ورثہ، سیاست اور حکمرانی کی کشمکش
بلوچستان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں ریاستی فیصلے، عدالتی مداخلت، سیاسی بیانیے اور سماجی اضطراب ایک دوسرے سے الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک طرف بلوچستان اسمبلی کی تاریخی عمارت کی ممکنہ مسماری کے خلاف عدالتِ عالیہ کا عبوری حکمِ امتناع ہے، دوسری جانب سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے اس فیصلے پر شدید ردعمل اور ساتھ ہی مدارس، امن و امان اور وسائل کی تقسیم جیسے حساس معاملات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی۔یہ سب مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں۔ کیا بلوچستان میں ترجیحات کا تعین عوامی مفاد کے مطابق ہو رہا ہے یا فیصلے کسی اور سمت میں جا رہے ہیں؟
بلوچستان ہائی کورٹ کا اسمبلی عمارت کی مسماری کے ٹینڈر پر حکمِ امتناع صرف ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ریاستی اداروں کے اقدامات کو آئینی اور عوامی کسوٹی پر پرکھا جانا ضروری ہے۔ درخواست گزاروں کا یہ موقف کہ اسمبلی کی عمارت محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور قومی ورثہ ہے، اپنی جگہ خاصا وزن رکھتا ہے۔ کسی بھی قوم کی شناخت اس کے تاریخی آثار، تاریخی عمارتوں اور اداروں سے جڑی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کسی عمارت کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے پس منظر، ضرورت اور متبادل منصوبہ بندی پر سنجیدہ بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔یہاں سوال صرف ایک عمارت کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ جب صوبہ معاشی مشکلات، تعلیمی بحران، بے روزگاری اور امن و امان کے مسائل سے دوچار ہو تو ایسے میں ایک نئی عمارت کی تعمیر کو کس حد تک ترجیح دی جا سکتی ہے؟ یہ وہ نکتہ ہے جسے سیاسی حلقوں خصوصاً نوابزادہ لشکری رئیسانی نے شدت سے اٹھایا ہے۔
ان کا موقف ہے کہ ایسے فیصلے وسائل کے غیر ضروری استعمال اور ممکنہ بدانتظامی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ وسائل کی تقسیم کے بڑے مسئلے کی علامت ہے۔ سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کے مطابق اسمبلی عمارت نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتی ہے بلکہ یہ بلوچ ثقافت اور شناخت کی نمائندہ بھی ہے۔ ان کی تجویز ہیکہ اس عمارت کو مسمار کرنے کے بجائے میوزیم یا لائبریری میں تبدیل کر دیا جائے۔ دنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں سندھ اسمبلی کی مثال دی جا سکتی ہے جہاں نئی عمارت کے باوجود پرانی عمارت کو محفوظ رکھا گیا۔ اگر واقعی نئی عمارت کی ضرورت ہے تو اس کے ساتھ ساتھ پرانی عمارت کے تحفظ کا منصوبہ بھی ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ثقافتی ورثہ محفوظ رہتا بلکہ حکومت پر لگنے والے اعتراضات کی شدت بھی کم ہو سکتی تھی۔
دوسری جانب جب ہم مدارس کے حوالے سے جاری کشیدگی اور جمعیت علمائے اسلام کے سخت موقف کو دیکھتے ہیں تو صورتحال پیچیدہ معلوم ہو تی ہے۔مدارس کے حوالے سے قانون سازی، رجسٹریشن اور نگرانی کے معاملات ہمیشہ حساس رہے ہیں لیکن جب ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر سوالات اٹھتے ہیں تو یہ معاملہ صرف تعلیمی نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔اس صورتحال میں مولانا ادریس کی شہادت کا واقعہ مزید تشویش کا باعث ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ ریاستی رٹ کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ایک معروف مذہبی شخصیت بھی محفوظ نہیں تو عام شہری کے تحفظ کا کیا حال ہوگا؟مبصرین کے مطابق امن و امان کی مخدوش صورتحال، اغوا برائے تاوان، اور نقل و حرکت میں خطرات یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر حکومتی توجہ ان بنیادی مسائل کے بجائے متنازع منصوبوں پر مرکوز رہے تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔یہ تمام صورتحال دراصل گورننس کے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت، مشاورت اور ترجیحات کے درست تعین کے ذریعے اپنا اعتماد بحال کرے۔
بلوچستان جیسے حساس مگر وسائل سے مالا مال صوبے میں ہر فیصلہ دوررس اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ یہاں محض ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کافی نہیں بلکہ ان کی ضرورت، شفافیت اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اگر فیصلے بند کمروں میں کیے جائیں اور عوام کو صرف نتائج کا سامنا کرنا پڑے تو ردعمل آنا لازمی ہے۔اگر اسمبلی کی عمارت واقعی مخدوش ہے تو اس کی تکنیکی جانچ کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔ اگر نئی عمارت ضروری ہے تو اس کے ساتھ پرانی عمارت کے تحفظ کا واضح منصوبہ بھی پیش کیا جائے۔ اسی طرح مدارس کے معاملے میں محاذ آرائی کے بجائے مشاورت کو فروغ دیا جائے تاکہ ایسا حل نکل سکے جو آئین، ریاست اور معاشرے تینوں کے لیے قابل قبول ہو۔بلوچستان اس وقت جس مرحلے سے گزر رہا ہے وہاں ہر فیصلہ تاریخ کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس معاملے میں مثبت کردار ادا کرتی ہے یا تنازعات کو مزید گہرا کرتی ہے۔ عوام کی نظریں ریاستی اداروں پر ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ اعتماد، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو استحکام اور ترقی کی جانب لے جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ڈیپ سی پورٹ پر پہلا بڑا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہازایم وی شو لانگ کامیابی کے ساتھ لنگر انداز ہوگیا ہے جو خطے میں اس بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر ہے۔جہاز پر 16 ہزار 77 میٹرک ٹن ٹرانس شپمنٹ کارگو موجود ہے جس میں 13 ہزار سے زائد پیکجز پر مشتمل چینی ساختہ صنعتی آلات ہیں۔ یہ سامان دراصل کویت کے لیے روانہ کیا گیا تھا تاہم آبنائے ہرمز کی بندش اور جاری بحری صورتحال کے باعث اسے متبادل راستے کے طور پر گوادر منتقل کیا گیا۔ گزشتہ ماہ کے دوران گوادر بندرگاہ پر چار ٹرانس شپمنٹ جہازپہنچے تھے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ علاقائی اور عالمی تجارتی روٹس میں گوادر کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ڈائیورٹ ہونے والے جہازوں کے لیے برتھنگ، کارگو ہینڈلنگ اور دستاویزی عمل کو موثر انداز میں مکمل کیا جا رہا ہے جس سے بندرگاہ کی آپریشنل صلاحیت اور عالمی سطح پر اس کی قابلِ اعتماد حیثیت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ مئی میں مزید بڑے جہازوں کی آمد متوقع ہے۔ اس حوالے سے پورٹ پر تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں بدلتی جغرافیائی اور بحری صورتحال کے تناظر میں گوادر بندرگاہ ایک متبادل اور محفوظ ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر اْبھر رہی ہے جو نہ صرف خلیجی بلکہ وسطی ایشیائی منڈیوں کے لیے بھی ایک موثر اور کم لاگت تجارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے۔