آزاد کشمیر، سیاست کے بدلتے موسم

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے والے 846 امیدواروں کی انتخابی نشانات کے ساتھ حتمی فہرست جاری کردی گی ہے۔

 آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی طور پر 1265 کاغذات نامزدگی داخل کیے گئے تھے۔ ایک ہی امیدوار کی جانب سے جمع کرائے گئے ڈپلیکیٹ اور متعدد کاغذات نامزدگیوں کو چھوڑ کر درست نامزدگیوں کی تعداد 1225 ہوگئی جبکہ 4 جولائی کی آخری تاریخ تک 382 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے۔ان میں ضلع میرپور کے چار حلقوں میں 98، ضلع بھمبر کے تین حلقوں میں 63، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 128، اضلاع باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں 82، پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں 126، ضلع مظفرآباد کے پانچ حلقوں میں 124، وادی جہلم کے دو حلقوں میں 34، جموں کے مہاجرین کے لیے مختص چھ حلقوں میں 82 اور وادی کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص چھ حلقوں میں 56 امیدواروں نے کاغذات واپس لیے۔ 2021ء کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد 708 امیدوار مقابلے میں رہ گئے تھے۔ آزاد جموں و کشمیر کے 33 اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں کو ملا کر کل 45 سیٹوں پر 27 جولائی کو پولنگ ہوگی اور آزاد جموں وکشمیر کے لوگ اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے رائے دہند گان اپنی مرضی سے اگلے پانچ سال کے لئے نمائندے منتخب کریں گے۔

 مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے چند ایک حلقوں کو چھوڑ کر ٹکٹ پرانے چہروں کو ہی جاری کئے ہیں۔ جن امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کئے انہیں استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے دامن میں لے لیا ہے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن بائیکاٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کر سکتی ہے لیکن آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف انتخابی مہم میں نظر نہیں آرہی۔ 2021ء میں پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر کی 33نشستوں میں سے 15 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو ئی تھی۔تاہم اب پاکستان تحریک انصاف کمزور ہوچکی ہے تو ان حالات میں اس جماعت کے امیدواروں کیلئے آزاد جموں و کشمیرمیں (ن) لیگ یا پیپلزپارٹی کے امیدواروں کا مقابلہ مشکل ہے۔آزاد کشمیر کے زمینی حقائق اور سیاسی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ درست معلوم ہوتاہے تاہم جمہوری عمل میں اس طرح کے فیصلے جہاں جمہوریت پسندوں کو صدمہ پہنچاتے ہیں وہاں ان سے جمہوریت کی روح بھی متاثر ہو تی ہے۔

 ادھر چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے اور الیکشن جیتنے والی جماعت کو اقتدار منتقل کیا جائے گا۔ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے واضح کیا ہے کہ 27جولائی کو ریاست بھر میں انتخابات کے لیے پولنگ ہوگی، کسی بھی حلقے میں انتخابات مؤخر نہیں کیے جارہے۔

 آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامہ پر استحکام پاکستان پارٹی کا نام بھی سننے میں آ رہا ہے۔ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہ ملنے کے بعد دوبارہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اوروہ تین حلقوں، ایل اے 15 وسطی باغ، ایل اے 22 پونچھ پانچ اور ایل اے 25 بالائی نیلم ون سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ (ن) لیگ اورپیپلزپارٹی سے ناراض امیدوار بھی اس نومولود جماعت میں شامل ہورہے ہیں۔ ان امیدواروں کو اپنی برادریوں اور اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں چھوٹی چھوٹی برادریوں کی حمایت حاصل ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کو آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی دنگل میں کودنے کا جو موقع ملا ہے وہ اس کے لیے کس قدر سود مند ثابت ہوتا ہے یہ 27 جولائی شام کو انتخابی نتائج سے سامنے آجائے گا۔

انتخابی شیڈول آنے کے بعد جون کے آخری ہفتہ تک آزاد جموں و کشمیر کے سارے انتخابی حلقوں میں پرُ امن الیکشن مہم جاری تھی اور ہر جماعت کا امیدوار اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے دیہی علاقوں میں انتخابی عمل میں مصروف تھا۔تاہم یکم جولائی کو وادی نیلم کے علاقے کنڈلی شاہی کے نواح میں مسلم لیگ( ن) کے قافلے پر حملے اور اس عمارت پر فائرنگ کیاطلاع آئی جس میں (ن) لیگ کے صدر اور وادی نیلم کے امیدوار شاہ غلام قادر موجود تھے۔ انہوں نے الزام لگا یاکہ پہلے ان کے قافلے پر کٹن کے قریب حملہ کیا گیا اور پھر باٹا کے مقام پر فائرنگ کی گئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے نائب صدر میاں عبد الوحید نے مسلم لیگ ( ن) کے صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ اسی طرح راج محل کوٹلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک نواز کی گاڑی پر حملے کی اطلاع آئی جس میں مبینہ طور پر اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوا جبکہ مظفرآباد میں مسلم لیگ ( ن)کے ایک اور امیدوار ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی پر بھی انتخابی مہم کے دوران حملہ کیا گیا۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے اب بھی بیشتر انتخابی حلقوں میں غیر یقینی صورت حال ہے لیکن الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے واضح کیا ہے کہ 27جولائی کو ریاست بھر میں انتخابات کے لیے پولنگ ہوگی اور کسی بھی حلقے میں انتخابات مؤخر نہیں کیے جارہے۔یہ خوش آئند بات ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد کا بھی ماننا ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے آزاد جموں و کشمیر کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے

نصیحت آموز باتیں

٭…پانی ضائع نہ کریں۔٭…کھانا ضائع نہ کریں۔