ایشین گیمز2026ء:پاکستان کے 4برونز میڈل
پہلا تمغہ عاصم خان، دوسرا ویمن کرکٹ ٹیم نے جیتا، دو برونز میڈل سکواش کے کھلاڑیوں کے نام، قومی ہاکی ٹیم کی3فتوحات:بیڈ منٹن پلیئر ماحور شہزاد، ایتھلیٹ شجر عباس،خولہ عمر خان اور باکسرفاطمہ زہرا ،محمد عرفان کا ایشین گیمز میں سفر ختم ہو گیا:ایشین گیمز کے ڈرا کے مطابق پاکستان اور بھارت کو الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے، روایتی حریفوں کا سیمی فائنل میں سامنا ہونا ناممکن ہے
جاپان میں جاری ایشین گیمز 2026ء میں پاکستانی دستے نے مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کانسی کے تمغے حاصل کرلیے ہیں۔ پاکستان کیلئے پہلا تمغہ عاصم خان نے جیتا،دوسرا ویمن کرکٹ ٹیم نے بھی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ دوسری جانب سکواش کے میدان میں پاکستان کے دو کھلاڑی نور زمان اور محمد عرفان نے بھی برونز میڈلز اپنے نام کئے ہیں۔ قومی ہاکی ٹیم بھی پول مرحلے میں مسلسل تین فتوحات حاصل کرکے کامیابی کی جانب گامزن ہے، جبکہ چوتھے میچ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
20 ویں ایشین گیمز 2026ء میں پاکستان کی جانب سے 23 کھیلوں کے مختلف شعبوں میں234رکنی دستہ شریک ہے۔ بات کرکٹ کی کریں تو ایشیائی کھیلوں کے خواتین کرکٹ مقابلے میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔برونز میڈل میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنائے، جس میں کپتان فاطمہ ثناء نے دبائو کے باوجود جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 45 رنز کی بہترین اننگز کھیلی۔ ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم کی شروعاتی مزاحمت کے بعد پاکستانی بالر اُم ہانی نے شاندار بالنگ کا مظاہرہ کیا اور اپنے 4 اوورز میں ایک میڈن اوور سمیت صرف 10 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم 7 وکٹوں پر 114 رنز ہی بنا سکی۔ ایشیائی کھیلوں کے خواتین کرکٹ مقابلے میں پاکستان کا یہ تیسرا تمغہ ہے، اس سے قبل قومی ٹیم 2010ء اور 2014ء میں گولڈ میڈل حاصل کر چکی ہے۔ یہ فتح پاکستان کیلئے ایک بڑا اعزاز ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس نے 2022ء کے ایشین گیمز کے کانسی کے تمغے والے میچ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں ملنے والی شکست کا حساب بھی برابر کر دیا ہے۔
پاکستان مینز کرکٹ ٹیم بھی صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں جاپان پہنچ چکی ہے اور شائقین کرکٹ کی نظریں ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر جم گئی ہیں۔ ایشین گیمز کے ڈرا کے مطابق پاکستان اور بھارت کو الگ الگ گروپس اور بریکٹس میں رکھا گیا ہے، جس کا صاف مطلب ہے کہ دونوں ٹیموں کا سیمی فائنل میں سامنا ہونا ناممکن ہے۔ اگر دونوں ٹیمیں اپنے اپنے مراحل میں کامیابی حاصل کرتی ہیں تو ان کے درمیان مقابلہ صرف 3 اکتوبر کو گولڈ میڈل یا برونز میڈل کے میچ میں ہی ممکن ہو سکے گا۔ اگر دونوں روایتی حریف ٹیمیں فائنل میں پہنچتی ہیں تو پاکستان ایشیا کپ کی طرح بھارت کو سخت دبائو میں لانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان ایشین گیمز کے کرکٹ مقابلوں میں اپنے سفر کا آغاز کل28 ستمبر بروز پیر کو کوارٹر فائنل سے کرے گا، پاکستان کو ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے اور اپنی برتری قائم کرنے کیلئے سب سے پہلے اپنے ٹاپ آرڈر میں جارحانہ اور جدید ٹی ٹوئنٹی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی، تاکہ پاور پلے کا بھرپور فائدہ اٹھا کر ابتدائی اوورز میں ہی مخالف ٹیم پر دبا بڑھایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مڈل آرڈر بیٹنگ میں سٹرائیک روٹیٹ کرنے کی صلاحیت اور آخری اوورز میں تیز رفتار رنز بنانے والے پاور ہٹرز کی تسلسل کے ساتھ کارکردگی بے حد ضروری ہے تاکہ کسی بھی پچ پر ایک بڑا ہدف مقرر کیا جا سکے یا مشکل ہدف کا کامیابی سے تعاقب ہو سکے۔
ایشین گیمز میں پاکستان کیلئے پہلا تمغہ حاصل کرنے والے عاصم خان ہیں جنہوں نے مقابلے کے دوران بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اورتیسری پوزیشن اپنے نام کی۔دیگر دو برونز میڈلز سکواش کے کھلاڑیوں نے اپنے نام کئے۔ مینز سنگلز اسکواش مقابلوں کے سیمی فائنلز میں پاکستان کے دونوں کھلاڑی نور زمان اور محمد عرفان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں پاکستانی کھلاڑی اپنے اپنے سیمی فائنل مقابلے 30 منٹ سے کم وقت میں ہار کر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔محمد عرفان نے مقابلے کے دوران مزاحمت کی اور حریف کے خلاف بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ میچ اپنے نام نہ کر سکے۔ دوسری جانب نور زمان بھی سیمی فائنل میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ یوں پاکستان کی مینز سنگلز اسکواش میں طلائی تمغے کی امیدیں ختم ہوگئیں۔
ایشین گیمز میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے اپنی مہم کا آغاز بھرپور انداز میں کیا ہے۔ قومی ٹیم نے پول بی کے پہلے میچ میں تھائی لینڈ کو 9-0 سے شکست دی، دوسرے میچ میں ازبکستان کے خلاف 5-1 کی کامیابی حاصل کی جبکہ چین کے خلاف بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 3-0 سے کامیابی حاصل کی اور پول میں اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔چوتھے میچ میں پاکستان کو ملائیشیا کے ہاتھوں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی ٹیم نے میچ کے ایک مرحلے پر 4-3 کی برتری حاصل کر رکھی تھی، تاہم آخری کوارٹر میں ملائیشیا نے مقابلے کا پانسہ پلٹ دیا اور مزید گول کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔ پاکستانی ٹیم نے میچ کے بیشتر حصے میں بھرپور مقابلہ کیا، تاہم آخری کوارٹر میں برتری برقرار نہ رکھ سکی۔ یوں ملائیشیا نے ایک گول کے فرق سے کامیابی حاصل کرلی۔ قومی ٹیم کی ابتدائی کارکردگی نے ایشین گیمز میں ہاکی کے شائقین کی توجہ ایک بار پھر پاکستان کی جانب مبذول کر دی ہے۔ پاکستان کا آخری پول میچ کل( 28 ستمبر کو) عمان کے خلاف شیڈول ہے۔
گزشتہ روز پاکستانی کھلاڑیوں نے سات مختلف گیمز میں حصہ لیا ۔ ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کے شجر عباس نے مردوں کی 200 میٹر دوڑ کے سیمی فائنل میں حصہ لیا، تاہم وہ فائنل کیلئے کوالیفائی نہ کر سکے۔ شجر عباس نے سیمی فائنل کی تیسری ہیٹ میں مقررہ فاصلہ 21.30 سیکنڈز میں طے کیا اور ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ اس نتیجے کے ساتھ ہی پاکستانی ایتھلیٹ کی 200 میٹر دوڑ میں ایشین گیمز کا سفر اختتام پذیر ہوگیا۔ پاکستان کی خولہ عمر خان نے خواتین کی 200 میٹر دوڑ میں حصہ لیا۔ مقررہ فاصلہ 26.53 سیکنڈز میں مکمل کیا اور اپنی ہیٹ میں نویں اور آخری پوزیشن حاصل کی۔وہ اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائی نہ کر سکیں۔
باکسنگ مقابلوں میں پاکستان کی کامن ویلتھ کانسی کا تمغہ جیتنے والی باکسر فاطمہ زہرا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فاطمہ زہرا کو ججز نے 3-0 کے متفقہ فیصلے سے ناک آؤٹ قرار دیتے ہوئے ایشین گیمز کے مقابلے سے باہر کر دیا۔ مردوں کے باکسنگ مقابلوں میں پاکستان کے محمد عرفان کو 90 کلوگرام کیٹیگری کے راؤنڈ آف 16 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوبی کوریا کے باکسر نے محمد عرفان کو ناک آؤٹ کرکے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کرلی۔بیڈمنٹن مقابلوں میں پاکستان کی ماہور شہزاد کو خواتین کے سنگلز ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments