آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت سے امیدیں

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے 17 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیاہے۔ تقریبِ حلف برداری میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور امیر مقام کے فرزند ڈاکٹر عباد نے بھی شرکت کی۔

 افتخار گیلانی نے لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور دس سال تک وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔قانو ن ساز اسمبلی کے ایوان میں مسلم لیگ (ن) کی، اتحادی جماعتوں عوامی دست و بازو اور جمعیت علما ئے اسلام کے ایک ایک ووٹ سمیت کل 32 سیٹیں ہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس 14 اراکین قانون ساز اسمبلی ہیں جن میں دو نشستیں انہیں خواتین کے مخصوص کوٹے سے ملیں۔ ضلع راولاکوٹ اور سدھنوتی کی سات نشستوں جن پر ابھی الیکشن ہونا باقی ہیں کو چھوڑ کر اس وقت ایوان 53 کے بجائے 46 اراکین اسمبلی پر مشتمل ہے۔ بیرسٹر افتخار گیلانی 30 ووٹوں سے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وزیر اعظم کی نامزدگی سے ایک دن قبل تک مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر وزیر اعظم کے امیدوار تھے۔ اسی روز شام کو وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر سے شاہ غلام قادر، سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق، راجہ فاروق حیدر اور افتخار گیلانی کو ملاقات کیلئے طلب کیا گیا۔ اس ملاقات میں بیرسٹر افتخار کو پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر نامزد کئے جانے کے فیصلے کا اعلان کیا گیا۔یہ فیصلہ پارٹی سربراہ میاں محمد نواز شریف کا تھا۔

اس سے قبل شاہ غلام قادر وزیر اعظم کے عہدے کے مضبوط امیدوار تھے اور اس ملاقات میں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائیں اور جو اراکین الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچے ہیں ان میں سے جس سینئر ممبر کو اکثریت وزیر اعظم بنانا چاہے گی اسے وزیر اعظم بنا دیں۔ اس کے اگلے روزپنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعلان کر دیا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نے ایکس پر اپنا بیان جاری کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی عزت و وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ نواز شریف کے نعرہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کو یقینی بنائیں گے۔ شاہ غلام قادر وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کے انتخاب کے حوالے سے اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں تاہم سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے اپنے سابقہ مؤقف پر نظر ثانی ضروری سمجھی اور اسلام آباد سے مظفر آباد پہنچ کر نامزد وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے، قانون ساز اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے، انہیں ووٹ دیا اور وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں بھی اگلے نشستوں پر جلوہ گر رہے۔ 

وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی حلف اٹھانے کے بعد دوسرے روز شاہ غلام قادر کے گھر پہنچ گئے اور ان سے تعاون اور رہنمائی طلب کی جس پر شاہ غلام قادر نے وزیر اعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ اپنے اصولی مؤقف پر اب بھی قائم ہیں یہ کہ مسلم لیگ (ن) میں روایت تھی کہ پارٹی صدر ہی وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہوتا ہے۔مگر آپ وزیر اعظم ہیں، اچھی حکمرانی کریں، میرٹ کو یقینی بنائیں اور جماعتی کارکنوں کا خاص خیال رکھیں۔ شاہ غلام قادر سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی سپیکر قانون ساز اسمبلی و قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق کے ہمراہ لاہورگئے جہاں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی۔ ملاقات میں سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب، شہباز شریف کے فرزند سلیمان شہباز شریف اور رکن قانون ساز اسمبلی چوہدری عبد الرحمان آرائیں بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کو 100 دنوں کا پلان دیا گیا جس میں صحت، تعلیم اور صفائی پر خصوصی توجہ دینے کے احکامات دئے گئے۔ لاہور سے واپسی پر وزیر اعظم کی ہدایت پرچیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان نے مظفرآباد میں سیکرٹریز کی میٹنگ بلائی جس میں نئی حکومت کے 100 دنوں کے ورک پلان پر مشاور ت کی گی۔ چیف سیکرٹری نے تمام سیکرٹریز کو کہا کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے حوالے سے 100دنوں کی منصوبہ بندی کریں تاکہ عام آدمی تک ریلیف پہنچ جائے۔ ان 100دنوں میں جن منصوبوں کو لانچ کیا جائے گا ان میں بیشتر وہی ہوں گے جو اس وقت پنجاب حکومت شروع کر چکی ہے۔ 

آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کی حکومت سے بہت سی امیدیں ہیں۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ نئی حکومت خطے میں گڈ گورننس، میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔ آزاد کشمیر کے بنیادی مسائل میں بے روزگاری، مہنگائی، بجلی، سڑکوں، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی کمی شامل ہیں، اس لیے حکومت سے امید ہے کہ ان مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گی۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، فنی تعلیم اور کاروبار کے فروغ کے لیے آسان قرضوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ دور دراز علاقوں میں صحت کے مراکز، تعلیمی ادارے اور بنیادی انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے۔ سیاحت آزاد کشمیر کی معیشت کے لیے اہم شعبہ ہے، اس لیے سیاحتی مقامات کی ترقی اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ عوام کو امید ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام علاقوں اور طبقات کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ایک ایسی مضبوط، عوام دوست اور جوابدہ حکومت قائم کریں گے جو آزاد کشمیر کی ترقی، خوشحالی اور عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری کا باعث بنے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیا شہر اقتدار میں سب اچھا ہے؟

باتیں ہونے لگی ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔شہرِ اقتدار میں ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں اور اس نے اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

بڑی جماعتیں نئے صوبوں سے گریزاں کیوں؟

سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے صوبوں کی تشکیل بارے تحفظات کے باوجود اراکینِ اسمبلی اس حوالہ سے پس پردہ تیاریوں کے سگنلز کی تصدیق کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعتوں کا مؤقف اپنی جگہ لیکن یہ نظر آ رہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل ان کے روکنے سے نہیں رکنے والی۔

سندھ میں نئے صوبوں کی بحث، سیاسی محاذ گرم

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبہ پر سندھ میں سیاسی ماحول آج کل گرم ہے۔ صوبائی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہاکہ سندھ ایک تھا اور رہے گا۔

تلخیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں

27ستمبر کا جلسہ اور ایک دن کا خرچہ 45 کروڑ روپے اور اس کے بعد یومیہ خرچہ تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے، یہ ہے اس لانگ مارچ پر آنے والے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ جو پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے پیش کیاگیا ہے۔

بلوچستان میں پائیدار امن کی بنیاد

بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل ریاستی رٹ، مؤثر حکمرانی، سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔

خواتین کا سماجی و معاشی کردار تبدیلی ناگزیر ہے

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کو کس قدر بااختیار، محفوظ اور فعال کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔