بلوچستان میں دیرپا امن کا راستہ
دہشت گردی سے متاثر بلوچستان ایسی کیفیت میں ہے جہاں خوف ہردن شہریوں کا استقبال کرتا ہے۔ہر دن کسی نئے واقعے، کسی نئے احتجاج، کسی نئے آپریشن اور کسی نئے تنازعے کی خبر لے کر آتا ہے۔
صوبہ بھر میں سفر دشوار اور ذرائع معاش محدود ہوچکے ہیں۔ایک طرف سیکورٹی ادارے اور پولیس آپریشن شعبان کے تحت مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں تو دوسری طرف ماشکیل میں روزی کمانے آئے پانچ بے گناہ مزدور دن دہاڑے قتل کر دیے گئے۔ادھر زیارت کے شہداکے لواحقین گزشتہ کئی روز سے اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ انصاف کے لیے احتجاجاً دھرنا دئیے ہوئے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں حکومت کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں جبکہ قلات ڈویژن کے نام کی تبدیلی نے ایک نئے آئینی، سیاسی اور تاریخی مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔ یہ تمام واقعات بظاہر ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں اور وہ حقیقت بلوچستان میں امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ، انصاف، مؤثر حکمرانی، عوامی اعتماد اور تاریخی شناخت کا بحران ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آج بلوچستان کے عوام کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کتنے دہشت گرد مارے گئے یا کتنے آپریشن ہوئے بلکہ یہ ہے کہ آخر عام شہری کب محفوظ ہوں گے؟ جب تک بلوچستان کے ہر شہری کو یہ یقین نہیں ہوتاکہ اس کی جان، عزت اور مستقبل محفوظ ہے اس وقت تک امن اور ترقی کا ہر دعویٰ نامکمل رہے گا۔بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، شورش، فرقہ واریت اور بیرونی مداخلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ان حالات میں سکیورٹی فورسز، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے امن کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ آپریشن شعبان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا مقصد دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیاں ناگزیر ہیں لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امن صرف عسکری کارروائیوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عوام کا اعتماد، مضبوط سول ادارے، بروقت انصاف اور مؤثر طرزِ حکمرانی بھی اتنے ہی ضروری ہے۔ماشکیل میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ محنت کشوں کا قتل نہ صرف سفاکانہ واقعہ ہے بلکہ یہ پورے ملک کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے گھروں سے دور محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ ان کا تعلق کسی سیاسی یا عسکری سرگرمی سے نہیں تھا بلکہ وہ صرف رزق کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔ ایسے بے گناہ مزدوروں کا قتل انسانیت، اسلام اور بلوچ روایات سب کے منافی ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا بلکہ بلوچستان میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں میں بھی خوف پیدا کر دیا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔
دوسری جانب زیارت میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور اس کے بعد لواحقین کا احتجاج بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی کارروائی یا تعیناتی میں انتظامی کمزوری، وسائل کی کمی یا غفلت موجود تھی تو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شہداکے اہل خانہ صرف مالی امداد نہیں بلکہ انصاف، جوابدہی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ضمانت چاہتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف دہشت گردوں کا تعاقب کرنا نہیں بلکہ اپنے ان اہلکاروں کا بھی تحفظ یقینی بنانا ہے جو قانون کی عملداری کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔کوئلہ پھاٹک پر لواحقین اور مختلف سیاسی و قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کے دھرنے نے جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا وہیں کوئٹہ کی سول سوسائٹی عام لوگوں اور سیاسی جماعتوں کا جذبہ بھی قابلِ دید ہے۔ دھرنے کے شرکاکی جانب سے چارمطالبات پیش کئے گئے تھے جن میں حکومت نے واقعہ کی جوڈیشنل انکوائری اورشہداکے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی کے مطالبات تسلیم کرلیے ہیں لیکن دو مطالبات جن میں لیویز کی بحالی اور زیارت اور گرد ونواح سے سیکورٹی چیک پوسٹوں کا خاتمہ پر ڈیڈ لاک ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں حالیہ سیاسی تنازعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ قلات ڈویژن کے نام کی تبدیلی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنا اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کا احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتظامی فیصلوں میں عوامی مشاورت کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی علاقے کی تاریخی شناخت اور ثقافتی ورثہ محض ایک نام نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے اجتماعی شعور اور تاریخ کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کسی انتظامی فیصلے سے عوام کی بڑی تعداد خود کو نظر انداز محسوس کرے تو بہتر یہی ہے کہ حکومت مشاورت سے اس معاملے کو حل کرے تاکہ کشیدگی پیدا نہ ہو۔
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہے مگر اس کی اصل طاقت اس کے معدنی ذخائر نہیں بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ اگر عوام خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں گے تو یہی عوام دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ثابت ہوں گے۔ امن بندوق کے سائے میں قائم کیا جا سکتا ہے لیکن اسے دیرپا صرف انصاف، اعتماد، قانون کی بالادستی، عوامی شمولیت اور مساوی ترقی ہی بنا سکتی ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ سماجی، معاشی اور انتظامی عوامل بھی ہیں۔ بے روزگاری، پسماندگی، بنیادی سہولتوں کی کمی، تعلیم اور صحت کے مسائل، کمزور بلدیاتی نظام اور بعض علاقوں میں ریاستی اداروں تک محدود رسائی وہ چیلنجز ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچیں گے امن کے ثمرات محسوس نہیں ہوں گے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے تمام معاملات کو سیاسی وابستگیوں اور جذباتی نعروں کے بجائے قومی ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جائے۔ اگر ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ، انصاف کی بروقت فراہمی اور بہتر حکمرانی کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور سیاسی قیادت قومی مفاد کو ذاتی و جماعتی مفادات پر مقدم رکھے تو یہ صوبہ امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، کیونکہ طاقت سے علاقے فتح کیے جا سکتے ہیں مگر دل صرف انصاف، احترام اور خدمت سے جیتے جاتے ہیں۔بلوچستان کے عوام آج سب سے زیادہ انصاف، احترام اور اعتماد کے منتظر ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments