KPمیں گورننس بحران

تحریر : عابدحمید


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اندرونی اور بیرونی دباؤکا شکار لگ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ملاقات میں انہوں نے بتایاکہ انہوں نے صوبے میں ایماندار افسر تعینات کئے ہیں اور رشوت کے راستے بند کردیے ہیں اس لیے ان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیاجارہا ہے۔

 یہ بات انہوں نے ایک تقریب میں میں بھی کہی۔ ان کا کہناتھا کہ رشوت اور حکومتی خزانہ لوٹنے کا دروازہ بند کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں اورانہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان پر پارٹی کے اندر اور باہر سے تنقید ہورہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے اقدامات نہ کرنے اور کوئی مؤثر حکمت عملی نہ اپنانے پر پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی ان پر تنقید کر رہا ہے۔ ارکان اسمبلی حکومت پر ان کی کمزور گرفت کا شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا کوئی اعلان تو نہیں کیا لیکن خیبرپختونخوا میں ڈرون حملوں کے خلاف پہلے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور پھرلویہ جرگہ بلالیا۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے لویہ جرگہ میں مختلف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر، ارکانِ اسمبلی اور قبائلی مشران نے شرکت کی۔ اس جرگہ میں بھی ماضی کی طرح ایک بارپھر مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر زور دیاگیا اور فیصلہ کیاگیا کہ وفاق اور مقتدرہ کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کئے جائیں گے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اسلام آباد کی طرف مارچ کیاجائے گا۔ لویہ جرگہ میں وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے بقایاجات کیلئے بھی آواز اٹھائی گئی۔ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے اربوں روپے کے بقایاجات ہیں اور یہ واحد مسئلہ ہے جس پر اس صوبے کی حکومت اور اپوزیشن جماعتیں متفق ہوتی ہیں، لیکن کوئی بھی جماعت وفاق میں اپنی حکومت سے یہ مسئلہ حل نہیں کراپائی۔ 

ماضی میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو اس وقت بھی خیبرپختونخوا کو یہ بقایاجات نہ مل سکے بلکہ اس وقت کے صوبائی وزرا بانی پی ٹی آئی سے بقایا جات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے تھے۔پی ٹی آئی کے پاس 2018ء کے انتخابات کے بعد سنہرا موقع تھا کہ وفاق میں اپنی حکومت سے یہ پیسے صوبے میں لاتی لیکن ایسا نہیں کیاجاسکا۔لویہ جرگہ سے قبل اسی طرح کی ایک بیٹھک وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، وفاقی وزیرداخلہ اور چند اعلیٰ افسروں کے مابین بھی ہوئی جس میں خیبرپختونخوا میں تمام آپریشنز صوبائی حکومت کی مشاورت سے کئے جانے پر اتفاق کیاگیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جانی تھی جو آج تک تشکیل نہیں دی جاسکی۔ صوبائی حکومت اس پر خاموش ہے۔ادھردہشت گردی کی بات کی جائے تو خطرات صوبائی دارالحکومت تک پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ روز پشاور کے نواح میں ان کی موجودگی کی ویڈیو خطرے کی نشاندہی کررہی ہے۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکس ہیں، کارروائیاں بھی کی جارہی ہیں لیکن سیاسی انتشار، عدم اتفاق اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ پالیسی نہ ہونے کا فائدہ دہشتگردوں کو مل رہاہے۔ یہ بات بھی بجا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جب بھی صوبے کے معاملات کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہیں انہیں پارٹی کے معاملات میں الجھا دیاجاتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سیاسی معاملات پارٹی دیکھتی اور وزیراعلیٰ حکومتی معاملات کو دیکھتے۔

ادھراحمد خان نیازی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے ریلی نکالنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے رفقا یہ سمجھتے ہیں کہ احمد خان نیازی کو ان کے مخالف گروپ کی حمایت حاصل ہے اورانہیں اس کیلئے اکسایاجارہا ہے۔ احمد خان نیازی ٹانک سے ریلی نکال پاتے ہیں یا نہیں اس سے قطع نظر صوبائی حکومت ان کے موٹروے انٹرچینج بندکرنے کے اعلان پر پریشان ہے۔ سڑکوں کی بندش کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا بڑاواضح حکم ہے، صوبائی حکومت کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ایسے کسی بھی لانگ مارچ اور موٹروے کی بندش کو کیسے روکاجائے جس کا اعلان ان کی اپنی پارٹی کی طرف سے کیاگیا ہے۔ اگرصوبائی حکومت طاقت کے زور پر لانگ مارچ یا موٹروے کو بندکرنے سے روکتی ہے تب بھی ورکرز کی جانب سے شدید ردعمل آسکتا ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مخالف گروپ اس ردعمل کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔ اگرنہیں روکتے اور موٹروے بند کردی جاتی ہے تو ایک طرف تو پشاور ہائیکورٹ کا حکم آڑے آتا ہے اور دوسری جانب یہ تنقید بھی ہوسکتی ہے کہ اس قسم کا اعلان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یا پارٹی کی قیادت کی طرف سے کیوں نہیں کیاگیا۔ وزیراعلیٰ جنہوں نے اس سے قبل ایسا سیاسی بار گراں نہیں اٹھایا،کیلئے صورتحال گمبھیرہے۔

ابتدا کے چند ماہ تو سہیل آفریدی کامیابی سے اپنے کارڈ کھیلتے رہے لیکن ان پر ہونے والی سیاسی یلغار انہیں سنبھلنے اور سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دے رہی۔ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی طرح ان کے پاس بھی وقت کم ہے انہیں اس مختصروقت میں نہ صرف حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی بلکہ پارٹی کے اندر اور باہر ناقدین کا بھی منہ بند کرنا ہوگا۔اگرچہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہناہے کہ ان کی حکومتی معاملات پر گرفت مضبوط ہے، بیوروکریسی ان کے تابع ہے، کرپشن نہیں ہورہی بلکہ اس کے راستے بند کردیئے گئے ہیں، تو یہ سب انہیں ثابت بھی کرنا ہوگا۔جہاں تک بیوروکریسی پر کنٹرول کی بات ہے تو شواہد کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ اس وقت بیوروکریسی اتنی مضبوط ہے جتنی ماضی میں محمود خان کے دور میں بھی نہیں تھی۔ حالیہ مختلف تبادلوں اورتعیناتیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مالی بے قاعدگیوں کی خبریں بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، چاہئے تو یہ کہ صوبائی حکومت ایسی خبروں کی تحقیقات کرواتی اورصوبے میں احتساب کا نظام قائم کرتی جو پی ٹی آئی کا ماضی قریب میں نعرہ تھا۔اس وقت صوبے میں احتساب کے نظام کی اشد ضرورت ہے، بیوروکریسی اور صوبے کے مالی معاملات کو شفاف بنانا ضروری ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر ایک تین رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی جس کے سربراہ بریگیڈیئر(ر) مصدق عباسی تھے جبکہ سابق گورنر شاہ فرمان اور قاضی انور بھی اس کمیٹی کا حصہ تھے۔ اگرچہ اس کمیٹی نے کوئی خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھائی لیکن ایک کام اچھاکیا جو یہ تھا کہ محکمہ انسداد بدعنوانی کو مضبوط بنانااورنئی قانون سازی کی گئی جس میں اس صوبائی محکمے کو کافی اختیارات دیئے گئے۔ تاہم بیوروکریسی کی مداخلت اور احتجاج پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورنے اس پر عملدرآمد روک دیا۔علی امین گنڈا پور کی رخصتی کے بعد یہ کمیٹی بھی ختم ہوگئی اور اب وزرا اور بیوروکریسی پرنظر رکھنے والا کوئی نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

7 مئی 2026ء کا پاکستان

گزشتہ ایک برس کے دوران دنیا کا پاکستان کو دیکھنے کا انداز نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ مئی 2025ء سے قبل جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق عالمی تاثر کچھ اور تھا۔

معرکۂ حق قومی سیاست پر غالب، سیاسی جماعتوں اور عوام میں فاصلے کیوں؟

پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب‘آپریشن معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یادگاری تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں معرکۂ حق کی یاد!

مئی کا مہینہ پاکستان کے عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں جہاں آم پک پک کر زمین پر گرتے ہیں وہیں پاکستان نے بھارتی جہازوں کو بھی پکے ہوئے آموں کی طرح مار گرایا۔

ورثہ، سیاست اور حکمرانی کی کشمکش

بلوچستان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں ریاستی فیصلے، عدالتی مداخلت، سیاسی بیانیے اور سماجی اضطراب ایک دوسرے سے الجھتے دکھائی دیتے ہیں۔

معرکۂ حق کی فتح پر ملی جوش و ولولہ

گزشتہ سال معرکۂ حق آپریشن بنیان مرصوص میں فتح و کامرانی پرملک بھر کی طرح لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیری بھی شاداں و فرحاں تھے ۔

والدین اور بیٹی کا رشتہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی بنیاد

والدین اور بیٹی کا رشتہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ بیٹی کی شخصیت سازی، خوداعتمادی اور مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔