مسلم کانفرنس کے سیاسی زوال کے اسباب۔۔۔؟

تحریر : محمد اسلم میر


94 سال قبل، 1932ء میں جموں و کشمیر کے دارالحکومت سر ینگر کی تاریخی پتھر مسجد میں جس سیاسی جماعت’ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس‘ کی بنیاد رکھی گئی تھی 11 اگست 2026ء کواس جماعت کی واحد نشانی اور آزاد کشمیر کی سیاست میں سات دہائیوں سے زائد عرصے تک راج کرنے والے خاندان کے سیاسی عروج کا خاتمہ ہو گیا۔

 ریاست جموں و کشمیر کی یہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے 19 جولائی 1947ء کو  آبی گزر سرینگر میں جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے قراردادِ الحاق پاکستان منظور کی تھی۔ یہ وہی مسلم کانفرنس ہے جس نے بھیڑی کوٹلہ مظفرآباد میں سابق صدر و وزیر اعظم سردار عبد القیوم خان کی موجودگی میں ’کشمیر بنے گا پاکستان ‘کا نعرہ متعارف کرایا تھا۔یہ وہی سیاسی نعرہ تھا جس کی آڑ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری اور سابق صدر آزاد کشمیر خورشید حسن خورشید کو نہ صرف اقتدار سے محروم کیا گیا بلکہ اس قد آور لیڈر کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے اسے اقتدار سے دور رکھنے کیلئے انہیں ’خود مختار کشمیر ‘ کی سوچ رکھنے والے کشمیریوں کا لیڈر قرار دینے میں بھی سب سے آ گے تھی۔ آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان اور اس کے نظریے کے فروغ کے نام پر سیاست کرنے والی مسلم کانفرنس کو اس وقت پہلا جھٹکا لگا جب 13 جولائی 1974 ء کو آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔

آزاد کشمیر میں 1970ء سے لے کر 1990ء کی دہائی تک مسلم کانفرنس اقتدار میں رہی،اس دوران اس جماعت کے دو چوٹی کے قائدین، سردار عبد القیوم خان اور سردار سکندر حیات خان کے درمیان اختلافات بڑھتے گے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے دو مرتبہ ان سے اقتدار چھین لیا۔ پرویز مشرف کے دور میں مسلم کانفرنس کو دو مرتبہ اقتدار ملا جس میں 2001ء سے 2006ء تک سردار سکندر حیات وزیر اعظم بنے تاہم 2006ء سے 2011 ء کے دوران مسلم کانفرنس کی سیاسی بنیادیں اتنی کمزور ہوگی تھیں کہ پانچ سال کے دوران چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے جن میں سردار عتیق احمد خان پانچ سال کے دوران دو مرتبہ مختصر مدت کیلئے خود بھی وزیر اعظم بنے۔ یہی وہ ادوار تھے جن میں مسلم کانفرنس کا شیرازہ بکھر گیا۔ 

اسی دوران دسمبر 2010ء میں مسلم لیگ( ن) کے قائد محمد نواز شریف نے مظفرآباد میں خورشید حسن خورشید سٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن )کے قیام کا اعلان کیا۔ میاں محمد نواز شریف 1990ء کی دہائی سے 2010 ء تک مسلم کانفرنس کی موجودگی میں علاقے میں مسلم لیگ (ن) کے قیام کے حق میں نہیں تھے۔ یوں وقت گزرتا گیا اورمسلم کانفرنس جو کبھی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت کرتی تھی بتدریج اسمبلی میں اس کی نشستیں کم ہوتی گئیں اور 2021ء کے انتخابات میں یہ جماعت قانون ساز اسمبلی کی ایک نشست تک محدود ہو کر رہ گی۔ 2026ء کے انتخابات میں مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان ایک غیر معروف مگر خدمت خلق سے سر شار جموں و کشمیر عوامی دست و بازو کے امیدوار ساجد اقبال عباسی کے 40522 ووٹوں کے مقابلے میں کل 19 ہزار 637 ووٹ حاصل کر کے 20 ہزار 885ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہار جاتے ہیں۔یوں 90 سال سے زائد عرصے پر محیط ریاست جموں و کشمیر کی پہلی سیاسی جماعت جس کی بنیاد سرینگر کی پتھر مسجد میں عمائدین کشمیر کے اجلاس میں رکھی گئی تھی دھیرکوٹ کی حسین وادیوں میں اپنے بنیادی نظریے سے بعض اوقات سمجھوتے اور مبینہ ناقص سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے انتخابی سیاست سے باہرہو گئی۔

 دوسری جانب آزاد کشمیر کے عام انتخابات کی تاریخ میں اس بڑی انتخابی کامیابی کو ساجد اقبال عباسی دھیرکوٹ کے لوگوں کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ساجد عباسی نے کہا کہ دھیرکوٹ کے لوگوں نے روایتی سیاست پر خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ انسانوں کی خدمت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ لوگوں کی خدمت کا یہ سفر دن رات جاری رہے گا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی۔ ساجد عباسی نے کہا کہ جنہوں نے انہیں ووٹ دئیے یا ان کی مخالفت میں حق رائے دہی کا استعمال کیا وہ اب بلا تخصیص اپنے انتخابی حلقے کے رائے دہندگان کی خدمت کریں گے۔ اس انتخابی معرکے میں ساجد عباسی کو جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی حمایت بھی حا صل تھی۔ ایل اے 15 وسطی باغ میں پی پی پی کے ضیا القمر 16637 ووٹ لے کر آگے رہے جبکہ( ن) لیگ کے امیدوار مشتاق منہاس 15ہزار 63 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر آئے۔

ایل اے 16 شرقی باغ (ن) لیگ کے میر اکبر 18ہزار 950 ووٹ لے کر پہلے جبکہ قمر الزمان 15ہزار 750 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) غلام مصطفی مغل نے ان دونوں انتخابی حلقوں،ایل اے15 باغ 2کے نواور ایل اے16 باغ 3 کے 14 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ 15 اگست کو پولنگ کرانے کا حکم دیا ہے۔ حلقہ ایل اے17 حویلی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل راٹھور کامیاب ہوئے۔الیکشن کمیشن نے فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی کا باضابطہ فارم 27 کے ساتھ سرکاری نتیجہ جاری کر دیا ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں 33872 ووٹ لئے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محسن عزیز کو 32353 ووٹ ملے جبکہ خواجہ طارق سعید نے 12338 ووٹ لئے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق53 کے ایوان میں مسلم لیگ (ن) کو 24 جبکہ پی پی پی کو11 نشستیں ملی ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

انتظامی بحران اور نئے صوبے!

شہباز شریف حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا تقریباً نصف مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے پاس ابھی کافی وقت باقی ہے لیکن اس کی کارکردگی اور مجموعی طرز حکمرانی پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

جشن آزادی اور مکہ معاہدہ

پنجاب کے سیاسی محاذ پر یوم آزادی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور حسبِ روایت جوش و خروش کا ماحول طاری نظر آ رہا ہے۔ مختلف تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

میر رضا کیس، غفلت یا سازش؟

دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ کسی انسان کو قتل کیا جائے اور پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔

ستمبر سے پہلے تبدیلی؟

گزشتہ ہفتے تحریک انصاف پشاور میں ایک اچھا شو پیش کرنے میں کامیاب رہی، اگرچہ یہ ماضی کے جلسوں کی طرح بڑا جلسہ نہیں تھا مگر پھر بھی پچھلے جلسوں سے بہترتھا۔

اعتماد کی بحالی،حالات کا تقاضا!

اگست کا مہینہ قومی بیانیوں کو مرکزی بحث میں لے آتا ہے۔ اس بار بھی بلوچستان بھر میں جشن آزادی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔

ثقافتی اور خاندانی اقدار میں تبدیلی ،خواتین کے کردار میں بدلاؤ

ہمارا معاشرہ طویل عرصے سے مضبوط خاندانی نظام، روایتی اقدار اور باہمی ذمہ داریوں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے جس میں خواتین کا کردار بہت اہم رہا ہے۔