تلخیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں
27ستمبر کا جلسہ اور ایک دن کا خرچہ 45 کروڑ روپے اور اس کے بعد یومیہ خرچہ تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے، یہ ہے اس لانگ مارچ پر آنے والے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ جو پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے پیش کیاگیا ہے۔
تو اتنی بڑی رقم کیا لانگ مارچ پر لگانا مناسب ہے ؟کیا پی ٹی آئی ماضی کی طرح اس بار بھی یہ اخراجات پورے کرپائے گی؟ پی ٹی آئی کے ایم این اے فیصل امین گنڈاپور کی جانب سے پارٹی اجلاس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہررکن اسمبلی کو ماہانہ پچاس ہزار روپے پارٹی فنڈ دینے کی ہدایت کی تھی کیا یہ فنڈ دیاگیا اور اگردیاگیا تو ان اراکین اسمبلی کی فہرست کہاں ہے؟ان حالات میں 20 لاکھ افراد کو نکالنے کے دعوے کی قلعی یہیں کھل جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کو اپنی تحریک کیلئے کمک چاہئے تھی اور وہ کمک انہیں جے یو آئی کی شکل میں مل گئی ہے لیکن کیا یہ کہنادرست ہے کہ یہ کمک تحریک انصاف کوملی ہے؟دیکھاجائے تو مولانافضل الرحمن گرینڈ اپوزیشن بنانے پر آمادہ ہوئے ہیں، ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے اپنے کارکنوں کے ساتھ سڑکوں پر ہوں گے۔ مستقبل کے بارے میں کچھ کہانہیں جاسکتا لیکن فی الوقت ایساکچھ بھی نہیں۔ مولانافضل الرحمن کے اپنے تحفظات ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے اپنے گلے شکوے ہیں۔ دونوں کی ناراضگی کی وجوہات مختلف ہیں، صرف ایک وجہ مشترک ہے جس پر دونوں کا اتفاق ہے اور وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات۔2024 ء کے انتخابات پر جے یو آئی کی جانب سے اعتراضات کئے گئے اور پی ٹی آئی نے بھی ان انتخابات کو غیر شفاف قرار دیاہے۔ اب جبکہ یہ دونوں جماعتیں اکٹھی ہوگئی ہیں یا ہونے جارہی ہیں تویہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ جب جے یو آئی شفاف انتخابات کا نعرہ لگاتی ہے اور انتخابات میں دھاندلی کا شکوہ کرتی ہے تو اس کا اشارہ کس طرف ہوگا۔شنید ہے کہ جے یو آئی نے اپوزیشن کے پہلے اجلاس میں پارلیمنٹ سے استعفوں کا آپشن مسترد کردیا ہے، پی ٹی آئی بھی ماضی کی یہ غلطی دہرانے پر رضامند نہیں۔مولانا فضل الرحمن کا فوکس پارلیمانی سیاست اور پارلیمانی فورم پراحتجاج پر رہا ہے، اگرچہ جے یوآئی کی طرف سے بھی اپنے مطالبات کے حق میں ملین مارچ کئے گئے لیکن انہیں طویل عرصے تک جاری نہیں رکھا۔ اس وقت جو اتحاد ہوا ہے اس میں جے یوآئی، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی شامل ہے۔ ان جماعتوں کے ایجنڈے مختلف ہیں تاہم یہ وفاقی حکومت پر دباو ڈالنے کیلئے متحد ہوئی ہیں۔
دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن اپنے مقصد میں کچھ کامیاب بھی رہے ہیں، رہا یہ سوال کہ کیا وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک میں بھی شامل ہوں گے تو اس کاجواب فی الوقت نفی میں ہے۔ پارلیمنٹ کی حد تک تو مولانافضل الرحمن پی ٹی آئی کا ساتھ دے سکتے ہیں لیکن اس سے آگے شاید ان کیلئے بھی ممکن نہ ہو۔جے یو آئی کے کارکن ماضی کے تجربے کے پیش نظر پی ٹی آئی سے ناراض ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ جے یو آئی ماضی قریب میں پی ٹی آئی کی حکومت کو خیبرپختونخوا میں قابض حکومت سمجھتی تھی اور یہ سوچ اب بھی جمعیت علمائے اسلام کے اندر موجود ہے اسی لئے گزشتہ رو ز مولانافضل الرحمن کی طرف سے کہاگیا کہ ماضی میں دونوں جماعتوں کے مابین پائی جانے والی تلخیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں، اور اس پر بھی بات کرنا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ جے یوآئی یقینی طورپر مرکزی سطح پر اپوزیشن کے ساتھ چلے گی لیکن صوبائی سطح پر اس جماعت کی تنظیمیں اپنے طورپر فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گی۔ کچھ عرصہ قبل جے یو آئی کی صوبائی قیادت کی جانب سے اس کا اشارہ دیا گیا تھا۔رہی بات 27ستمبر کے جلسہ کی تو یہ پی ٹی آئی کو اکیلے کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اس کیلئے متحرک ہیں اور مختلف اضلاع کے دورے کررہے ہیں۔ ایک مثبت بات جو گزشتہ روز دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے میں مقتدرہ کو مورد الزام نہیں ٹھہرایابلکہ وفاقی حکومت کو اس کا ذمہ دار قراردیا ہے۔
ایسا نہیں کہ برف پگھل رہی ہے لیکن اس میں نرمی کے کچھ اثرات ضرور نظرآرہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جو سمجھدار، مخلص اور تجربہ کار سیاستدان ہیں ان کو سائیڈ لائن کردیاگیا اور جذبانی، ناتجربہ کار اورنوجوان سیاستدانوں کو معاملات سونپ دیئے گئے جس کا پی ٹی آئی کو بھی نقصان ہی ہوا۔اب تحریک تحفظ آئین پاکستان جیسے تجربہ کار سیاستدان معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں لیکن مرکزی سطح پر پارٹی قانونی اور آئینی طورپر معاملات کو لے کر آگے چلناچاہتی ہے۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ہسپتال منتقلی کے حوالے سے بات کرنے کیلئے اسمبلی میں موجود ہی نہیں ہوتے۔ گزشتہ ہفتے یہی ہوا کہ اجلاس شروع ہوا تو ایجنڈامعطل کرکے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بات کی جانی تھی تاہم ایجنڈ ابھی پورا چلا لیکن جب بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرنے کا وقت آیا تو ایوان میں کورم کی نشاندہی کی گئی جس پر ڈپٹی سپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی کچھ دیر بعد مسلم لیگ (ن) کی ثوبیہ شاہد کی جانب سے دوبارہ کورم کی نشاندہی کی گئی لیکن ڈپٹی سپیکر نے ثوبیہ شاہد کو ہی لتاڑ دیا اور ان پر دو ہفتے کی پابندی عائد کردی گئی۔
کورم کی نشاندہی کرنا اپوزیشن سمیت کسی بھی رکن اسمبلی کا حق ہے، اصل بات جس پر حکومتی اراکین اسمبلی کی گوشمالی ہونی چاہئے وہ یہ کہ ان اہم مواقع پر بھی اپنی حاضری کو یقینی کیوں نہیں بناتے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی تعداد کم رہتی ہے، اجلاس متعدد بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کیاگیا ہے۔ اس بات کاسبھی کو علم تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو پمز منتقل کرنے کے معاملے کے بعد حالیہ اسمبلی اجلاس انتہائی اہم ہوگااور اس میں سب کو شرکت کرنی چاہئے لیکن ایسا نہ کیاگیاجس سے پی ٹی آئی کے اپنے اراکین اسمبلی کی اس معاملے پر سنجیدگی کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ سوشل میڈیاپر یہی اراکین کشتوں کے پشتے لگانے کو تیار ہوتے ہیں لیکن جب مناسب پلیٹ فارم سے بات کرنے کا موقع آتاہے تو بہت سے اراکین اسمبلی ایوان میں حاضر ہی نہیں ہوتے۔پاکستان تحریک انصاف کو اپنی آواز اوپر تک پہنچانے کے لیے یہ پلیٹ فارم ملا ہوا ہے لیکن وہ اس سے پورا فائدہ نہیں اٹھاپارہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments