آزادی کا چراغ

تحریر : دانیال حسن چغتائی


ننھا فرہاد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا، وہ تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور پڑھائی میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔

 سامنے دیوار پر قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی تصاویر لٹکی ہوئی تھیں۔ فرہاد نے کچھ دیر سوچنے کے بعد قلم نیچے رکھا اور صحن میں بیٹھی اپنی دادی جان کے پاس آ گیا۔

دادی جان! فرہاد نے پیار سے دادی کی گود میں سر رکھتے ہوئے پوچھا، علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا خواب تو دیکھا تھا، لیکن یہ خواب سچ کیسے ہوا؟ نیا ملک کیسے بن گیا؟

دادی جان نے مسکرا کر فرہاد کے بال سنوارے اور بولیں: فرہاد بیٹا! خواب دیکھنا پہلا قدم ہوتا ہے، لیکن اسے پورا کرنے کیلئے خون، پسینہ اور بے شمار قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ چلو میں تمہیں بتاتی ہوں کہ پاکستان کیسے بنا۔

دادی جان نے کہانی کا آغاز کرتے ہوئے بتایا: تقریباً سو سال پہلے، اس پورے خطے پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ وہ یہاں تجارت کرنے آئے تھے اور پھر مکاری سے حکومت کرنے لگے۔ مسلمان نہ تو آزادی سے اپنی عبادت کر سکتے تھے اور نہ ہی انہیں برابری کے حقوق حاصل تھے۔ لوگ مایوس اور پریشان تھے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ 

ایسے میں شاعرِ مشرق علامہ محمداقبال نے اپنی شاعری سے لوگوں کو بیدار کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ وہ شاہین ہیں، جو کسی کے آگے نہیں جھکتے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کا ماضی یاد کروایا جب وہ پوری دنیا پر حکمران تھے۔ اقبال  نے 1930ء میں یہ فکر دی کہ مسلمانوں کیلئے الگ اور آزاد وطن پاکستان ہونا چاہیے۔

فرہاد نے اشتیاق سے پوچھا: دادی جان! پھر علامہ اقبالؒ کا یہ خواب پورا کس نے کیا کیونکہ سوشل سٹڈیز کی کتاب میں تو لکھا ہوا ہے کہ اقبالؒ پاکستان بننے سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ 

دادی جان نے جواب دیا: علامہ اقبالؒ نے اس عظیم کام کی ذمہ داری قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے سپرد کی۔ قائد اعظم ؒبہت سچے، بااصول اور عقلمند رہنما تھے۔ انہوں نے دن رات ایک کر کے تمام مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ قائد اعظم نے سب کو ایک ہی سبق سکھایا: اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط۔ بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین سب کے سب پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے اس جدوجہد میں شامل ہو گئے۔

دادی جان! کیا انگریزوں نے آسانی سے ہمارا ملک بننے دیا؟ فرہاد نے اگلا سوال پوچھا۔ 

بالکل نہیں، بیٹا! دادی جان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انگریزوں اور دیگر مخالفین نے بہت سی رکاوٹیں کھڑی کیں، لیکن مسلمانوں کا عزم پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔ بالآخر، مسلمانوں کی بے مثال جدوجہد اور لاتعداد قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947ء کی مبارک رات دنیا کے نقشے پر نیا ملک ابھرا، جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔

فرہاد دادی جان کی باتیں بہت غور اور عقیدت سے سن رہا تھا۔ اس کے ننھے سے دل میں اپنے وطن کیلئے محبت کا جذبہ موجزن ہو گیا۔

اس نے اُٹھ کر اندر جا کر قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒکی تصاویر کی طرف دیکھا اور بولا:  ہمارے بزرگوں نے محنت کر کے ہمیں اتنا پیارا اور آزاد ملک دیا ہے۔ اب میں بھی خوب دل لگا کر پڑھوں گا اور بڑا ہو کر اپنے پاکستان کی حفاظت اور خدمت کروں گا!

دادی جان نے فرہاد کو سینے سے لگا لیا اور بولیں: شاباش میرے فرہاد! جب تک تم جیسے بچے محنت اور سچائی کا دامن تھامے رکھیں گے، اقبال ؒاور قائداعظمؒ کا یہ خواب ہمیشہ تکمیل کی طرف گامزن رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

پاکستان 23سال بعد بین الاقوامی کھیلوں کا میزبان

14ویں سائوتھ ایشین گیمز2027ء:گیمز آئندہ سال اپریل میں تین شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے: سائوتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14ویں سائوتھ ایشین گیمز کے حتمی شیڈول اور انتظامی فریم ورک کی منظوری دے دی

ویمنز اِن گرین کانیا امتحان

ویمنزایشیا کپ اور ایشین گیمز2026ء: دبئی میں جاری ویمنز ایشیا کپ میں پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کیخلاف کھیلے گی: 20 ویں ایشین گیمز میں ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ17سے 22 ستمبر تک ایچی کے کوروگی ایتھلیٹک پارک میں کھیلا جائے گا، فاطمہ ثناء دونوں ٹورنامنٹس میں گرین شرٹس کی کپتان ہیں

محنت کامیابی کی کنجی

ساجد ایک ذہین لڑکا تھا لیکن وہ محنت سے جی چراتا اورہر وقت کسی ایسی سوچ میں ڈوبارہتا جو اس کے تمام مسائل کوحل کردے۔

بارش کیسے ہوتی ہے؟

سمندروں،دریائوں، جھیلوں یا ایسی کسی بھی جگہ کا پانی سورج کی تپش سے گرم ہو جاتاہے۔ایک سو درجہ حرارت سینٹی گریڈ پرپانی ابلنا شرع کر دیتا ہے،یہ آبی بخارات (بھاپ کی صورت میں)اوپر چلے جاتے ہیں۔

پڑھو اور جانو

(1)۔عید الفطر کا تہوار کس مہینے اور کس تاریخ کو منایا جاتا ہے؟

استاد نے کہا ہے!

استاد نے کہا ہے،لالچ بری بلا ہے