حضور ﷺ کے روشن اوصاف

تحریر : مولانا مجیب الرحمن انقلابی


’’درحقیقت تمہارے لیے حضور اقدس ؐکی زندگی بہترین نمونہ ہے‘‘(القرآن) آپ ﷺ عادل، پاک دامن، معاملات میں کھرے اور قول وفعل میں سچے تھے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’بے شک آپ ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں‘‘

خاتم النبیین حضرت محمدﷺسب سے زیادہ شجاع و بہادر اور سب سے زیادہ سخی تھے، بردباری، قوت برداشت، قدرت پاکر معاف کردینا، مشکلات و مصائب میں صبر کرناایسے او صاف حمیدہ ہیں کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی تربیت فرمائی تھی، آپ ﷺ سب سے زیادہ حیادار تھے، آپﷺ کی نگاہ کسی کے چہرے پرنہ ٹھہرتی تھی ۔حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ آپ ﷺ سب سے زیادہ عادل، پاک دامن، معاملات میں کھرے اور قول وفعل میں سچے تھے۔

آپ ﷺ اپنے ذاتی معاملات میں کسی سے انتقام نہ لیتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ نے کفار کی ایک قوم کے بارے میں بددعا کرنے کیلئے کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں رحمت بن کر آیا ہوں عذاب بن کرنہیں آیا۔ آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید کئے گئے مگر اس وقت بھی آپ ﷺ نے ان کیلئے ہدایت و مغفرت کی دعا فرمائی۔

ایک مرتبہ کسی نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ کیا آپ ﷺ کافروں کیلئے بھی خاتم النبیینﷺ ہیں؟ فرمایا یہ خوانِ رحمت تمام عالم کیلئے یکساں کھلا ہے۔ جب بھی آپﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو فورًا عطا فرما دیتے تھے، جب آپ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ نے ہمیشہ اس میں آسان کام کو اختیار فرمایا تا کہ امت کیلئے سہولت ہو۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، البتہ اگر مرغوب ہوتا تو تناوّل فرما لیتے ورنہ چھوڑ دیتے ،شہد اور تمام شیر یں چیزوں کو طبعًا پسند فرماتے تھے۔

حضورﷺ اپنے گھر والوں کے کاموں میں مدد کرتے اور مریضوں کی عیادت کرتے تھے، جب کوئی شخص آپ ﷺ کو دعوت دیتا خواہ امیر ہوتا یا مفلس اس کے یہاں تشریف لے جاتے تھے۔ کسی مفلس کو اس کے فقر کی وجہ سے حقیر نہ جانتے تھے اور کسی بڑے سے بڑے بادشاہ سے اس کی مالداری کی وجہ سے مرعوب نہ ہوتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے لیکن آپ ﷺ اور آپ کے گھر والوں نے جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔ آپ ﷺ کے گھر والوں پردو دو مہینے مکمل اس طرح گزر جاتے تھے کہ چولھے میں آگ جلانے کی نوبت تک نہ آتی۔

آپ ﷺ سواری پراپنے پیچھے غلام کو سوار کر لیتے تھے ، موٹے کپڑے پہنتے ، سفید کپڑے سب سے زیادہ پسند تھے، غیض وغضب سے دور اور سب کے ساتھ جلد راضی ہو جاتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جودوسخا کے پیکر تھے، شجاعت و بہادری اور دلیری میں بھی آپﷺ کا مقام سب سے بلند اور معروف ہے۔ نہایت ہی مشکل اور تین مراحل اور مواقع پر جبکہ بڑے بڑے جانبازوں اور بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے آپ ﷺ اپنی جگہ ثابت قدم اور برقرار رہے۔ حضرت علی ؓ کابیان ہے کہ جب زور کا رَن پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب روشن ہوتے اور بھڑک اٹھتے تو ہم حضورﷺ کی آڑلیا کرتے تھے۔ حضرت انس ؓ ابھی دس سال کے کمسن بچے تھے کہ ان کی والدہ حضرت ام سلیم ؓ نے ان کو حضورﷺ کی خدمت کیلئے ان کے سپرد کر دیا اور حضرت انسؓ شب و روز حضورﷺ کی خدمت کرتے ،معصوم عمر اور بے شعور ہونے کی وجہ سے کئی کام بننے کے بجائے بگڑ بھی جاتے لیکن حضورﷺ کا ان کو ڈانٹنا تو دور کی بات آپﷺ کے چہرہ انور پراس کی وجہ سے ناگواری کے آثار بھی نہیں آئے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے مسلسل دس سال حضور اقدس ﷺ کی خدمت اقدس میں گزارے، اس طویل مدت میں کبھی ایک باربھی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے مجلس کے ساتھیوں اور ہم نشینوں کی طرف اپنے پاؤں پھیلائے ہوں ،نہ کبھی دیکھا کہ کسی نے آپ ﷺ سے مصافحہ کیا ہو اور آپ ﷺ نے پہلے اپنے ہاتھ کھینچ لیے ہوں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کوئی شخص آپ ﷺ سے ملنے کیلئے آپﷺ کے ساتھ کھڑا ہو اور آپ ﷺ اس کے پاس سے خود ہٹ گئے ہوں۔ آپﷺ برابر کھڑے رہتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی نہ ہٹ جاتا اور میں نے جو کام بھی کیا ٹھیک ہو گیا یا خراب کبھی آپ ﷺنے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ نہ کبھی یہ فرمایا کہ ایسا اور ایسا کیوں نہیں کیا، میں نے بارہا عطر سونگھا ہے اور اچھے سے اچھے عطر کو سونگھا ہے مگر آج تک میں نے حضور اقدس ﷺ (کے جسم اطہر اور پسینہ) کی خوشبو سے بہترخوشبو نہیں سونگھی ۔ آج تک میں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی نے سرگوشی کیلئے آپ ﷺ کی طرف سر جھکایا ہو اور اس شخص کے سر ہٹانے سے پہلے حضور اقدس ﷺ نے بھی اپنا سر اٹھایا ہو۔

حضرت خارجہ بن زید ؓ کا بیان ہے کہ حضورﷺ اپنی مجلس میں سب سے زیادہ باوقار ہوتے، اپنے پاؤں وغیرہ نہ پھیلاتے، بہت زیادہ خاموش رہتے، بلاضرورت نہ بولتے، جوشخص نامناسب بات کہتا اس سے رُخ انورپھیر لیتے، آپ ﷺ کی ہنسی مسکراہٹ تھی اور کلام دوٹوک،  نہ فضول نہ ہی کوتاہ۔(شمائل ترمذی)

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا اخلاق سب سے زیادہ کشادہ اور اعلیٰ تھا،بدخلقی سے دور تھے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپﷺ کے اخلاق کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ’’ بے شک آپ ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں‘‘۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا خلق قرآن مجید تھا، لیکن قرآن مجید میں جس قدرمحاسن اخلاق کا ذکر ہے وہ سب آپ ﷺ کی ذات اقدس میں پائے جاتے تھے، جس چیز کو قر آن پسند کرتا آپ ﷺ بھی اس کو پسند فرماتے اور جس کو قرآن پسند نہ کرتا اس کو آپ ﷺ بھی پسند نہ فرماتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے حضورﷺ کی ذات کو نمونہ اور مثال قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ آپﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں فرماتے ہیں ’’درحقیقت تمہارے لیے حضور اقدس ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور اقدس ﷺ کی سیرت کو اپنانے اورآپﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اتباع رسول ﷺ میں ہی فلاح و نجات

’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘(آل عمران: 132) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کا ہر شخص جنت میں داخل ہو گا، سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! وہ کون شخص ہے جس نے (جنت میں جانے سے) انکا ر کیا؟ آپﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا‘‘(صحیح بخاری)

سیرتِ نبوی ﷺ اور خوشگوار ازدواجی زندگی

آپ ﷺ کی سیرت طیبہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے مشعل راہ ہے تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کی نظر میں اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کی نظر میں سب سے اچھا ہوں (الحدیث)

مسائل اور ان کا حل

نافرمان بیوی کا نان ونفقہ سوال: جو عورت مکمل طور پر شوہر کی نافرمان ہو اور کبھی کوئی بات شوہر کی نہ مانتی ہو۔ نہ نماز نہ روزہ نہ ہی شوہر کا کسی قسم کا حق ادا کرے اور اب تو وہ جھگڑا کرکے اپنے گھر چلی گئی ہے۔ ہماری ایک بیٹی بھی ہے، اب بیوی کا نان و نفقہ مجھ پر لازم ہے یا نہیں؟ (جاوید نور،کراچی)

مَرحبا مَکی مدنی ﷺ

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام،شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام:بعثت نبوی ﷺ کے خصائص ،فضائل اور مقاصد: (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا‘‘ (سورۃ الانبیاء): (آپﷺ) پوری انسانیت کیلئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘(سورہ سبا)

تاجدار حرم

تجلیِ ازل ،کمالِ کائنات اور تقاضائے حیات

خیر البشرﷺ

اخلاق نبوی ﷺانسانیت کیلئے بہترین نمونہ