بلوچستان میں پائیدار امن کی بنیاد

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل ریاستی رٹ، مؤثر حکمرانی، سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔

رواں ہفتہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں چاغی کے علاقے میں قومی شاہراہ این 40 پر مسافروں کی آمدورفت متاثر کرنے اور بھتہ خوری کی کوششوں میں ملوث 11 اور پشین کے زیارت کراس پر کسٹم ہاؤس حملے کے جواب میں 10 دہشت گردوں کا مارا جانا، واشک میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران دو دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ریاست کا یہ فرض ہے کہ دہشت گردی، بھتہ خوری، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور شاہراہوں پر شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ اور ریاستی رٹ پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ اسی طرح دہشت گردی کے سہولتکاروں کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے کیونکہ صرف مسلح افراد کو نشانہ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، تاہم وزیراعلیٰ کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ جو لوگ تشدد چھوڑ کر آئین کے تحت پرامن زندگی اختیار کرنا چاہیں ان کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں۔ یہی اصول دہشت گردی کے خلاف سختی اور سیاسی مفاہمت کے درمیان متوازن راستہ ہے۔حکومت کی جانب سے بلوچستان پولیس کی ڈیجیٹلائزیشن بھی ایک مثبت قدم ہے۔ 16 ایپلی کیشنز کا اجرا، شکایات کے ازالے، کریمنل جسٹس سسٹم، سفر، ہوٹلنگ، پولیس شکایات سیل اور خواتین کے تحفظ کے لیے سہولیات اس بات کی علامت ہیں کہ امن صرف بندوق سے نہیں بلکہ بہتر پولیسنگ اور شہری خدمات سے آتا ہے۔ اگر یہ نظام عام شہری کے لیے آسان، شفاف اور قابلِ رسائی بن جائے تو پولیس پر اعتماد بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب دور دراز علاقوں کا شہری بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے اور شکایت درج ہونے کے بعد عملی کارروائی بھی نظر آئے۔

دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو بھی محض تنقید سمجھ کر مسترد کرنا مناسب نہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا اور ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔ یونس زہری نے واضح کیا کہ مستونگ کو خالی کرانے یا باغات ختم کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی جبکہ زابد ریکی نے سیاسی سطح پر ناراض قوتوں، نوابوں، سرداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھانے کی تجویز دی۔ مولانا ہدایت الرحمن نے بھی نوجوانوں کو پہاڑوں کے بجائے تعلیم، روزگار اور کاروبار کی طرف لانے پر زور دیا۔محمود خان اچکزئی نے عوامی جرگے میں آئینی، سیاسی، معاشی اور قومی حقوق، وسائل پر مقامی اختیار اور جمہوری عمل کی بات کی ہے۔ ان کا مؤ قف تھا کہ بندوق کے زور پر عوام کے سیاسی شعور اور حقوق کو مستقل طور پر دبایا نہیں جاسکتا اور مسائل کا حل آئین، پارلیمان اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔ ریاست اور سیاسی جماعتوں دونوں کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ اختلاف کو مکالمے میں تبدیل کیا جائے، نہ کہ ہر اختلاف کو محاذ آرائی بنا دیا جائے۔جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کی جانب سے بھی بامعنی مذاکرات، اعتماد سازی، شفاف سیاسی عمل اور عوامی مینڈیٹ کے احترام پر زور دیا گیا۔ اس مطالبے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور عوام کو تشدد سے دور رکھیں، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کے بجائے آئینی راستے کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے مطالبات کو پارلیمان، جرگوں، عدالتوں اور پرامن احتجاج کے ذریعے آگے بڑھائیں۔

جمہوری احتجاج حق ہے مگر اس حق کے ساتھ عوامی سہولت اور قومی معیشت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے تحفظات بھی اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے زرعی شعبے کو پانی کی کمی، خشک سالی، مہنگی بجلی، ڈیزل، کھاد، بیج، ادویات کی مہنگائی اور پیداوار کی کم قیمتوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ باغات اور فصلیں صرف زمین کے مالک کی ملکیت نہیں بلکہ دیہی روزگار، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، آڑھتیوں اور مقامی تجارت سے جڑی معیشت کا حصہ ہیں۔ اگر کسی علاقے میں سکیورٹی خطرات کے باعث سخت اقدامات ناگزیر ہوں تو بھی ان کے اثرات کم سے کم رکھنے، متاثرہ لوگوں کو اعتماد میں لینے اور متبادل انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔مستونگ اور دیگر علاقوں میں باغات سے متعلق وزیر اعلیٰ کے مؤقف اور نواب اسلم رئیسانی سمیت زمینداروں کے اعتراضات کے درمیان حکومت کو ایک واضح اور شفاف پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ اگر کسی جائیداد کو دہشت گردی یا سہولت کاری کے لیے استعمال کیے جانے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے لیکن صرف شبہ یا اجتماعی تاثر کی بنیاد پر زمینداروں کو نقصان پہنچانے سے اعتماد میں کمی آسکتی ہے۔ اسی طرح سیاسی رہنماؤں کو بھی ہر کارروائی کو اجتماعی انتقام قرار دینے سے پہلے شواہد اور قانونی عمل کو سامنے رکھنا چاہیے۔کم عمر بچیوں کو مبینہ طور پر خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی خبر انتہائی تشویشناک ہے۔

ایسے بچوں کی حفاظت، نفسیاتی بحالی اور مستقبل کی ضمانت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے کی غیر جانب دار قانونی تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق واضح ہوں اور کسی بھی متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔عوام سے بھی ذمہ دارانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ بلوچستان کے شہری پہلے ہی بدامنی، مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں امن چاہیے، محفوظ شاہراہیں چاہئیں اور ایسا ماحول چاہیے جس میں کاروبار اور روزگار چل سکیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے لیکن ہڑتال یا احتجاج کے دوران ایمبولینسوں، مریضوں، مسافروں اور ضروری خدمات کے راستے بند نہ ہوں۔ امن صرف حکومت یا فورسز کی نہیں معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بلوچستان میں اس وقت ایک ایسے قابل عمل سمجھوتے کی ضرورت ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف ریاست کی کارروائی واضح اور مؤثر ہو، سیاسی شکایات سننے کے لیے دروازے کھلے ہوں، پارلیمان بااختیار ہو، انتخابات اور عوامی مینڈیٹ پر اعتماد بحال ہو، زمیندار اور تاجر خود کو محفوظ سمجھیں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ یہی توازن ریاستی اختیار، سیاسی آزادی اور شہری اطمینان کے درمیان بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔بلوچستان کے موجودہ بحران میں سختی کی ضرورت اپنی جگہ ہے مگر صرف سختی کافی نہیں، مذاکرات کی ضرورت اپنی جگہ ہے لیکن مذاکرات کی آڑ میں دہشت گردی قبول نہیں کی جاسکتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیا شہر اقتدار میں سب اچھا ہے؟

باتیں ہونے لگی ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔شہرِ اقتدار میں ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں اور اس نے اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

بڑی جماعتیں نئے صوبوں سے گریزاں کیوں؟

سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے صوبوں کی تشکیل بارے تحفظات کے باوجود اراکینِ اسمبلی اس حوالہ سے پس پردہ تیاریوں کے سگنلز کی تصدیق کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعتوں کا مؤقف اپنی جگہ لیکن یہ نظر آ رہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل ان کے روکنے سے نہیں رکنے والی۔

سندھ میں نئے صوبوں کی بحث، سیاسی محاذ گرم

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبہ پر سندھ میں سیاسی ماحول آج کل گرم ہے۔ صوبائی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہاکہ سندھ ایک تھا اور رہے گا۔

تلخیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں

27ستمبر کا جلسہ اور ایک دن کا خرچہ 45 کروڑ روپے اور اس کے بعد یومیہ خرچہ تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے، یہ ہے اس لانگ مارچ پر آنے والے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ جو پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے پیش کیاگیا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت سے امیدیں

آزاد جموں و کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے 17 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیاہے۔ تقریبِ حلف برداری میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور امیر مقام کے فرزند ڈاکٹر عباد نے بھی شرکت کی۔

خواتین کا سماجی و معاشی کردار تبدیلی ناگزیر ہے

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کو کس قدر بااختیار، محفوظ اور فعال کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔