محنت کامیابی کی کنجی
ساجد ایک ذہین لڑکا تھا لیکن وہ محنت سے جی چراتا اورہر وقت کسی ایسی سوچ میں ڈوبارہتا جو اس کے تمام مسائل کوحل کردے۔
وہ جب بھی کتابیں کھول کر بیٹھتا،پڑھنے کے بجائے خیالات میں گم ہو جاتا۔ جب اس کے سالانہ امتحانات قریب آئے تو ایک رات وہ اپنی امتحان کی تیاری کاجائزہ لے رہاتھا۔ اس کی پریشانی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ جس انداز سے اس نے تیاری کی تھی اس کے ساتھ تو اس کا ایک پرچہ بھی پاس کرجانا کرامت سے کم نہ ہوتا۔
وہ اسی شش وپنج وپریشانی میں بیٹھا تھا۔ اسے اپنے امتحانی نتائج اور اس کے مابعد کے مناظر صاف نظرآرہے تھے۔ جس کا لازمی نتیجہ اسکول میں رسوائی ، دوستوں میں جگ ہنسائی ، والد سے پٹائی تھا۔
اسی حالت میں وہیں بیٹھے بیٹھے وہ پھر خوابوں کی دنیا میں چلاگیا۔ اس نے خود کو ایک خوبصورت باغ میں پایا۔ جہاں ارد گرد سبزہ ہی سبزہ اورطرح طرح کے پھل دار درخت اورپھولدار پودے تھے۔ وہاں اس نے ایک نورانی چہرے والا آدمی دیکھا۔ اس نے انہیں ادب واحترام سے سلام کیا۔
بزرگ نے اس سے پوچھا کہ تم اتنے پریشان کیوں ہو۔ اس نے امتحان کی تیاری کے متعلق اپنے خدشات عرض کئے۔ انہوں نے کہا تم کیاچاہتے ہو۔ اس نے کہا امتحان میں نمایاں کامیابی۔
نورانی چہرے والے بزرگ مسکرائے اورکہا اچھا اس کا میرے پاس ایک حل ہے۔ میرے پاس ایک ایسا قلم ہے جوتمہارے تمام مسائل حل کردے گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپناہاتھ بڑھایا اورکہا یہ لو۔ اتناکہناتھا کہ ان کی ہتھیلی پر ایک خوبصورت قلم نمودارہوا۔ جب اس نے قلم لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو انہوں کہاکہ اسے معمولی قلم نہ سمجھنا۔یہ بہت سی نادیدہ اورغیرمرئی طاقتوں کا حامل قلم ہے۔ کسی بھی سوال پر اس قلم کو رکھوگے تو یہ انتہائی فصیح وبلیغ زبان میں بہترین جواب تحریر کرے گا۔
یہ نہ صرف تمھیں لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سنائے گا بلکہ دنیا کی کسی بھی زبان میں کسی بھی مضمون اورموضوع پر خامہ فرسائی کرے گا۔ خواہ کسی زبان کی کتنی ہی پیچیدہ وباریک بین عبارت ہی کیوں نہ ہو، اسے عام فہم انداز سے اپنے قاری کو سمجھادے گا۔
قلم لینے کے بعد اس نے خود کو کمرہ امتحان میں پایا۔ جہاں واقعی قلم کی حیرت انگیزطاقتیں اس پر عیاں ہوئیں اور اس نے بہترین پرچے دیئے۔ جب نتائج کا اعلان ہوا توپورے اسکول میں اس کی اوّل پوزیشن تھی۔ وہ پھولے نہ سمارہاتھا لیکن اچانک آنکھ کھل جانے سے اس کے تمام سہانے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ یہ کیا وہ تو وہیں بیٹھا تھا اوروہی کتب اس کے سامنے تھیں۔
وہ اٹھا اور قلم کو تلاش کرنے لگا لیکن ندارد۔ اس اثناء میں اس کے والد وہاں تشریف لے آئے۔ پوچھا بیٹا ابھی تک سوئے نہیں اورکیاتلاش کررہے ہو؟ اس نے ابتداء سے انتہاء تک خواب سنایا۔ وہ یہ سن کر مسکرانے لگے اورفرمایا بیٹا یہ عملی زندگی ہے یہاں اس طرح کے قلم ملتے نہیں بنائے ضرور جاسکتے ہیں۔
اس نے کہا بنائے جاسکتے ہیں، وہ کیسے؟ کہامحنت ، محنت، اورصرف محنت سے۔ اگرتم دلجمعی ، جانفشانی سے اپنی تعلیم میں محنت کرو۔ اپنی لکھائی کو سنوارو، اللہ رب العزت سے کامیابی کی دعا کرو توتمہیں بھی ایسا قلم حاصل ہوجائے گا۔اورایک بات ذہن نشین کرلو کہ کسی بھی کام کے آغاز کا بہترین وقت کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ لمحہ ہی سب سے زیادہ اہم ہے۔
ہاں اگرتم اس انداز میں محنت کا ہتھیار استعمال کروگے توہرکامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ تم اگر صاحبِ علم ہوگے تو جس موضوع پر بھی قلم اٹھاؤ گے روانی سے لکھتے جاؤ گے۔ان کی باتیں اسے ذہن نشین ہوگئیں۔ اس نے اسی لمحہ سے محنت کرناشروع کی۔ اور دن رات ایک کرتے ہوئے ہر نماز کے بعد اپنے رب حضور گڑگڑاکر دعائیں مانگیں۔ جس کی وجہ سے جب سالانہ نتائج کا اعلان ہوا توواقعی خواب حقیقت بن کراس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس وقت والد کے کلمات کی بازگشت اسے پھرسنائی دی ’’ ہاں اگرتم محنت کا ہتھیار استعمال کروگے توہرکامیابی تمہارے قدم چومے گی‘‘۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments