سیرتِ نبوی ﷺ اور خوشگوار ازدواجی زندگی
آپ ﷺ کی سیرت طیبہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے مشعل راہ ہے تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کی نظر میں اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کی نظر میں سب سے اچھا ہوں (الحدیث)
رب العالمین نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کیلئے آپﷺ کو نبوت سے سرفراز فرما کر مبعوث فرمایا۔ آپﷺ کی سیرت طیبہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ نبی کریمﷺ دنیا کے کامل ترین انسان، اعلیٰ حکمران، بہترین سپہ سالار، قاضی، تاجر اور ساتھ ہی ساتھ کامل شوہر بھی تھے۔ بحیثیت شوہر آپﷺ کی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو عمدہ آبگینوں سے مزین ہے جو کہ موجودہ زمانے میں تمام خاوندوں کیلئے قابل نمونہ اور لاثانی طرزِ عمل ہے۔
نبی کریمﷺ کی گھریلو زندگی
سرور کونینﷺ کی خارجی زندگی جس طرح شاندار ہے، اِس سے کہیں زیادہ آپﷺ کی گھریلو زندگی انتہائی پاکیزہ اور قابلِ تقلید ہے۔ ازدواجی زندگی میں آپﷺ کا کردار نہایت پاکیزہ اور عمدہ تھا۔ خود نبی کریم ﷺ کا ارشاد عالی ہے: ’’تم میں سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کی نظر میں اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کی نظر میں سب سے اچھا ہوں‘‘ (مجمع الزوائد:4/303)
نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات
کے ساتھ خاطر داری
ایک عورت دوسرے خاندان، دوسرے محلہ اور دوسرے افراد کی تربیت میں پلی بڑھی ہوتی ہے اور پھر نکاح کر کے ایک ایسے اجنبی ماحول میں آ جاتی ہے، جہاں ہر چیز نامانوس اور ہر چہرہ نیا ہوتا ہے۔ از سرنو زندگی کا آغاز ہوتا ہے، ساتھ ہی ساتھ اعزاء و اقرباء کی یاد بھی تروتازہ رہتی ہے۔ ایسے وقت میں دلداری اور خاطر داری کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے شادی کے بعد اپنے گھر کے ماحول سے مانوس کرنے کیلئے ان کی دلجوئی کے ساتھ ان کی خاطر داری و محبت کی مثال قائم کر کے پوری انسانیت کو ایک بہترین اسوہ عطا کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: میں آپﷺ کے یہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی ہوتی تھیں، جب رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو وہ شرماتیں اور پردہ میں داخل ہو جاتیں، آپﷺ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں(صحیح بخاری: 6130)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ میرے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشہ کے لوگ نیزہ بازی کر رہے تھے، آپﷺ نے اپنی چادر میں مجھے چھپا لیا تا کہ میں آپ ﷺ کے کانوں اور گردن کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھ سکوں، آپﷺ میری وجہ سے کھڑے رہے یہاں تک کہ میں خود لوٹ آئی(مسند احمد: 5333)
نان و نفقہ کی ادائیگی
ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد اپنی شریک حیات کا نان و نفقہ مرد پر شریعت نے لازم کیا ہے۔ نبی کریمﷺ سے ثابت ہے کہ اپنی ازواج مطہرات کا نفقہ قبل ازوقت دے دیا کرتے تھے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں بنو نضیرسے جو مالِ غنیمت آتا، وہ آپﷺ کیلئے خاص تھا اور آپﷺ اس مال سے اپنی ازواج پر مکمل سال خرچ کیا کرتے تھے (صحیح مسلم: 1757)۔
ازواج مطہرات کے مابین عدل
مسلم معاشرہ کا اگر جائزہ لیا جائے تو روز افزوں انحطاط کا شکار ہے جس میں بہت سے ایسے افراد ہیں، جو حق زوجیت میں ناکام اور عدل و انصاف کے معیار سے کوسوں دور ہیں۔ معاشرہ میں ماں باپ اور بیوی کے درمیان عدل کا فقدان بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ جو مرد ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہیں تو وہ ان کے درمیان عدل کا معاملہ نہیں کرتے، رہائش آور آسائش میں، کپڑے اور کھانے میں، باری اور حقوق کی ادائیگی میں عدم توازن اور عدل کی کمی موجودہ زمانے کا خطرناک المیہ بن چکا ہے۔
کاش! ایسے لوگ آپ ﷺ کے عمل سے سبق لیتے اور آپﷺ کے فرامین پر توجہ دیتے، عدل کے معیار کو قائم کرتے۔ خود آپﷺ کی 11 بیویاں تھیں لیکن کسی کو یہ شکایت کبھی نہیں ہوئی کہ آپﷺ ہمارے درمیان عدل نہیں کرتے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دیتے تھے (ابو دائود: 2137)۔ آپﷺ کا یہ عدل ان چیزوں (باری، کھانا، کپڑا، رہائش، حقوق کی ادائیگی وغیرہ) میں تھا۔ جس کی آپﷺ قدرت رکھتے تھے، غیر مقدور چیزوں کے سلسلہ میں آپﷺ خود دعا فرماتے تھے: ’’اے اللہ اس چیز میں یہ میری تقسیم ہے، جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، اس چیز پر میری ملامت نہ کیجئے جس پر آپ قدرت رکھتے ہیں، میں نہیں‘‘ (السنن الکبری للبیھقی: 15142)۔
بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے کی صورت میں نبی کریم ﷺکی سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف جھک جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلوگرا ہوا ہوگا‘‘(سنن الدارمی: 2206)۔
نبی رحمتﷺ اور عورت
کی رائے کا احترام
فخرکائنات حضرت محمد مصطفیﷺ نے عورت کی رائے کو بہت اہمیت دی ہے اور وقتاً فوقتاً موقع کی نزاکت سے عورت کی رائے کا احترام نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اور اہم امور پر اپنی ازواج مطہرات سے تبادلہ خیال اور مشورہ کا ذکر احادیث مبارکہ میں پایا جاتا ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر آپﷺ کے ارشاد کے باوجود بھی صحابہ کرامؓ نے حلق نہیں کرایا تو حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ خود حلق فرمالیں اور ہدی کے جانور بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دیں، تاجدارِ مدینہﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رائے کو اہمیت دی اس پر عمل کیا۔ جب صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کو حلق کراتے اور ہدی کے جانور اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہوئے دیکھا تو صحابہؓ نے بھی بلاچوں و چراں حلق کرا لیا اور اپنے ہدی کے جانور ذبح کئے(صحیح بخاری: 2732)۔
اللہ تعالیٰ ہمیں گھریلو زندگی میں بھی نبی کریم ﷺ کی سیرت و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین ثم آمین)۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments