بارش کیسے ہوتی ہے؟
سمندروں،دریائوں، جھیلوں یا ایسی کسی بھی جگہ کا پانی سورج کی تپش سے گرم ہو جاتاہے۔ایک سو درجہ حرارت سینٹی گریڈ پرپانی ابلنا شرع کر دیتا ہے،یہ آبی بخارات (بھاپ کی صورت میں)اوپر چلے جاتے ہیں۔
اوپر جا کر جب یہ ہو ا ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو آبی بخارات چھوٹے چھوٹے قطروں میں تبدیل ہو کر آسمان پر پھیل جاتے ہیں،اسے بادل کہتے ہیں۔بادل کئی اشکال کے ہوتے ہیں۔چھوٹے دھوئیں کی طرح کے بادل آسمان کی اونچائی پر جماد ینے والی ہو ا میں بنتے ہیں۔سُر مئی کمبل جیسے بادل گرم اور نم دار ہو ا سے،جو زمین کے نزدیک ہو تی ہے،بنتے ہیں۔بعض بادل موٹے اور گھنے ہوتے ہیں اور بعض باریک اور پتلے۔پانی کے لاکھوں کروڑوں قطرے ایک بادل میں شامل ہوکر روشنی کا اِس کے اندر سے گزرنے کا راستہ روک دیتے ہیں۔بادل جتنا گھنا ہوتا ہے روشنی کا راستہ اتنا ہی بند ہو جاتا ہے اور وہ گہرے رنگ کے نظر آتے ہیں۔پتلے بادل سفید نظر آتے ہیں۔
بادل کبھی کبھی برستے ہیں۔پانی کے لاکھوں کروڑوں ننھے ننھے قطرے اور برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا میں معلق ہوتے ہیں۔لیکن اگر وہ بڑے اور بھاری ہو جائیں تو بارش کی شکل میں زمین پر گر جاتے ہیں۔شعلے سے نکلتی ہوئی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو گرم کرتی ہے،ہوا بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور پھراپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی ٹھنڈی ہوا سے ٹکراتی ہے، اس طرح گرج کی آوازآتی ہے۔گرج میں گڑگڑاہٹ اس لئے ہوتی ہے کہ یہ آواز ہمارے پاس ہوا میں سے گزر کر پہنچتی ہے۔
آسمانی بجلی عام طور پر اونچی عمارتوں،درختوں اور کھمبوں سے ٹکراتی ہے۔یہ آسانی سے پانی اور دھات میں سے گزر سکتی ہے۔گرج چمک کی صورت میں کمرے میں رہنا بہتر ہوتاہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments