قربانی صرف رسم نہیں، ایک عظیم عبادت
اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کریں، نمائش کیلئے نہیں
عید الاضحی جس دن مسلمان خوشی مناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جانوروں کو ذبح کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان تمام مذاہب کا سال میں کوئی نہ کوئی دن مقرر ہوتا ہے جس میں وہ خوشی مناتے ہیں اور بطور تہواراس دن کو گزارتے ہیں۔ ہر ایک شخص کو بے صبری کے ساتھ اس دن کا انتظار رہتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بھی سال میں دو تہوار ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک عیدالفطراور دوسرا عید الاضحیٰ ہے، جسے برصغیر میں بقرہ عید کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے جو ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عالم اسلام میں پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔
عید الفطر اور عید الاضحی کا آغاز ہجرت مدینہ کے بعد سے ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے پہلے اہل مدینہ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے تھے۔ آپﷺ نے دریافت کیا کہ ان دونوں کی حقیقت کیا ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ عہد جاہلیت سے ہم اسی طرح دو تہوار مناتے چلے آرہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر دو دن تمہیں عطا کیے ہیں، ایک عید الفطرکا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن۔(سنن ابو داود)
عید الا ضحی دسویں ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔احادیث کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ کو یہ خواب آتا ہے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کیجیے۔ اس دن کو ’’یوم الترویہ‘‘ کہتے ہیں۔ ترویہ رویے سے ہے۔ رویہ انسان کے اند رجو سب سے پہلے خیال آتا ہے، تخیل پیدا ہوتا ہے، اس تخیل کو عربی میں ’’رویہ‘‘ کہتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا دل کہتا ہے کہ پتہ نہیں یہ خدشہ ہے یا دھوکا۔ ابراہیم علیہ السلام عرفات میں پہنچتے ہیں،عرفہ کی رات نوویں ذی الحج دوسری مرتبہ یہی خواب دیکھتے ہیں۔ یہی خواب جو پہلے ’’رویہ‘‘ کی شکل میں تھا، دھندلا خیال تھا، عرفہ کے میدان میں یہ پوری معرفت کے ساتھ الہام ہوتا ہے اور اس خیال کے بارے میں کسی قسم کا بہ ظاہر شک و شبہ نہیں رہتا۔ اس لیے اس کو یومِ عرفہ کہا جاتا ہے کہ وہ خواب جو آٹھ تاریخ کو ایک رویے اور خیال کے آیا تھا، وہ نو ذوالحج کے دن میں بڑی وضاحت کے ساتھ اور پوری معرفت اور عرفان کے ساتھ ان کے سامنے آتا ہے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض شیطانی خیال نہیں ہے۔ یہ نفس کا محض دھوکا نہیں ہے۔ محض ایسا تخیل نہیں ہے کہ جو ناقابلِ عمل ہو، یہ قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔ اب وہاں سے پختہ عزم کرکے چلتے ہیں اور اگلے تیسرے دن دس ذوالحجہ کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا اور ان پر چھری پھیری، جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھا عطا فرمایا۔ اس طرح یہ پورا کا پورا قربانی کا عمل وجود میں آگیا، اس لیے اس دن کو ’’یوم النّحر‘‘ کہتے ہیں۔
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ عید الاضحی کے موقع پر اپنی نفسانی خواہشات ذبح کرنے کے نکتۂ نظر سے جانور قربان کرے، نمائش کیلئے نہیں۔ اور نہ اس جانور کا گوشت کھانے کی نیت سے ذبح کرے، ورنہ تو ویسے ہی ذبح کرکے گوشت کھایا جاسکتا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر جانور ذبح کرنا اس دن کا سب سے افضل ترین عمل ہے۔ یہ دراصل اپنے وجود کی نفسانی خواہشات پر چھری پھیرنا ہے۔ سرمایہ پرستی، ظلم، تکبر، غرور، حسد، کینہ، بغض، عداوت اور حیوانیت کے اثرات ہوں، جیسے دوسرے انسانوں کو حقیر سمجھنا ہے وغیرہ وغیرہ تمام بد اخلاقیوں پر چھری پھیرنا ہے۔ چھری پھیرتے وقت یہ نیت اور عزم ہو تو پھر تو قربانی واقعتاً قربانی ہے۔ اگر محض رسم ہو، محض روایت ہو اور محض کھانے پینے کا معاملہ ہو تو یہ کوئی قربانی نہیں ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے قرآن کریم میں واضح طور پر کہہ دیا کہ ’’اللہ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا‘‘۔ ’’بلکہ اس قربانی سے تمہارے دلوں کا تقویٰ اللہ تعالیٰ کو مقصود ہے کہ تم متقی بنو‘‘ (سورۃ الحج: 37)۔ حسد، کینہ، بغض، عداوت، ظلم، انسانیت دشمنی کے رویے اپنے اندر سے نکالو اور اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرو۔ اللہ نے جو انسانیت کی خدمت کا، عدل کا، انصاف کا، سخاوت کا، خیرخواہی کا جذبہ تمھارے لیے لازمی قرار دیا ہے، اسے اپنی زندگی کا حصہ بناؤ۔ دلوں میں ایک دوسرے کا ادب پیدا کرو۔ دلوں کو مہذب بناؤ۔ ایسے بنو کہ معاشرے کے مہذب افراد میں شمار ہونے لگو۔
احادیث مبارکہ میں بھی نبی اکرم ﷺنے قربانی کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرتِ زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں: صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:یا رسول اللہ!یہ قربانی کیا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا،تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ،یارسول اللہﷺ !ان میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ فرمایا: ہربال کے بدلے ایک نیکی ہے۔عرض کیا اور اون میں؟ فرمایا: اس کے ہر ہربال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔ (ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی)۔ حضور نبی کریم ﷺکا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔
جس قدر آپ ﷺ نے قربانی کی تاکید فرمائی اور فضیلت بیان فرمائی ایسے ہی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے پر وعید بھی بیان فرمائی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس کے ہاں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔(سنن ابن ماجہ)
اس لیے ہر ایک کو چاہیے کہ جو بھی قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ قربانی کرے اور یہ صرف ایک جانور وغیرہ ذبح کرنے کی حد تک ہی قربانی نہ ہوبلکہ اپنی تمام ناجائز خواہشات، بری عادتیں اور برے اخلاق کی بھی قربانی ہو۔ جانور پر چھری چلاتے وقت یہ عزم کر لیں کہ آئندہ میں کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا، غلط گمان نہیں رکھوں گا، جھوٹ نہیں بولوں گا، حسد، کینہ اور ہر اس بری عادت سے بچوں گا جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے اور ہر وہ کام کروں گا جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حکم فرمایا ہے۔ جب ہماری یہ نیت ہو گی تو قربانی کا مقصد حاصل ہو گا، ورنہ محض جانور ذبح کرنے سے جانور ذبح کرنے والا حکم تو پورا ہو جائے گا اس کے علاوہ قربانی کے مکمل فوائد ونتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کرنے اور اس کے مکمل فوائد و مقاصد حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!