آزاد کشمیر، انتخابی مہم عروج پر

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں دس دن رہ گئے ہیں۔ یہ انتخابات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جہاں ایک طرف کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی راولاکوٹ میں دھرنا دیئے بیٹھی ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف الیکشن کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہے۔

 ان حالات میںامیدوارں کی جانب سے انتخابی مہم عروج پر ہے تاہم اس مہم میں سیاسی جماعتوں کی قومی لیڈرشپ اس طرح متحرک نظر نہیں آتی جس طرح ماضی میں وہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ چند روز سے راولاکوٹ شہر کے علاوہ آزاد کشمیر کے نو اضلاع کے 31 انتخابی حلقوں میں بینرز، پوسٹرز اور مختلف جماعتوں کے امیدواروں کی جھنڈیاں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں جلسوں کا شیڈول جاری کیا ہے لیکن مسلم لیگ (ن)کے عابد شیر علی اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکے علاوہ کوئی رہنما آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں نظر نہیں آرہا۔ 

آزاد کشمیر کی 80 فیصد آبادی دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں انتخابی مہم، کارنر میٹنگز اور جوڑ توڑ عرج پر ہے اور وہاں انتخابات کے حوالے سے ماضی کی طرح گہما گہمی بھی نظر آ رہی ہے۔ بعض انتخابی حلقوں میں جوڑ توڑ کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کیلئے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حلقہ لچھراٹ مظفرآباد میں پیپلزپارٹی کے بازل نقوی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں چوہدری شہزاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جبکہ حلقہ کوٹلہ مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں نورین عارف اور جاوید ایوب کے انتخابی کیمپوں میں اس وقت سیاسی بھونچال آگیا جب دونوں جماعتوں کے امیدواروں کو معلوم ہوا کہ آئی پی پی کے امیدوار چوہدری تبارک اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اور اسی حلقے سے 2021ء کے الیکشن میں دوسرے نمبر پر آنے والے میر عتیق الرحمان نے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کے بعد آئی پی پی کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ چوہدری تبارک ماضی میں پہلے پی ٹی آئی اور پھر( ن) لیگ میں شامل ہوئے تھے اس بارٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آئی پی پی کے امیدوار بن گئے۔ تاہم میر عتیق الرحمان نے آئی پی پی کے امیدوار کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے۔ دار الحکومت مظفرآباد کی نشست پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں افتخار گیلانی اور مختار عباسی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

یہ نشست 2021ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل خواجہ فاروق نے جیتی تھی۔ ان کی جماعت کے الیکشن بائیکاٹ کے بعداس حلقے میں ووٹ تقسیم ہو کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو جا ئیں گے۔ مظفرآباد ڈویژن کے دو اہم انتخابی حلقوں اپر نیلم اور لوئر نیلم میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر اور پیپلزپارٹی کے امیدوار میاں عبد الوحید کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ 2021ء کے انتخابات میں شاہ غلام قادر اپر نیلم اور میاں عبد الوحید لوئر نیلم کے حلقے سے جیتے تھے۔ اس مرتبہ اپر نیلم سے آخری وقت میں صدر آئی پی پی سردار تنویر الیاس نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تاہم نیلم میں اب بھی اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدوارں کے درمیان ہے۔ جہلم ویلی کے تین انتخابی حلقوں چکار، لیپہ اور ہٹیاں گڑھی دوپٹہ میں بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان متوقع ہے۔ انتخابی حلقہ چکار جہاں (ن) لیگ کے امیدوار فاروق حیدر اور پیپلزپارٹی کے امیدوار اشفاق ظفر آمنے سامنے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر مشتاق نے بھی یہاں انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر مشتاق اور فاروق حیدر کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے۔ 2021ء میں پیپلزپارٹی کے امیدوار اشفاق ظفر ( ن) لیگ کے امیدوار فاروق حیدر سے چند سو ووٹوں سے ہار گئے تھے اور نتائج کے خلاف اشفاق ظفر نے بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ اس مرتبہ چکار کے حلقے میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ( ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہو گا۔

لیپہ ویلی میں 2021ء میں پی ٹی آئی کے امیدوار دیوان چغتائی الیکشن جیتے تھے۔ دیوان چغتائی پی ٹی آئی کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے اور اب ان کا مقابلہ ( ن) لیگ کے امیدوار چوہدری عبد الرشید کے ساتھ ہو گا۔ چوہدری عبد الرشید ہٹیاں گڑھی دوپٹہ سے 2021 کا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتے تھے۔ لیپہ ویلی میں چوہدری عبد الرشید کی اپنی گجر برادری کا کافی ووٹ بینک ہے۔ ہٹیاں گڑھی دوپٹہ میں مسلم لیگ ( ن) کے امیدوار ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی کا مقابلہ پیپلزپارٹی کے مبشر منیر اعوان کے ساتھ ہو گا۔ مظفرآباد ڈویژن کا ایک اور اہم انتخابی حلقہ کھاوڑہ جہاں 2021ء میں پیپلزپارٹی کے امیدوار لطیف اکبر الیکشن مسلم کانفرنس کے امیدوار ثاقب مجید سے جیت گئے تھے۔ اس مرتبہ ثاقب مجید مسلم کانفرنس کو چھوڑ کر مسلم لیگ( ن) کے ٹکٹ پر کھاوڑہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور اس بار بھی دونوں امیدواروں کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے۔ 

مجموعی طور پر آزاد جموں و کشمیر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ انتخابی موسم گرم ہو رہا ہے تاہم راولاکوٹ اور سدھنوتی کے دو انتخابی حلقوں کو چھوڑ کر حویلی اور باغ کے چار انتخابی حلقوں میں بھی انتخابی مہم عروج پر ہے۔ راولاکوٹ ڈویژن کے اہم انتخابی حلقے حویلی سے تین دن قبل وزیر اعظم فیصل راٹھور انتخابی جلسے سے خطاب کر کے آئے۔ باغ، دھیر کوٹ اور حویلی کے انتخابی ماحول کو دیکھ کر غالب امکان ہے کہ راولاکوٹ ڈویژن کے دو انتخابی حلقوں کو چھوڑ کر آزاد کشمیر کے باقی 31 اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں میں مقررہ وقت پر 27 جولائی کو الیکشن ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے