ستمبر سے پہلے تبدیلی؟

تحریر : عابدحمید


گزشتہ ہفتے تحریک انصاف پشاور میں ایک اچھا شو پیش کرنے میں کامیاب رہی، اگرچہ یہ ماضی کے جلسوں کی طرح بڑا جلسہ نہیں تھا مگر پھر بھی پچھلے جلسوں سے بہترتھا۔

 بڑی تعداد نے لوگوں نے شرکت کی، مقصد بڑا جلسہ کرنا نہیں تھا بلکہ لوگ اس فائنل کال کے انتظار میں تھے جس کا اعلان وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکی جانب سے کیاجاناتھا،امیدکی جارہی تھی کہ وہ اسلام آباد کی طرف اگلے ہفتے یا اس سے اگلے ہفتے مارچ کی کال دیں گے، کوئی بڑا اعلان کریں گے لیکن ان کی جانب سے جب سے 27 ستمبر کو مارچ کا اعلان کیاگیا تو کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی۔پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کی گئی اور مارچ کیلئے لمبی تاریخ دینے کو کسی ڈیل کا نتیجہ قرار دیاگیا۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی جانب سے بھی ردعمل آیا اوران سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا دباؤ کام کرگیا۔اگرچہ مارچ 27ستمبر کو ہی کیاجائے گا لیکن اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی ایک اور ڈیڈ لائن بھی دے دی گئی، جن کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی سے جمعرات رات دس بجے تک ملاقات نہ کروائی گئی تو پورے ملک کو ڈی چوک بنادیاجائے گا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کی اور سب کے سوالات کاخندہ پیشانی سے جواب دیا، یہی ان کی خاصیت بھی ہے۔اس ملاقات میں ان کی جانب سے ایک افسر پر دھمکی دینے کاالزام عائد کیاگیاجس کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس الزام کو اٹھایاگیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی افسر وزیراعلیٰ کو دھمکی دیتا ہے تو کیا اسے بیان کرنے کیلئے موزوں پلیٹ فارم اسلام آباد کے صحافی ہیں یا اسمبلی کا فلور ہے ؟اگرواقعی انہیں دھمکی دی گئی تو وزیراعلیٰ نے اسمبلی فلور پر آکر یہ بیان کرنامناسب کیوں نہ سمجھا؟

یہ بات انہوں نے پشاور کے صحافیوں سے ذکر کرنا کیوں ضروری نہ سمجھی جو اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ایسا کیوں کہ انہوں نے اتنے بڑے انکشاف کیلئے وفاقی دارلحکومت کے صحافیوں کو چنا؟بہتر تو یہ ہوتا کہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر بات کی جاتی۔ان کی جماعت کی جانب سے یہ بات اٹھائی جاتی،اسمبلی کے اندر اور باہر اس پر احتجاج کیاجاتا۔بانی پی ٹی آئی کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کادعویٰ ہے کہ انہیں مقتدرہ کی جانب سے خاموش رہنے کا کہاگیا لیکن وہ نہیں مانے، انہوں نے اسمبلی فلور پر یہ بات کی اورعوام میں آکر بھی یہ بات کی۔جب بانی پی ٹی آئی ایسا کرسکتے ہیں تو سہیل آفریدی کیلئے کیا امر مانع ہے؟خیبرپختونخوا اسمبلی کا سیشن جاری ہے، وہ اسمبلی فلور پرآکر پورے ایوان کو اعتماد میں لے سکتے ہیں، اس حوالے سے قرارداد لائی جاسکتی ہے۔ یقیناً اپوزیشن بھی ان کاساتھ دے گی، لیکن اگر ایسا نہیں کیاجاتا تو یقینا ًمعاملہ اتنا سیدھا نہیں۔شنید یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے کچھ دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ 27ستمبر کی لمبی ڈیدلائن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پارٹی کے اندر ان کے حریفوں کا یہی مؤقف ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھاپاتے ہیں۔

ادھر علیمہ خان کی جانب سے بھی 27ستمبر کی ڈیڈی لائن پر حیرانی کا اظہارکیاگیا ہے۔ دوسری جانب میڈیا پر ان کے انٹرویوچلنے پر بھی پارٹی کے اندرسے انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ان کا پارٹی کے اندرمضبوط گروپ نہیں۔پارٹی رہنماؤں پر ان کا کوئی اثرورسوخ نہیں۔ گزشتہ روز ہونے والی کور کمیٹی کے اجلاس میں بھی سہیل آفریدی پر تنقید کی گئی اور ان سے استفسار کیاگیا کہ انہوں نے 27ستمبر کی تاریخ دینے کافیصلہ تنہا کیسے کرلیا،جس پر ان کا کہناتھا کہ انہوں نے یہ تاریخ باہمی مشاورت سے دی ہے۔کور کمیٹی کے اراکین کے مطابق اس تاریخ سے علیمہ خان،محمود خان اچکزئی اورعلامہ راجہ ناصر عباس متفق نہیں۔ورکرز اور پارٹی سوشل میڈیا بھی برہم ہے۔کور کمیٹی میں 14 اگست کو صوبے کو بند کرنے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔جس دن لوگ جشن آزادی منا رہے ہوں گے اس دن کیسے صوبے کو بند کیاجاسکتا ہے؟ان سے یہ بھی پوچھاگیا کہ 14 اگست کو کیوں احتجاج کا اعلان کیاگیا ؟ اس پر وزیراعلیٰ کی جانب سے اراکین اسمبلی کو جمعرات کے روز اڈیالہ کے باہر پہنچنے اور گرفتاریاں دینے کا کہاگیا جس پر اجلاس میں مزید گرما گرمی ہوئی۔

27ستمبر کواسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے قبل پشاور کو بندکرنے اور اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے اعلانات سے ظاہر ہورہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر ورکرز اور پارٹی کے سوشل میڈیا کی طرف سے دباو ٔناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا ہے جو اْن کے فیصلوں پر بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ جس طرح سے 27ستمبر کی ڈیڈلائن پر ردعمل سامنے آرہا ہے اس سے بھی واضح ہوگیا ہے کہ یہ مارچ کتنا کامیاب ہوگا۔اس مارچ سے قبل سہیل آفریدی کو نہ صرف اپنے مخالفین بلکہ اپنے حامیوں کو بھی منانا ہوگا۔صورتحال یہ ہے کہ عدالت کے باہر اعلان کرنے کے باوجود اراکین اسمبلی نہیں پہنچے جس پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ برس پڑے۔ ان کا کہناتھا کہ پانچ لاکھ روپے تنخواہ لینے والے اراکین پارلیمنٹ کو پچاس پچاس ہزار روپے بانی پی ٹی آئی اور ان ورکرز کیلئے نکالنے چاہئیں جو جیلوں میں اسیر ہیں۔ انہوں نے عدالت کے باہر نہ پہنچنے پر اراکین پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایاجس کے بعد پارٹی کے وٹس ایپ گروپ میں مبینہ طورپر سینیٹر مشال یوسفزئی اور ان کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی جس کی مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے۔

یہ اس وقت پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال ہے جس میں رہنما ایک پیج پر نہیں۔مختلف گروپ بنے ہوئے ہیں اور ہر گروپ کی اپنی ترجیحات ہیں۔ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ہے۔ ایک رہنما دوسرے کو کمپرومائزڈ قرار دے رہا ہے۔پارٹی پر کسی کی گرفت مضبوط نہیں اور بیرسٹر گوہر بظاہر ایک نمائشی چیئرمین بن کر رہ گئے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ پارٹی کے اندر دانستہ طورپر یہ اختلافات پھیلائے جارہے ہیں یا اختلافی اور الزامی باتیں کی جارہی ہیں جس کامقصد کارکنوں کو مصروف رکھنا ہے۔ اس تمام صورتحال سے پی ٹی آئی کے ووٹرز اور ورکرز نالاں اور مایوس نظر آتے ہیں۔ ایسے میں کیا 27ستمبر کو مارچ کی کال کامیاب ہوپائے گا؟بظاہر اس کا جواب نفی میں ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اس مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے تمام مخالف گروپوں کو ایک پیج پر لانا ہوگاجو ممکن نہیں رہا۔ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ممکن ہے کہ ستمبر سے قبل ہی کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آجائے۔یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ ہارے ہوئے گھوڑے پر کوئی بھی بازی نہیں لگاتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

انتظامی بحران اور نئے صوبے!

شہباز شریف حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا تقریباً نصف مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے پاس ابھی کافی وقت باقی ہے لیکن اس کی کارکردگی اور مجموعی طرز حکمرانی پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

جشن آزادی اور مکہ معاہدہ

پنجاب کے سیاسی محاذ پر یوم آزادی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور حسبِ روایت جوش و خروش کا ماحول طاری نظر آ رہا ہے۔ مختلف تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

میر رضا کیس، غفلت یا سازش؟

دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ کسی انسان کو قتل کیا جائے اور پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔

اعتماد کی بحالی،حالات کا تقاضا!

اگست کا مہینہ قومی بیانیوں کو مرکزی بحث میں لے آتا ہے۔ اس بار بھی بلوچستان بھر میں جشن آزادی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔

مسلم کانفرنس کے سیاسی زوال کے اسباب۔۔۔؟

94 سال قبل، 1932ء میں جموں و کشمیر کے دارالحکومت سر ینگر کی تاریخی پتھر مسجد میں جس سیاسی جماعت’ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس‘ کی بنیاد رکھی گئی تھی 11 اگست 2026ء کواس جماعت کی واحد نشانی اور آزاد کشمیر کی سیاست میں سات دہائیوں سے زائد عرصے تک راج کرنے والے خاندان کے سیاسی عروج کا خاتمہ ہو گیا۔

ثقافتی اور خاندانی اقدار میں تبدیلی ،خواتین کے کردار میں بدلاؤ

ہمارا معاشرہ طویل عرصے سے مضبوط خاندانی نظام، روایتی اقدار اور باہمی ذمہ داریوں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے جس میں خواتین کا کردار بہت اہم رہا ہے۔