خیبر پختونخوا،حکومتی ترجیحات پر سوالات

تحریر : عابدحمید


خیبرپختونخوا میں آئے روز نیا ہنگامہ برپا ہوتا ہے، کبھی بجٹ کو پیش کرنے اورمنظورکرنے یا نہ کرنے پر تو کبھی اراکین ِاسمبلی کو بلیو پاسپورٹ دینے اور صحافیوں پر جرمانوں اور سزاؤں کے نئے قانون پر۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ بجٹ کو منظور نہ کرنے کیلئے اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی اراکین دباؤ ڈال رہے تھے۔بجٹ منظور ہوگیا لیکن اسی دوران ایک ایسا متنازع بل منظور کرلیاگیا جو حکومت کے لیے ہزیمت کا سبب بنا۔ یہ بل ایوان میں پیش کیاگیاتو اس پر شدید تنقید ہوئی جس کے بعد یہ کمیٹی کے حوالے کردیاگیا پھراس میں راتوں رات ترامیم کی گئیں اور اورکابینہ سے منظوری کے بغیر کمیٹی نے اسے نہ صرف منظورکرلیا بلکہ گورنر سے بھی دستخط کروالئے۔ بل میں صحافیوں سے متعلق متعدد پابندیاں اور سزائیں اورجرمانے شامل کئے گئے تھے جس پر احتجاج کیاگیا تووزیراعلیٰ نے تنقید کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کو بھیجنے کی ہدایت کی اور سپیکر کو بھی اس معاملے کو دیکھنے کو کہا۔ کمیٹی کا اجلاس ہوا اوراب بل میں کی گئی ترامیم واپس لینے پر غور کیاجارہا ہے۔ صوبائی وزیراطلاعات شفیع جان نے بھی صحافیو ں سے متعلق ترامیم واپس لینے کا عندیہ دیاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق بل پر سب سے زیادہ سٹینڈ حکومت کے بجائے اپوزیشن کے اراکین لے رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جہاں عوامی مسائل سامنے آئیں وہاں اپوزیشن اور حکومت آپس میں لڑتے رہتے ہیں لیکن جب بات ان کی اپنی مراعات کی آئی تو محمود و ایازیک زبان ہو گئے۔ اس بل سے کسی کو فائدہ ہوا یا نہیں سب سے زیادہ نقصان خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہوا ہے۔ اس سے قبل بجٹ پیش کرتے وقت ان کے ساتھیوں نے انہیں ٹف ٹائم دیا، جیسے تیسے بجٹ پاس کرلیاگیاتو اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق بل نے ان کیلئے نیا مسئلہ کھڑا کردیا۔

نجانے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو یہ مشورے کون دے رہا ہے جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے اوران کی پوزیشن مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتی جارہی ہے۔ان متنازع فیصلوں نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو چند ماہ میں مقبول سے غیر مقبول بنادیاہے۔ ایک ایسا وزیراعلیٰ جو اپنے فیصلے خود نہیں کرپارہا،ایسا وزیراعلیٰ جس کی حکومتی معاملات پر گرفت کی کمزوری سے اپوزیشن بھی فائدہ اٹھارہی ہے اور حکومتی اراکین بھی۔ رہی سہی کسر ان کے بھائی کی سرکاری امور میں مداخلت نے پوری کردی ہے۔ یہ اعتراض کسی اور کی طرف سے نہیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی سمجھے جانے والے عبدالغنی آفریدی کی جانب سے آیا ہے۔ ایسے ہی اعتراضات اور ان پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پہلے سے گردش میں تھیں جن میں وزیراعلیٰ کے بھائی کو سرکاری پروٹوکول اور سرکاری اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بتایاگیاتھا۔ لیکن اب بات اس سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ گزشتہ روز ضلع خیبرسے منتخب ایم پی اے اور وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے عبدالغنی آفریدی کی جانب سے الزام عائد کیاگیاکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی نوید آفریدی ان کے حلقے میں نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں بلکہ سرکاری اجلاسوں میں بھی شرکت کررہے ہیں۔ عبدالغنی آفریدی ابتدا ہی سے سہیل آفریدی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے، مشکل وقت میں ان کابھرپور ساتھ دیا اور توقع کی جارہی تھی کہ انہیں کابینہ میں شامل کیاجائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا جس پر وہ ناراض ہوگئے، تاہم بجٹ سے قبل وزیراعلیٰ نے انہیں راضی کرلیا لیکن کچھ عرصے بعد وزیراعلیٰ کے بھائی نے ان کے حلقے میں ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا تو یہ ناراضگی پھر پیدا ہو گئی۔

وزرائے اعلیٰ کے رشتہ داروں کی سرکاری امور میں مداخلت کی کہانی نئی نہیں، اس سے قبل محمود خان کے بھائی پر بھی ایسے ہی الزامات لگے تھے۔کہاجاتا تھا کہ کوئی بھی ٹرانسفر پوسٹنگ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ محمود خان کے بعد گورنر غلام علی بھی عبوری حکومت کے دورمیں سرکاری امور میں مداخلت کرتے رہے۔ علی امین گنڈاپور جب وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو ایسے ہی الزامات ان کے بھائی فیصل امین گنڈاپورپر بھی لگتے رہے۔ فیصل امین گنڈاپور ایم این اے ہیں جن کا وزیراعلیٰ ہاؤس اور صوبائی معاملات سے کوئی سروکار نہ تھا لیکن حکومتی امور وہی دیکھ رہے تھے جبکہ علی امین گنڈاپور پارٹی کے معاملات میں الجھے ہوئے تھے۔ اپنے پیشرو کی طرح سہیل آفریدی بھی حکومتی اور پارٹی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں اور یوں لگ رہاہے کہ سرکاری امور ان کیلئے ان کے بھائی دیکھ رہے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر پارٹی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے، رہی سہی کسر بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پوری کردی ہے جو گزشتہ روز دیر پہنچیں جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا۔علیمہ خان نے وہاں جلسہ بھی کیا جس کے بعد وہ چترال روانہ ہوگئیں۔ پارٹی اور صوبائی حکومت کے بغیر علیمہ خان کا دیر پہنچنا اور وہاں پر جلسہ کرنا پارٹی کی قیادت اور صوبائی حکومت کیلئے بڑا سوال ہے۔ اس سے اس عندیہ ملتا ہے کہ علیمہ خان کا پارٹی قیادت یا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر اعتماد نہیں۔ان کے خطاب اور اس دورے سے ثابت ہوتاہے کہ پارٹی میں اختلافات کی خلیج گہری ہے۔ ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اب صوبائی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ حکومت کی ترجیحات میں اپنی مراعات بڑھانا، بلیوپاسپورٹ حاصل کرنا اور صحافیوں پر قدغنیں لگانا سر فہرست ہے۔اسی طرح پارٹی قیادت بھی لاتعلق سی نظرآرہی ہے۔ اسد قیصر،عاطف خان اورشہرام ترکئی جیسے لوگ جنہیں پارٹی کا چہرہ کہاجاتا تھا، سائیڈ لائن پر ہیں۔ کچھ فیصلوں سے بھی حکومتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اراکین اسمبلی کے مراعات والے بل پر جس طرح صوبائی حکومت بیک فٹ پر چلی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے کچھ سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ جس طرح ان کی حکومت میں مبینہ مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں کی شکایات سامنے آرہی ہیں انہیں درست کرنا ہوگا۔یوں لگ رہاہے کہ ان کے پاس بھی وقت کم ہے اوراگربانی پی ٹی آئی سے کسی کی بھی ملاقات ہوتی ہے تو اس میں ان کی جانب سے کوئی بھی غیرمتوقع فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔علی امین گنڈاپوربھی،جن کا پارٹی اور ایوان کے اندر ایک مضبوط گروپ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔ دوسری جانب اس بات کا امکان موجود ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین اسمبلی کو محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے نوٹسزمل جائیں۔ اگرایسا ہوتا ہے تو پارٹی کے اندر جاری کشمکش عروج پر پہنچ سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے