاکستان کے قومی عزم اور ولولے کو توانائی بخشی۔ راقم اس تقریب میں بطور صحافی موجود تھا اور معرکۂ حق کی عظیم فتح سے جڑے جن واقعات کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ذکر کیا وہ ایمان افروز اور پاک فوج کی کامیابیوں کے باب میں قابل ذکر ہے ۔ پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے تحقیقات کے بغیر پاکستان پر الزامات لگائے اور ساتھ ہی آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد پاک فوج کے جوابی حملے نے جو اس کے ساتھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ پاکستان نے 6 اور 7 مئی کے علاوہ 9 اور 10 مئی کو جو کچھ بھارت کے ساتھ کیا اس کے بعد نہ صرف اس کے ہوش ٹھکانے آئے بلکہ بھارت سیدھا امریکہ پہنچا اور وہاں سے جنگ رکوانے کیلئے پاکستان کے ساتھ سیز فائر کروایا اور جان چھڑائی۔ معرکۂ حق کے بعد بھارت کو اندازہ ہو گیا کہ پاکستان اب 1947ء اور 1971ء والا نہیں‘ پاکستان نیپال ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کی طرح بھی نہیں۔ بھارت سے پرانی تاریخ پاکستان کی ہے۔ معرکۂ حق کی عظیم الشان کامیابی کا جشن منانے کیلئے قومی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے بھی اسی مناسبت سے یکم سے 10 مئی تک یکجہتی پاک فوج ملی جوش و جذبے سے منانے کا اعلان کیا ہے۔

 دار الحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں کے ساتھ ساتھ اہم چوکوں اور چوراہوں پر بینرز لگائے گئے ہیں جن پر پاک فوج کو معرکۂ حق میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر بھر میں قومی پرچم لہرا  کر پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ مختلف اضلاع، تحصیلوں اور قصبوں میں ریلیاں، سیمینارز اور دعائیہ  تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان تقریبات میں پاک فوج کی قربانیوں اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے جبکہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف بسنے والے کشمیری عوام افواجِ پاکستان کو سلام پیش کررہے ہیں کہ پاک فوج نے ہمیشہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ معرکۂ حق کے بعد ہر شہری کو افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں پر  پہلے سے زیادہ فخر ہے جبکہ آزاد و مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور پاک فوج کے درمیان ایک لا زوال رشتہ بھی قائم ہے اور آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے اور رہیں گے۔ آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار فتح کا سال مکمل ہونے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور محکموں نے تقریبات کا آغاز  کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں دار الحکومت مظفرآباد میں محکمہ سپورٹس کے زیر اہتمام فٹبال میچ کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں کھلاڑیوں نے پرجوش انداز میں کھیل کا مظاہرہ کیا۔معرکۂ حق کے حوالے سے تقریبات پورے آزاد جموں و کشمیر میں 10 مئی تک جاری رہیں گی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ اور پرائیویٹ سکولز کی تنظیم نے بھی معرکۂ حق کے حوالے سے مختلف تقریبات منعقد کی ہیں۔ ادھر مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر شاخ کے صدر شاہ غلام قادر نے 9 مئی کو آزاد جموں و کشمیر بھر میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان  آزاد کشمیر کے ہر ضلع اور تحصیل میں تقاریب اور ریلیوں کا انعقاد کریں گے۔ شاہ غلام قادر نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج نے دشمن کے مکروہ عزائم خاک میں ملائے، آزاد کشمیر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہے، ہم نے ہمیشہ پہلی دفاعی لائن کا تحفظ  کیا ہے اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور رہیں گے۔

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اتوار کے روز لائن آف کنٹرول سے بے گھر ہونے والے ایک ہزار سے زائد خاندانوں کو ملکیتی حقوق دینے کا اعلان کیا۔یہ متاثرین طویل عرصے سے میرپور کے نواحی علاقے جنیال میں سرکاری زمین پر مقیم تھے۔ ان میں سے زیادہ تر خاندان 1998ء میں لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کے باعث ملحقہ اضلاع بھمبر اور کوٹلی سے نقل مکانی کر کے آئے تھے اور 2006ء سے جنیال کے علاقے میں غیر آباد سرکاری زمین پر رہائش پذیر تھے۔1998 ء کی لائن آف کنٹرول گولہ باری سے بچ کر آنے والے متاثرین 2006ء میں میرپور کے  قریب سرکاری زمین پر آباد ہوئے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے متاثرہ خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے مشکلات کا سامنا کیا اور لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال اور اندھا دھند گولہ باری کے باعث اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج سے آپ اس زمین کے جائز مالکان ہیں جہاں آپ برسوں سے رہائش پذیر ہیں اور مستفید ہونے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

7 مئی 2026ء کا پاکستان

گزشتہ ایک برس کے دوران دنیا کا پاکستان کو دیکھنے کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ مئی 2025ء سے قبل جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق عالمی تاثر کچھ اور تھا۔

معرکۂ حق قومی سیاست پر غالب، سیاسی جماعتوں اور عوام میں فاصلے کیوں؟

پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب‘آپریشن معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یادگاری تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں معرکۂ حق کی یاد!

مئی کا مہینہ پاکستان کے عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں جہاں آم پک پک کر زمین پر گرتے ہیں وہیں پاکستان نے بھارتی جہازوں کو بھی پکے ہوئے آموں کی طرح مار گرایا۔

KPمیں گورننس بحران

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اندرونی اور بیرونی دباؤکا شکار لگ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ملاقات میں انہوں نے بتایاکہ انہوں نے صوبے میں ایماندار افسر تعینات کئے ہیں اور رشوت کے راستے بند کردیے ہیں اس لیے ان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیاجارہا ہے۔

ورثہ، سیاست اور حکمرانی کی کشمکش

بلوچستان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں ریاستی فیصلے، عدالتی مداخلت، سیاسی بیانیے اور سماجی اضطراب ایک دوسرے سے الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔

والدین اور بیٹی کا رشتہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی بنیاد

والدین اور بیٹی کا رشتہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ بیٹی کی شخصیت سازی، خوداعتمادی اور مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔