پاکستان 23سال بعد بین الاقوامی کھیلوں کا میزبان

تحریر : زاہداعوان


14ویں سائوتھ ایشین گیمز2027ء:گیمز آئندہ سال اپریل میں تین شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے: سائوتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14ویں سائوتھ ایشین گیمز کے حتمی شیڈول اور انتظامی فریم ورک کی منظوری دے دی

جنوبی ایشیا کے کھیلوں کا سب سے بڑا اور معتبر میلہ سائوتھ ایشین گیمز آٹھ سالہ طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر پاکستان کی سرزمین پر سجنے جا رہا ہے، جہاں خطے کے بہترین کھلاڑی کھیلوں کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔ پاکستان کو آخری بار 2004ء میں ان کھیلوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا تھا، یوں 23 سال بعد ملک ایک بار پھر اس بین الاقوامی کھیلوں کے میلے کی میزبانی کرے گا۔

اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں ہونے والے 14ویں سائوتھ ایشین گیمز میں تقریباً تین ہزاردو سو کھلاڑی 28 کھیلوں کے 346 میڈل ایونٹس میں ایکشن میں ہوں گے۔ اپریل 2027ء میں ہونے والے ان مقابلوں کی میزبانی پاکستان کیلئے محض ایک کھیلوں کا ایونٹ نہیں بلکہ دنیا کے سامنے ملک کے مثبت تشخص، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے کامیاب انعقاد کی صلاحیت اجاگر کرنے کا اہم موقع بھی ہے۔

آٹھ سال کے وقفے کے بعد قومی ایتھلیٹس کیلئے یہ میدان اپنی سرزمین پر سبز ہلالی پرچم بلند کرنے اور زیادہ سے زیادہ میڈلز اپنے نام کرنے کا چیلنج لے کر آئے گا، جبکہ شائقین کو بھی مختلف کھیلوں میں پاکستان اور روایتی حریفوں کے درمیان سنسنی خیز مقابلوں کا بے صبری سے انتظار ہے۔

سائوتھ ایشیا اولمپک کونسل(ایس اے او سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں 14 ویں سائوتھ ایشین گیمز کے حتمی شیڈول اور انتظامی فریم ورک کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت یہ بین الاقوامی کھیل 3 سے 1 1 اپریل 2027ء تک پاکستان کے تین شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے۔ 

سائوتھ ایشیا اولمپک کونسل اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن(پی اواے)کے صدر عارف سعید کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطے کے تمام سات ممبر ممالک کے سرکردہ نمائندوں نے شرکت کی، جن میں بنگلہ دیش سے محمد زبید الرحمن اور میجر امروز احمد (ریٹائرڈ)، بھوٹان سے نم ڈورجی، بھارت سے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر پی ٹی آشا، رگھورام ائیر اور اجے نارنگ، مالدیپ سے محمد عبداللہ ستار اور تھاموہ احمد سعید، نیپال سے جیون رام شریسٹھا، چتور آنند راج بیدیا اور محترمہ سکا سووال شریسٹھا، جبکہ سری لنکا سے اسنگا سینی ورتنے اور اجیت سیامبالاپٹیا شامل تھے۔ اس اجلاس میں خطے کی پوری اولمپک فیملی نے پاکستان میں جاری تیاریوں کے عملی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپریل 2027ء میں ہونے والے یہ گیمز خطے میں کھیل، امن، باہمی دوستی اور تعاون کا ایک نیا اور یادگار باب روشن کریں گے۔ 

کھیلوں کی دنیا میں خواتین کی شمولیت کو مساوی بنیادوں پر فروغ دینے کیلئے 28 میں سے 25 کھیلوں میں مرد اتھلیٹس کے ساتھ ساتھ خواتین اتھلیٹس بھی اپنے فن کے جوہر دکھائیں گی، جبکہ باقی 3 کھیلوں میں صرف مرد کھلاڑی حصہ لیں گے۔ اس ایونٹ کی وسیع تر جثامت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے تقریباََ 4,200 افراد پر مشتمل وفود پاکستان پہنچیں گے، جن میں 3,200 کھلاڑی شامل ہوں گے۔ 

مجوزہ شیڈول کے مطابق اسلام آباد 15 کھیلوں کی میزبانی کرے گا، جبکہ لاہور میں 10 اور پشاور میں 3 کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔ اسلام آباد کو مرکزی حب کی حیثیت حاصل ہے جہاں گیمز کی پروقار افتتاحی و اختتامی تقاریب کے علاوہ اہم ترین کھیلیں منعقد ہوں گی۔

 اسلام آباد میں اتھلیٹکس(مرد و خواتین)، فٹ بال(مرد و خواتین)، شوٹنگ (مرد و خواتین)، سکواش(مرد و خواتین)، بیڈمنٹن (مرد و خواتین)، ٹیبل ٹینس (مرد و خواتین)، باسکٹ بال(مرد و خواتین)، باکسنگ(مرد و خواتین)، تائیکوانڈو(مرد و خواتین)، ٹینس (مرد و خواتین)، ویٹ لفٹنگ(مرد و خواتین)، کراٹے(مرد و خواتین)، سنوکر، فینسنگ اور روئنگ(مرد و خواتین)کے مقابلے اسلام  آبادمیں منعقد کیے جائیں گے۔

 لاہور کو 10 اہم کھیلوں کی میزبانی سونپی گئی ہے، جن میں کرکٹ(مرد و خواتین)، ہاکی (مرد)، سوئمنگ(مرد و خواتین)، کبڈی(مرد و خواتین)، کشتی / ریسلنگ(مرد و خواتین)، ہینڈ بال(مرد و خواتین)،ٹرائی تھلون (مرد و خواتین)، ووشو(مرد و خواتین)، باڈی بلڈنگ (مرد)شامل ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کو 3 کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی دی گئی ہے جن میں آرچری(مرد و خواتین)، جوڈو(مرد و خواتین) اور والی بال(مرد و خواتین)کے مقابلے شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

رئیس امروہوی قلمروئے سخن کے اہم فرمانروا

آج 38ویں برسی حسنِ فکر و تصور اور شعورِ ادب و ادراک کے ساتھ ان کا ابلاغ و اظہار بھی بہت حسین تھا رئیسؔ کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے‘ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہےرئیس امروہوی سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے ‘ ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں اُن کا حریف نہیں ہے

فیض احمد فیض کی انفرادیت

فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا