ویمنز اِن گرین کانیا امتحان

تحریر : محمد ارشد لئیق


ویمنزایشیا کپ اور ایشین گیمز2026ء: دبئی میں جاری ویمنز ایشیا کپ میں پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کیخلاف کھیلے گی: 20 ویں ایشین گیمز میں ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ17سے 22 ستمبر تک ایچی کے کوروگی ایتھلیٹک پارک میں کھیلا جائے گا، فاطمہ ثناء دونوں ٹورنامنٹس میں گرین شرٹس کی کپتان ہیں

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کیلئے آنے والے ہفتے صلاحیت، مستقل مزاجی اور بڑے مقابلوں میں دباؤ برداشت کرنے کا کڑا امتحان ثابت ہونے جا رہے ہیں۔ دبئی میں 28 اگست سے 13 ستمبر تک شیڈول ویمنز ایشیا کپ میں قومی ٹیم کا سامنا ایشیا کی مضبوط ٹیموں سے ہوگا، جبکہ اس کے فوراً بعد جاپان میں ہونے والی ایشین گیمز میں بھی گرین شرٹس ایکشن میں نظر آئیں گی۔ کپتان فاطمہ ثنا کی قیادت میں میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم کیلئے دونوں ایونٹس محض ٹائٹل کی دوڑ نہیں بلکہ اپنی مجموعی کارکردگی، نئی کھلاڑیوں کی صلاحیت اور مستقبل کی مضبوط ٹیم کی بنیاد رکھنے کا موقع بھی ہیں۔ ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف 5 ستمبر کا متوقع ہائی وولٹیج مقابلہ بھی قومی ٹیم کی تیاری، اعصاب اور حکمت عملی کا بڑا امتحان ہوگا۔ ایسے میں پاکستانی خواتین کرکٹرز کے سامنے چیلنج دوہرا ہے، ایک طرف ایشیا کپ میں بہترین ٹیموں کے خلاف اپنی دھاک بٹھانی ہے تو دوسری جانب ایشین گیمز میں تمغے کے حصول کیلئے بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اترنا ہے۔ مسلسل دو بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی کیلئے بیٹنگ، بائولنگ، فیلڈنگ اور فیصلہ کن لمحات میں بہتر کارکردگی ہی قومی ٹیم کی اصل آزمائش ہوگی۔

 ویمنز ایشیا کپ متحدہ عرب امارات کے تاریخی شہر دبئی میں شروع ہوچکا ہے، پاکستانی ٹیم  اپنا پہلا میچ یکم ستمبرکو تھائی لینڈ کے خلاف کھیلیں گی۔ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 5 ستمبر کو شیڈول ہے جبکہ پاکستان ٹیم اپنا آخری گروپ میچ 7 ستمبر کو ہانگ کانگ کے خلاف کھیلے گی۔ 

پاکستان کرکٹ بورڈنے پہلے ہی ورلڈ ویمنز ایشیا کپ کے ساتھ 20 ویں ایشین گیمزکیلئے بھی قومی ویمنز سکواڈ کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا۔ قومی ٹیم کی قیادت دونوں اہم ایونٹس میں نوجوان آل رائونڈر فاطمہ ثنا کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ دونوں سکواڈز کی بنیاد یکساں رکھتے ہوئے بنیادی کور کو برقرار رکھا گیا ہے۔ منیبہ علی، شوال ذوالفقار، عائشہ ظفر، گل فیروزہ، سائرہ جبین، ایمان فاطمہ، ایمان نصیر، امِ ہانی، طوبہ حسن، نشرا سندھو اور مومنہ ریاست پر مشتمل 11 کھلاڑیوں کو دونوں ایونٹس کیلئے منتخب کیا گیا ۔ تاہم حالات اور شرائط کے مطابق معمولی تبدیلیاں کرتے ہوئے ایشیا کپ کے اسکواڈ میں نجیہہ علوی، وحیدہ اختر اور سعدیہ اقبال کو شامل کیا گیا لیکن نجیہہ علوی انجری کے باعث سکواڈ سے باہر ہو گئیں اور ان کی جگہ پی سی بی نے صدف شمس کو ایشیا کپ سکواڈ میں شامل کرلیا، جبکہ ایشین گیمز کیلئے عالیہ ریاض، تسمیہ رباب اور حمنہ بلال کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

 ویمنز ایشیا کپ دبئی میں کھیلا جارہا ہے، جس کے تمام 15 میچز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔ تمام ڈے نائٹ میچز پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے شروع ہوں گے۔ٹورنامنٹ کے سیمی فائنلز 10 اور 11 ستمبر کو کھیلے جائیں گے اور فائنل معرکہ 13 ستمبر کو ہوگا۔ایشیا کپ کے فوراً بعد پاکستان ویمنز ٹیم جاپان کا رخ کرے گی جہاں 20 ویں ایشین گیمز میں ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ 17 سے22ستمبر تک ایچی کے کوروگی ایتھلیٹک پارک میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی حالیہ بین الاقوامی کارکردگی ملا جلا رجحان اور عدم تسلسل پیش کرتی ہے، جہاں ٹیم نے بعض مواقع پر زبردست صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تو دوسری جانب اہم ٹورنامنٹس میں کامیابی کی تسلسل کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کپتانی کے نئے نظام اور فاطمہ ثنا کی قیادت میں ٹیم کے بینچ اسٹرینتھ اور بالنگ شعبے میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف زبردست کامیابی حاصل کرکے پاکستان نے شاندار آغاز کیا تھا، لیکن روایتی حریف بھارت اور دیگر سرفہرست ٹیموں کے خلاف بیٹرز کی ناکامی اور سست اسٹرائیک ریٹ کے باعث ٹیم ناک آئوٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔ عالمی سطح پر مسلسل فتح حاصل نہ کر پانا اور اہم میچوں میں دبا ئونہ سمیٹ پانا ٹیم کیلئے سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بائولنگ کا شعبہ ہمیشہ سے ہی مضبوط دفاع ثابت ہوا ہے، جہاں نشرا سندھو اور طوبہ حسن کی اسپن بالنگ اور فاطمہ ثنا کی تیز بالنگ نے حریف ٹیموں کو کئی مواقع پر دبائو میں رکھا ہے۔ حال ہی میں سری لنکا کے خلاف حالیہ میچ میں عائشہ ظفر اور منیبہ علی کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت ملنے والی فتح اس بات کی علامت ہے کہ ٹاپ آرڈر میں نئی لہر پیدا ہو رہی ہے۔ تاہم، ٹیم کا مڈل آرڈر اکثر نازک لمحات میں وکٹیں گنوانے کے باعث مشکلات کا شکار ہوتا ہے اور بڑا ہدف طے کرنے یا بڑے ہدف کا تعاقب کرنے میں ناکام رہتا ہے۔اس وقت ام ہانی بھی بہترین فارم میں ہیں اور اپنی بائولنگ سے گرین شرٹس کو فتح دلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی ویمنز ٹیم نے حالیہ دوطرفہ سیریز میں کامیابی کے گراف میں کچھ بہتری دکھائی، لیکن ایشیا کپ اور آئی سی سی ملٹی نیشن ایونٹس میں فائنل تک کا سفر طے نہ کر سکی۔

مجموعی طور پر، پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں ان کے پاس ٹیلنٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کا ایک بہترین امتزاج موجود ہے۔ ایشیا کپ اور ایشین گیمز جیسے چیلنجنگ ٹورنامنٹس میں قومی ٹیم کو اپنی فیلڈنگ کی خامیوں کو دور کرنے اور خاص طور پر پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں اسٹرائیک روٹیٹ کرنے کی حکمت عملی پر قابو پانے کی سخت ضرورت ہے، تاکہ وہ ایشیائی سطح پر ایشین گیمز میں اپنے دفاعی تمغوں جیسے تاریخی ریکارڈز کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

پاکستان 23سال بعد بین الاقوامی کھیلوں کا میزبان

14ویں سائوتھ ایشین گیمز2027ء:گیمز آئندہ سال اپریل میں تین شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے: سائوتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14ویں سائوتھ ایشین گیمز کے حتمی شیڈول اور انتظامی فریم ورک کی منظوری دے دی

آزادی کا چراغ

ننھا فرہاد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا، وہ تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور پڑھائی میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔

محنت کامیابی کی کنجی

ساجد ایک ذہین لڑکا تھا لیکن وہ محنت سے جی چراتا اورہر وقت کسی ایسی سوچ میں ڈوبارہتا جو اس کے تمام مسائل کوحل کردے۔

بارش کیسے ہوتی ہے؟

سمندروں،دریائوں، جھیلوں یا ایسی کسی بھی جگہ کا پانی سورج کی تپش سے گرم ہو جاتاہے۔ایک سو درجہ حرارت سینٹی گریڈ پرپانی ابلنا شرع کر دیتا ہے،یہ آبی بخارات (بھاپ کی صورت میں)اوپر چلے جاتے ہیں۔

پڑھو اور جانو

(1)۔عید الفطر کا تہوار کس مہینے اور کس تاریخ کو منایا جاتا ہے؟

استاد نے کہا ہے!

استاد نے کہا ہے،لالچ بری بلا ہے