عید الاضحیٰ قربانی تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ
بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں حضرت آدم ؑ کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ قربانی کا عمل ہر اُمت میں مقرر کیا گیا،
سورۃ الحج آیت نمبر 34 میں ارشاد ربانی ہوتا ہے: ’’اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا‘‘، البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔ انہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔
قربانی کیلئے قرآن کریم میں تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
(1)قربانی: ’’(اے نبی مکرم ﷺ! ) آپﷺ ان لوگوں کو آدم ؑ کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کی خبر سنائیں جو بالکل سچی ہے۔ جب دونوں نے (اللہ کے حضور) قربانی پیش کی، سو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) کی قبول نہ کی گئی، تو اس (قابیل) نے (ہابیل سے) کہا: میں تجھے قتل کر دوں گا، اس (ہابیل) نے (جواباً) کہا: بیشک اللہ پرہیزگاروں سے ہی (نیاز) قبول فرماتا ہے۔
(2)منسک: ’’اور ہم نے ہر اُمت کیلئے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان چوپایوں پر جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں، سو تمہارا معبود ایک (ہی) ہے، پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے حبیبﷺ!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ (الحج: 34)
(3)نحر:’’بیشک ہم نے آپﷺ کو (ہر خیر و فضیلت میں) بے انتہا کثرت بخشی ہے۔ پس آپﷺ اپنے رب کیلئے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں (یہ ہدیہ تشکرّ ہے)۔ بیشک آپﷺ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام و نشاں ہوگا۔(الکوثر:1 تا 3)
قرآن کریم سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر قربانی لازم کی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہر امت پر نماز و روزہ فرض فرمائے۔
قربانی کے جانورمیں حصے
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حجِ) تمتع کیا، ہم نے گائے کی قربانی کی اور اس میں سات آدمی شریک ہوئے (صحیح مسلم: 1318)۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس عید الاضحی کا دن آ گیا، سو ہم گائے میں سات افراد شریک ہوئے اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے ( الترمذی:905)۔حضرت اسحٰق بن راھویہ نے اس ظاہر حدیث پر عمل کیا ہے اور وہ اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز کہتے ہیں اور جمہور فقہا نے کہا ہے کہ اونٹ میں بھی صرف سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور ان کا استدلال درج ذیل حدیث سے ہے:حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گائے کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے اور اونٹ کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ ( ابودائود: 2808)
قربانی کے جانور کی عمر
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم صرف ایک سال کا بکرا ذبح کرو اگر وہ تم پر دشوار ہو تو چھ ماہ کا دنبہ (مینڈھا) ذبح کر دو (صحیح مسلم: 1963)۔
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: قربانی کے جانور شنی یا اس سے زیادہ عمر کے ہونے چاہیں۔ (موطا امام مالک :870)، شنی سے مراد دو دانت والا (دوندا)، اور اس کا مصداق ایک سال کا بکرا ہے اور دو سال کی گائے اور پانچ سال کا اونٹ۔ (جامع الاصول، ج2، ص 250)
عیب دارجانورکی قربانی جائز نہیں
وہ عیوب جن کی وجہ سے کسی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ان کی تفصیل احادیث مبارکہ کی روشنی میں حسب ذیل ہے۔
حضرت عبید بن فیروزؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت البراءؓ سے پوچھا: کون سے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگ ظاہر ہو، سنن ترمذی کی ایک روایت میں ہے نہ اتنا کمزور اور لاغر ہو جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ ( ابو داؤد: 2802، الترمذی : 1497)
نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی
نماز عید پڑھنے سے قبل قربانی کرنے سے متعلق چند ایک ارشادات نبویﷺ حسب ذیل ہیں: حضرت جندب بن عبداللہ البجلیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں عیدالاضحیٰ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد، آپ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانیاں کر دی ہیں، آپﷺ نے فرمایا : جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔ (صحیح بخاری: 985)
جانور ذبح کرنے کاطریقہ
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک سینگوں والے مینڈھے کو لانے کا حکم دیا، وہ آپﷺ کے پاس قربانی کرنے کیلئے لایا گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ چھری لائو، پھر فرمایا اس کو پتھر پر تیز کرو، پھر چھری لے کر مینڈھے کو پکڑ کر قبلہ رخ گرایا، پھر اس کو ذبح کرنے لگے اور پڑھا بسم اللہ ! اے اللہ اس کو محمدؐ اور آل محمدؐ اور امت محمدؐ کی طرف سے قبول فرما، پھر اس کو ذبح کر دیا۔ (صحیح مسلم: 1968)
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اور اصحابہ کرامؓ اونٹنی کو نحر کرتے تھے، اس کا الٹاپیر باندھا ہوا ہوتا تھا اور وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی تھی۔ (ابودائود:1767)
قربانی کی کھالوں کامصرف
قربانی کی کھال سے اگر کوئی شخص جائے نماز بنائے تو تمام فقہاء کرام کے نزدیک ایسا جائز ہے۔ اگر فروخت کریں تو اس کی قیمت مناسب مصرف میں استعمال کی جائے، اپنے پاس نہ رکھی جائے۔ یہ کھالیں کسی بھی فلاحی و دینی کام میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ مسجد، مدرسہ، رفاہی ادارے، غریب، یتیم، بیوہ وغیرہ کو دے سکتا ہے۔ امام مسجد اگر غریب ہے تو بطور اعانت اسے بھی کھال دے سکتے ہیں۔ غربا و مساکین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے بااعتماد فلاحی ادارے کو دی جا سکتی ہیں۔ غریب و مستحق طلبا کی تعلیم پر خرچ کی جا سکتی ہیں۔بیمار لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خرچ کی جا سکتی ہیں۔
حلال جانور
کے حرام اعضاء
حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر کچھ حصے حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ بکری (وغیرہ) میں سات اعضاء کو مکروہ خیال کرتے تھے :پتہ،مثانہ، پچھلی اور اگلی شرمگاہ، کپورے، غدود، خون (وقتِ ذبح بہتا ہوا)۔ (المعجم الاوسط للطبرانی: 9480)
قربانی کے جانورکی اقسام
قربانی کاجانور تین میں سے کسی ایک جنس کا ہونا ضروری ہے۔
(1) بکری، (2) اونٹ، (3)گائے۔ ہر جنس میں اس کی نوع داخل ہے۔ مذکر، مونث، خصی، غیر خصی سب کی قربانی جائز ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری کی جنس میں اور بھینس گائے کی جنس میں شامل ہے۔ کسی وحشی جانور کی قربانی جائز نہیں۔
قربانی کے جانوروں کی عمریں
اونٹ پانچ سال کا، گائے، بھینس دو سال کی، بکری، بھیڑ ایک سال کی۔ یہ عمر کم از کم حد ہے۔ اس سے کم عمر کے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ (ہدایہ ، کتاب الاضحی، ص 345)
قربانی کی فضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :عیدالاضحٰی کے دن قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل محبوب نہیں ہے۔ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، اپنے بالوں اور اپنے کھروں کے ساتھ آئے گا۔ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے سو تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔امام ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ملے گی (الترمذی: 1493)۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں رہے اور آپﷺ ہر سال قربانی کرتے تھے (جامع ترمذی : 1507)۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اپنی قربانیوں کیلئے عمدہ جانور تلاش کرو کیونکہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گے۔ (کنزالعمال،حدیث : 12177)
قربانی کا شرعی حکم احادیث مبارکہ کی روشنی میں
قربانی کے شرعی حکم کے بارے میں چندایک ارشادات نبویﷺ حسب ذیل ہیں:
حضرت مخنف بن سلیمؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ میدان عرفات میں وقوف کر رہے تھے، میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا، اے لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال میں اضحیہ (قربانی) اور عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا چیز ہے؟ یہ وہی ہے جس کو تم رجبیہ کہتے ہو۔ (سنن ابودائود، حدیث : 2788)، علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری لکھتے ہیں: عرب نذر مانتے تھے کہ اگر فلاں کام ہوگیا تو وہ رجب میں ایک قربانی کریں گے اس کو وہ عتیرہ اور جبیہ کہتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا قربانی واجب ہے، انھوں نے کہا :رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی ہے، اس نے اپنا سوال دہرایا: تو حضرت ابن عمر نے کہا: کیا تم کو عقل ہے ! رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے۔ (سنن الترمذی:1506)
قربانی کی دُعاء
جب قربانی کا جانور قبلہ رُخ لٹا لیا جائے تو یہ دُعاء پڑھی جائے:
’’ اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ‘‘
پھر ’’ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ‘‘ کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دُعاء پڑھے:
’’ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھِمَا الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ‘‘