پہیلیاں
رکھی تھی چپ چاپ وہ کیسی،لگتی تھی بس ایسی ویسی
آپ نے اپنے ہونٹ ہلائے
اس نے آپ کو گیت سنائے
(بانسری)
خالی کب ہو ایک گھڑا
جب دیکھو ہے بھرا پڑا
(کنواں)
روڑوں کے اندر تھے روڑے
روڑوں سے ان کے سر توڑے
(اخروٹ)
کبھی ہیں لال کبھی ہیں کالے
لاکھوں بار ہین دیکھے بھالے
(کوئلے)
پیٹ جونہی انگلی سے دبایا
اس نے تو بس شور مچایا
(بندوق)
کبھی اٹھایا کبھی بٹھایا
قدم قدم یوں اسے چلایا
(جوتا)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments