اعتماد کی بحالی،حالات کا تقاضا!
اگست کا مہینہ قومی بیانیوں کو مرکزی بحث میں لے آتا ہے۔ اس بار بھی بلوچستان بھر میں جشن آزادی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔
سرکاری عمارتوں، شاہراہوں اور عوامی مقامات پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں جبکہ کھیلوں، ثقافتی پروگراموں اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو جشنِ آزادی کا حصہ بنایا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان بلوچستان سمیت تمام اکائیوں کی مشترکہ شناخت، آزادی اور قومی وحدت کی علامت ہے اور جشن آزادی محض ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ قومی ذمہ داریوں کی تجدید کا موقع ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان میں تشدد کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پلوں، انفراسٹرکچر اور تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کا براہ راست نقصان بلوچ عوام کو ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بلوچ کو ایک سازش کے تحت لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
دوسری جانب یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے کئی شہروں کی سڑکوں پر خاموشی اس صوبے کی بے چینی کی علامت بن جاتی ہے جہاں شہری امن، محفوظ سفر، روزگار اور سیاسی استحکام کے لیے ایک ہی سوال بار بار اٹھا رہے ہیں کہ معمول کی زندگی کب بحال ہوگی؟ کوئٹہ میں موبائل نیٹ ورک اور موبائل ڈیٹاکی بندش، سوراب میں رات آٹھ بجے سے صبح نو بجے تک کرفیو، قلات میں مخصوص تاریخوں پر رات دس بجے سے صبح سات بجے تک کرفیو، پنجگور میں شاہراہوں اور بازاروں کی بندش جبکہ نوشکی میں انٹرنیٹ سروس کی معطلی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کا بحران اب محض چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات شہری زندگی، کاروبار، تعلیم، آمدورفت اورعوامی اعتماد تک پھیل چکے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر کسی علاقے میں حقیقی اور فوری سکیورٹی خطرات موجود ہوں تو انتظامیہ کے لیے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوجاتے ہیں لیکن یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ کرفیو، موبائل نیٹ ورک اوربازاروں کی بندش، شاہراہوں پر پابندیاں وقتی طور پر خطرات کو قابو کرنے میں مدد دے سکتی ہیں مگر دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ ان اقدامات کے ساتھ سیاسی، انتظامی اور سماجی سطح پر ان وجوہات کا بھی علاج کیا جائے جو بدامنی کو جنم دیتی ہیں۔
عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، انہیں یہ اعتماد بھی دیا جانا چاہیے کہ ریاست ان کے روزمرہ مسائل، کاروبار، تعلیم، علاج اور سفر کے تحفظ کی بھی ذمہ دار ہے۔ کرفیو کے اعلان کے ساتھ اگر شہریوں کو واضح، بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جائیں، سکیورٹی خطرات کی نوعیت سے آگاہ کیا جائے، ضروری خدمات کے لیے مناسب استثنا دیا جائے اور پابندیوں کے دوران عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تو ریاستی اقدامات زیادہ قابل قبول ہوسکتے ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو کا کہناہے کہ حکومت قومی شاہراہوں کو سفر کے لیے محفوظ بنانے کے اقدامات کررہی ہے اور جہاں کرفیو یا آپریشن کی ضرورت ہوگی وہاں یہ اقدامات کیے جائیں گے۔حکومت کا یہ مؤقف اپنی جگہ مگر یہ سوال نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سکیورٹی کارروائیوں اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا؟ امن قائم کرنے کے نام پر اگر کاروبار بند اور شہری خوف میں مبتلا رہیں تو عوامی اطمینان پیدا نہیں ہوگا۔
ادھرجمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی نے بلوچستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اتحاد کی طرف بڑھنے، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے اور ستمبر میں مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔مولانا عبدالواسع نے حکومت سے زیارت سانحے سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی انداز میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔سیاسی قوتوں کو پارلیمان سے باہر کرنے اور زور زبردستی کے ذریعے معاملات چلانے کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی سیاسی جدوجہد اور مذاکرات کو بلوچستان کے مسائل کے حل کا راستہ قرار دیا۔ اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے خضدار میں اسما جتک کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ایک لڑکی کو اس کے گھر میں تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو صوبے میں مجموعی حالات کیسے بہتر ہوں گے؟
انہوں نے بلوچ، پشتون، ہزارہ، آباد کاروں اور دیگر اقوام کے اتحاد کو سبوتاڑ نہ ہونے دینے پر زور دیا۔صوبے کی سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں اختلافات اپنی جگہ مگر ایک قدرِ مشترک بھی نمایاں ہے۔ بلوچستان کو امن، محفوظ شاہراہیں، روزگاراور ایسا سیاسی ماحول چاہیے جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے جہاں ضروری ہوگا کرفیو اور آپریشن کیا جائے گا جبکہ سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ طاقت کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی عمل کو بھی آگے بڑھانا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون بنانا ہوگا۔بلوچستان میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسے جامع امن فارمولے کی ہے جس میں سکیورٹی، سیاست، معیشت اور سماجی اعتماد کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ قومی شاہراہوں کی حفاظت کے لیے مو ٔثر سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔کرفیو ناگزیر ہو تو محدود مدت، واضح جواز اور باقاعدہ معلومات کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ بلوچستان میں امن کا مسئلہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں۔ یہ اعتماد کا مسئلہ بھی ہے، سیاسی نمائندگی کا مسئلہ بھی، روزگار اور محفوظ سفر کا مسئلہ بھی ہے اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے کا مسئلہ بھی۔ اسی لیے آل پارٹیز رہنماؤں کا مؤقف اس بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
بلوچستان میں پائیدار امن نہ آپریشن سے آئے گا، نہ سیاسی نعروں سے اور نہ ہی کرفیو سے، امن اس وقت آئے گا جب قانون کی بالادستی، سیاسی مکالمہ، شفاف نمائندگی، معاشی مواقع اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ایک ہی پالیسی کا حصہ بنیں گے۔ سیاسی قوتیں اگر اس حقیقت کو تسلیم کرکے ایک دوسرے کے خلاف صف بندی کے بجائے مل بیٹھیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں بصورت دیگر کرفیو کی گھڑیاں تو گنی جاسکتی ہیں مگر عوام کے دلوں میں موجود بے یقینی کا وقت ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments